افغان پناہ گزینوں کے لئے پی پی اے ایف اور یو این ایچ سی آرمیں معاہدہ

افغان پناہ گزینوں کے لئے پی پی اے ایف اور یو این ایچ سی آرمیں معاہدہ

کراچی (پ ر) پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے درمیان معاہدہ ہوگیا ہے، جس کے تحت خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے اضلاع پشین اور صوابی میں رہائش پذیر انتہائی غریب افغانی پناہ گزینوں کی غربت میں خاتمے کے لئے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ افغان پناہ گزینوں اور ان کے خاندانوں کو غربت کی سطح سے نکالنے کے ساتھ انہیں پائیدار آمدن کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ افغان پناہ گزینوں کے خاندانوں کی غربت کے خاتمے کے اس آزمائشی پروگرام سے افغانی باشندوں اور انکے میزبانوں کی مہارتوں، مواقع، اثاثوں اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا جن کی بدولت انہیں درپیش خطرات میں کمی آئے گی، آمدن میں اضافہ ہوگا اور ان کا کاروبار مستحکم ہوگا۔ پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ رووینڈرینی مینیکڈیویلا (Ruvendrini Menikdiwela) اور پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے ایک تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس شراکت داری سے 2 ہزار گھرانے مستفید ہوں گے، ان میں سے 70 فیصد وہ گھرانے ہیں جو باقاعدہ کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ 30 فیصد وہ گھرانے ہیں پروجیکٹ والے مقامات پر میزبان خاندانوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یو این ایچ سی آر پاکستان کی نمائندہ رووینڈرینی مینیکڈیویلا نے کہا، "تخفیف غربت کا ماڈل پاورٹی گریجویشن (Poverty Graduation) ایک جامع حکمت عملی ہے جو پاکستان میں رہائش پذیر پناہ گزینوں کے لئے پائیدار اور دیرپا سہولیات کی فراہمی کے بھرپور مواقع رکھتی ہے۔ "پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے امید ظاہر کی کہ اس آزمائشی اقدام کیبدولت پناہ گزینوں اور انکے میزبان خاندانوں کو غربت سے باہر نکالنے میں مدد ملے گی۔ "پی پی اے ایف کی اس حکمت عملی میں سماجی آگہی، آمدن میں اضافہ اور مالیاتی سہولت کا امتزاج ہے جن کی بدولت انسانی مہارت اور اثاثے کے سرمائے سے طویل مدت تک فوری ضروریات کی تکمیل میں تعاون حاصل رہے گا اور متاثرہ گھرانے انتہائی غربت کی سطح سے نکل کر پائیدار آمدن حاصل کرنے لگیں گے۔" پاورٹی گریجویشن پروگرام ایک ایسا طریقہ ہے جس میں یومیہ 1.25 یومیہ ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے اور بنیادی سہولیات سے محروم انتہائی غریب گھرانوں کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی میں جدت انگیز اور مارکیٹ کے موجودہ طریقوں کو یکجا کرکے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے تاکہ پائیدار آمدن کے مواقع کے ساتھ وہ لوگ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...