مہمند ایجنسی میں افغان مہاجیرن کا شناختی کارڈ بنانے کا دھندہ عروج پر

مہمند ایجنسی میں افغان مہاجیرن کا شناختی کارڈ بنانے کا دھندہ عروج پر

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی میں افغان مہاجرین کا شناختی کارڈ بنانے کا دھندہ عروج پر ہے۔ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ اعلیٰ حکام کو بروقت ثبوت دینے کو تیار ہوں۔ ایجنسی کے جعلی شناختی کارڈ کے اجراء کے خلاف ہر فورم پر آواز اُٹھاؤنگا۔بااثر شخصیت حامد خان نامی افغان مہاجر نے مہمند ایجنسی کے نادرا میں پاکستانی شناختی کارڈ بنایا ہے۔ اس کے خلاف ہم نے اعلیٰ حکام تک ثبوت فراہم کئے ہیں۔ تا ہم اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ ہو سکی۔ بلکہ اثر و رسوخ اور پیسے کے بل بوتے پر شبقدر کے پولیس اُلٹا مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ملک عبداللہ خان کوڈا خیل نے اپنے بیٹے وطن دوست کے ہمراہ مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں اپنے بیٹے وطن دوست کے ہمراہ فیلڈر موٹر کار نمبر 4207 میں پشاور سے غلنئی آرہے تھے کہ شبقدر پولیس اہلکاروں نے ہمیں روک کر ہماری گاڑی کے کاغذات چیک کئے اور بعد میں ہمیں تھانہ لے گئے۔ تھانے میں تعینات پولیس نے میرے بیٹے وطن دوست کو حوالات میں بند کر کے اُن پر بلا کسی جرم کے تشدد کیا ۔ اور ہماری گاڑی کو تھانے میں کھڑا کر کے ہمیں جانے دیا۔اور کئی دن گزرنے کے باؤجود بھی ہمیں اپنی گاڑی حوالے نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے الزام لگا یا کہ بااثر افغان مہاجر حامد خان نے پولیس اہلکاروں کو 15 لاکھ روپے دیکر ہمیں ذلیل کیا ۔ اور پولیس کا مقصد ہے کہ مذکورہ افغان مہاجر کے خلاف پولیٹیکل انتظامیہ سمیت مختلف اداروں میں دائر کردہ کیس واپس لے لیں۔ انہوں نے آئی جی ایف سی ، کور کمانڈر ، گورنر ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور دیگر پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ شبقدر پولیس کے خلاف کاروائی کر کے اُن کا قبلہ درست کریں۔ اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...