فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر392

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر392
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر392

  


یہ ایک پرانی وضع کی تین منزلہ عمارت تھی۔ہر چیز قدیم مگر بہت سلیقے سے سجا کر رکھی گئی تھی تنگ سیڑھیاں اگر کمرے کشا دہ اور ہوا دار ، ہر کمرے میں بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جن ہر شیشے لگے ہوئے تھے آس پاس کے مناظر ایک عجیب لطف دے رہے تھے ۔اس ہوٹل میں تمام جدید سہولتیں موجود تھیں۔کرایہ نئے شہر میں ہمارے ہوٹل سے زیا دہ تھامگر مالک نے کھا جب ہم فلم یونٹ کے ساتھ آئیں تو وہ وہیں قیام کریں ۔وہ ہمارے ساتھ خصوصی رعائت کریں گے اور خاص اہتمام بھی کر دیں گے۔اس ہوٹل کے سامنے پرانی عمارت میں ٹیکسی کمپنی کا صدر دفتر تھا۔عمارت پرانی مگر ہر سہولت اور آسائش جدید ۔مالک نے کہا کہ وہ ہمیں رعائت کے ساتھ ٹیکسی اور دوسری ٹرانسپورٹ دلا دیں گے۔

اس علاقے کے پرانے گھروں کی کھڑکیوں ، بالکونیوں اور چھجوں پر کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔خواتین پڑوسنوں سے گپ شپ میں مصروف تھیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر391 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بازار میں پرانے نوادرات کے علاوہ جدید ضروریات کی اشیا بھی موجود تھیں۔قہوہ خانوں میں قہوے کی خشبو اور سمارٹ ویٹریس پرانے ترکی لباس میں ملبوس نظر آتیں تھیں۔غرضیکہ ہر جگہ پرانا ماحول برقرار رکھا گیا تھامگر صفائی اور عمدگی کے ساتھ۔

ہمیں خیال آیاکہ ہمارے پرانے لاہور کے کئی محلے اور علاقے ثقافتی علمی و ادبی اور تاریخی اعتبار سے یادگار ہیں۔ پرانی عمارتیں بالکونیاں گلیاں اور پیچ دار راستے بھی ہیں مگر سب کچھ غفلت کی نظر ہو چکا ہے ۔کاش ہمارے شہر کا کوئی ٹیکسی ڈرائیور بھی بیرونی سیاح کو فخر کے ساتھ پرانا شہر دکھانے کی دعوت دے سکتا یقین کیجئے دوسروں کے مقابلے میں ہمارے پاس دکھانے کے لئے بہت کچھ ہے ۔بہت قیمتی سرمایہ ہے مگر کون پرواہ کرتا ہے؟ہائے۔صدافسوس !

***

بہت سے قارئین نے یہ شکوہ کیا ہے کہ یہ پشتو فلم کی ہیرو ئن خانم کو ہم نے قطعی نظر انداز کر دیا ہے اور انکے بارے میں کچھ نہیں لکھا ۔ان کا یہ شکوہ بجا ہے لیکن یہ داستان ابھی جاری ہے اور اللہ جانے کب تک جاری رہے گی ۔ظاہر ہے کے اتنی بڑی فلمی صنعت(مشرقی پاکستان کراچی اور لاہور کی فلمی صنعتیں بہت زیادہ ترقی کر گئی تھیں)اور ان سے وابستہ بیشمار لوگوں کا تذکرابیک وقت تو نہیں کیا جا سکتا ۔پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ محض فلمی صنعت کی الف لیلہ نہیں ہے ہماری یاد داشتوں اور تاثرات کا مجموعہ بھی ہے ۔خانم کا تذکرہ اس سے پہلے کیا جا چکا ہے لیکن بہت زیادہ تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ان جیسے اور بھی فنکار اور بہت سے لوگ قابل ذکر لوگ ہیں جن کا تفصیلاً بیان نہیں کیا گیا ہے۔اگر زندگی رہی تو یقیناً ان کی بھی باری آئے گی بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ داستان محض پاکستانی فلمی صنعت تک محدود ہے۔ایسا نہیں ہے۔اپنے تاثرا ت کے ضمن میں ہم بیرونی مغربی اور بھارتی فلمی صنعت اور ممتاز فنکاروں کا بھی تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔یہ دراصل ایک شخص کے خیالوں اور یادوں کی دنیا ہے۔جس طرح خیال کسی وقت کہیں بھی جا سکتا ہے اسی طرح داستا ن کسی بھی وقت کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے ۔اس مختصر معذرت یا تشریح کے بعد آمدم برسر مطلب ۔

خانم پاکستان کی فلمی صنعت سے وابستگی کا عرصہ لگ بھگ بیس سال ہے لیکن اگر اس میں ان کی نو سال بعد ریلیز ہونے والی پشتو فلم ’’پختو‘‘ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ عرصہ اٹھائیس انتیس سال ہو جاتا ہے لیکن یہ حساب ہمارے خیال میں درست نہیں ہے ۔ان کی آخر دو فلمیں 1991ء میں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھیں جس کے بعد وہ فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئی تھیں۔فلم ’’پختو‘‘ مختلف وجوہ کی بنا پر التوا میں پڑی رہی اور اس کی نمائش سنہ 2000میں ہوئی ۔اس لئے مناسب ہے کہ پہلے ان کی آخری فلم کے بارے میں کچھ بیا ن کر دیا جائے۔یہ ایک پشتو فلم تھی جس کے ہدائت کاروزیراعظم تھے جی نہیں پاکستان کے وزیراعظم نہیں انکا نام ہی وزیراعظم تھا ۔ہے توکچھ انوکھا سا نام لیکن نام رکھنے پر کسی کی پابندی نہیں ہے ۔عموماًبادشاہ شہنشاہ یہاں تک کہ شہزادہ نام بھی رکھے جاتے ہیں لیکن وزیراعظم ایک انوکھا نام ہے ۔کم از کم ہم نے اس پہلے اور اس کے بعد اس نام کے کسی بھی شخص کے بارے میں نہیں سنا۔سچ مچ کے وزیرا عظم البتہ بہت آئے اور گئے مگر یہ ایک علیحدہ قصہ ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر393 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...