نقیب اللہ قتل کیس ، راﺅ انوار نے جے آئی ٹی کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا

نقیب اللہ قتل کیس ، راﺅ انوار نے جے آئی ٹی کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا
نقیب اللہ قتل کیس ، راﺅ انوار نے جے آئی ٹی کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔

راﺅ انوار نے جے آئی ٹی کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں نقیب اللہ محسود کی گرفتاری اور پولیس مقابلے میں ہلاکت سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔ راﺅ انوار نے کہا ہے کہ وہ نقیب اللہ مقابلے کے دوران موقع پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی انہیں مقتول کی گرفتاری کا پتا تھا، انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ نقیب اللہ شاہ لطیف ٹاﺅن کیسے پہنچا ۔ شاہ لطیف چوکی کے انچارج کا مقابلے کے حوالے سے فون آیا ، صرف اتنا بتایا گیا کہ ملزمان ہیں، جتنی دیر میں گڈاپ سے شاہ لطیف ٹاﺅن پہنچا اس وقت تک مقابلہ ہوچکا تھا۔

” ہم اب تک راﺅ انوار سے سنجیدگی سے تفتیش ہی نہیں کرسکے کیونکہ۔۔۔۔“ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل رکن کا ایسا انکشاف کہ چیف جسٹس سمیت ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے

ذرائع کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جے آئی ٹی کے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہو رہے ہیں، راﺅ انوار کا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد اب نقیب اللہ کیس کے گواہوں اور گرفتار اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ آفتاب پٹھان آج (جمعرات کو) اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

ابتدائی تفتیش میں راﺅ انوار نے سارا ملبہ ماتحت اہلکاروں و افسران پر ڈال دیا

واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت پر راﺅ انوار انتہائی ڈرامائی انداز میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ چیف جسٹس کے حکم پر راﺅ انوار کو گرفتار کرکے کراچی منتقل کیا گیا جبکہ کیس کی تفتیش کیلئے ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں جے آئی ٹی قائم کی گئی تھی۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /سندھ /کراچی


loading...