جوڈیشل این آر او آ رہا ہے ،نہ جوڈیشل مارشل لا،ملک میں صرف جمہوریت ہو گی ،باقی کچھ نہیں رہے گا،چیف جسٹس کے ریمارکس

جوڈیشل این آر او آ رہا ہے ،نہ جوڈیشل مارشل لا،ملک میں صرف جمہوریت ہو گی ،باقی ...
جوڈیشل این آر او آ رہا ہے ،نہ جوڈیشل مارشل لا،ملک میں صرف جمہوریت ہو گی ،باقی کچھ نہیں رہے گا،چیف جسٹس کے ریمارکس

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن آئے افسران سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوڈیشل این آر او آ رہا ہے نہ جوڈیشل مارشل لا،انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف جمہوریت ہو گی باقی کچھ نہیں رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میں 3 رکنی بنچ نے سی ڈی اے میں ڈیپوٹیشن آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت نعیم بخاری نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لا کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں۔

اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں جوڈیشل این آر او آ رہا ہے نہ جوڈیشل مارشل لا ،ملک میں صرف جمہوریت ہو گی باقی کچھ نہیں رہے گا۔ملک میں صرف آئین باقی رہے گاباقی کچھ نہیں ہو گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ اگر میں کہوں کچھ نہیں آ رہا، تو آپ کیا کہیں گے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جوڈیشل این آر او کیا ہوتا ہے؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں واضح کردوں، ایسا کچھ نہیں آرہا،انہوں نے کہاکہ عدلیہ پرجو جائز تنقیدہے کرنی چاہئے ، جائز تنقید سے ہماری اصلاح ہو گی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل کسی نے میرے کراچی میں لگے اشتہارات پر بات کی ،میں نے خودوہ اشتہارات ہٹانے کا حکم دے دیاہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں آج پابندی لگادوں تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہو جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل سما کے مطابق اس سے پہلے چہہ مگوئیاں ہورہی تھیں کہ شاید کوئی عدالت سے باہر معاملات طے ہورہے ہیں یا پھر عام انتخابات ہونے تک لیگی قیادت کیخلاف کارروائی روکی جارہی ہے لیکن اب یہ تمام افواہیں دم توڑ جانی چاہیں ۔ 

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...