کوہاٹ میں میونسپل کمیٹی کے سفینے ڈوبنے لگے ،دوہرے مشکلات کا سامنا

کوہاٹ میں میونسپل کمیٹی کے سفینے ڈوبنے لگے ،دوہرے مشکلات کا سامنا

کوہاٹ(بیورورپورٹ) میونسپل کمیٹی کے سفینے ڈوبنے لگے ایک طرف شہر میں بیوٹیفیکیشن کے چرچے تو دوسری جانب میونسپل کمیٹی اہلکاروں کی تنخواہوں کا مسئلہ پھر سر سبز ٹھیکیداروں کو فنڈ نہ ملنے پر ترقیاتی کاموں کو روک دیا گیامیونسپل کمیٹی کوہاٹ ریکارڈ کے مطابق میونسپل پراپرٹی کی امدنی بھی ڈوبتے سفینو ں کو روک نہیں سکتی۔اس مہنگائی کی دور میں بھی ٹی ایم اے کی دکانیں جو من پسند لوگوں کو اونے پونے نرخوں میں دی فی دکان دو سو روپے ٹی ایم اے کو دیے جاتے ہیں اور خود ہزاروں میں کرایے وصول کرتے ہیں کم و بیش چھ سو پچاس دکانوں کا پرافٹ اخراجات سے کئی گنا کم ہے میونسپل سے واٹر سپلائی اور سینٹری wssc کے حوالے کیا گیا تو ان کا یہ عالم ہے کہ پانی کی پائپ لائنوں کو ویلڈ کی جگہ ربڑ کے ٹیوب سے جوڑنے لگے مہینوں کمپلینٹوں کا سلسلہ چلتا ہے شنوائی کوئی نہیں محلوں کوچوں میں جگہ جگہ گندگی اور خاکروبوں کی فریادیے اس بات کا ثبوت ہے کہ تنخواہوں کی بندش کا سلسلہ دوبارہ شروع لال ٹوپی اہلکاروں کا بازاروں سے یومیہ بھتہ وصولی پوچھنے پر ان کا کہنا کہ تنخواہیں بند ہیں کیا کرے دوسری جانب شہر کی بیوٹیفکیشن ٹی ایم اے کو گلے پڑ گئی عدالتوں نے متعدد افسران کو انکروچمنٹ کے چکر میں توہین عدالت کے زمرے میں طلب کر لیا گیا میونسپل کمیٹی معاشی کارونوں کے چکرویو میں بوری طرح پھنس گی۔کسی مسیح کی تلاش۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...