وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 18 ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 18 ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 18 ویں قسط

  


اکتوبر کا مہینہ تھا مگر سورج اس طرح دہک رہا تھا جیسے جون یا جولائی کا مہینہ ہو۔ دھوپ میں چمکتی ریت حرارت دے رہی تھی۔ شمعون جونہی ہرن کے قریب گیا۔ ہرن کا جسم ہوا میں تحلیل ہو کے اس تتلی کا روپ دھار گیا جو انہیں تھوڑی دیر پہلے دکھائی دے رہی تھی۔

تینوں اس تحیر آمیز منظر پر حواس باختہ تتلی کی طرف دیکھنے لگے جو انپی خوبصورتی اور معصومیت میں کوئی بھیانک راز چھپائے ہوئے تھی۔ جس کے نازک پروں کے پیچھے روح فرسا حقیقت تھی۔ تتلی ہوا میں ایک جگہ ساکت ہوگئی اور پھر وشاء کے روپ میں بدل گئی۔

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 17ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سنسناہٹ کی ایک لہر تینوں کے وجود سے گزر گئی۔ وہ سرتاپا کانپ کے رہ گئے۔ ماحول کی جادوگری نے خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ وشاء کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ شمعون کو اپنے گرد موت کی سرسراہٹیں محسوس ہونے لگی۔

شمعون نے حوصلے کا لمبا سانس کھینچا اور وشاء کے قریب گیا’’وشاء کچھ نہیں سمجھ آرہا مجھے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے مگر میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دو۔‘‘ 

شمعون کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ وشاء کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدل گئے۔ اس کی آنکھوں سے غصے کے شعلے لپکنے لگے چہرے پر اکڑاؤ سا آگیا۔ وہ منہ کھول کر چیخی تو اس کے سامنے کے دو دانت لمبے ہوگئے اس کے بازوؤں کی جگہ پروں نے لے لی۔ وہ خوبصورت بلاشمعون کی طرف بڑھی۔

شمعون کے جسم سے اس کی جیسے جان نکل گئی وہ بھاگنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ اس کی اعصابی طاقت کسی خوف کے دباؤ سے ختم ہوگئی۔ وہ خوبصورت بلا ایک جھٹکے سے شمعون کی طرف بڑھی اور اس کی گردن پر اپنے خونخوار دانت پیوست کر دیئے۔ شمعون کی چیخیں صحرا کے سناٹے میں گونجنے لگیں۔

اس کے دونوں دوست اپنی بے جان سی ٹانگوں کو گھسیٹتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے مگر اس خوبصورت بلا نے ان دونوں کو بھی نشانہ بنا لیا۔ وہ تینوں گرم ریت پر گرے تڑپ رہے تھے۔ 

وشاء نے ریت کی طرف پھونک ماری اور وہ تینوں ریت کے طوفان بگولے کی لپیٹ میں آگئے ایسی ریت جس کے ذرے انگاروں کی طرح دہک رہے تھے۔ ان تینوں کے جسم جھلستے رہے، صحرا کے سناٹوں میں ان کی چیخیں گونجتی رہیں۔ شکار کھیلنے والے اجل کا شکار ہوگئے۔

وشاء کے بھیانک روپ نے پھر اس تتلی کا روپ لے لیا اور وہ ہوا میں کہیں گم ہوگئی۔ صحرا کے لوگوں نے مردہ خور گدوں کے غول دیکھے تو ان کا ماتھا ٹھنکا اور وہ جیپ کے ٹائروں کے نشانات پر چلتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے۔ تین نوجوانوں کی جھلسی ہوئی لاشیں دیکھیں تو وہ دم بخود ہوگئے۔

کچھ نوجوانوں نے آگے بڑھ کر لاشوں کی تلاشی لی ان کے موبائلز سے ان کے رشتے داروں کو ان کی ہلاکت کے بارے میں مطلع کیا۔ چولستان کے کچھ لوگوں نے ان لاشوں کو ان کے والدین تک پہنچانے کا بندوبست کر لیا۔

لاشوں کو کفن میں لپیٹ کر تابوت میں بند کیا جا رہا تھا تو ایک بزرگ جو کسی گہری سوچ میں گم لاشوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ شمعون کی لاش کے قریب آئے’’سمجھ نہیں آرہا کہ ان تینوں کو کس نے مارا ہے۔ ان تینوں کی موت بہت عجیب طریقے سے ہوئی ہے۔ اگر ان کا قتل کسی انسان نے کیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے۔ کیونکہ ان کی لاشیں ان کی جیپ کے قریب ملی ہیں۔ جنگل کے اس خطرناک ترین حصے میں نہ تو کسی اور گاڑی کے نشانات ملے اور نہ ہی کسی انسان کے۔ کوئی جنگلی جانور ہوتا تو ان کی چیڑ پھاڑ کرکے رکھ دیتا مگر ان کو تو کسی نے جلا دیا۔‘‘

لاش پر کفن لپیٹتے ہوئے نوجوان نے شمعون کی گردن سے کپڑا پیچھے کیا’’یہ دیکھیں کسی جانور نے اس کی گردن پر دانت گاڑ کے اسے ہلاک کیا ہے۔‘‘

بزرگ نے آگے بڑھ کر شمعون کی گردن کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ اس نے دانتوں کے دو نشانوں کے درمیان انگلی رکھ کے پیمائش کی اور پھر اپنے سامنے کے دانتوں کے اطراف کے بڑے دانتوں کے درمیان میں وہی انگلی رکھی پیمائش ایک جیسی تھی۔

بزرگ کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھیں باہر کو ابل پڑیں وہ بے خود چلانے لگا’’لے جاؤ جتنی جلدی ہو سکے ان لاشوں کو اس صحرا سے یہ کسی بھٹکی ہوئی شیطانی روح کا شکار ہوئے ہیں۔ لوگوں کو اکٹھا کرو، میلاد کا اہتمام کرو۔ ہم قرآن پاک پڑھ کر اجتماعی دعا مانگیں گے۔ ہمارے صحرا سے کسی شیطانی روح کا گزر ہوا ہے۔‘‘

نوجوان نے ہڑبڑا کے کہا’’یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں بابا جی!‘‘

’’میں جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔ اس سے پہلے کہ وہ روح کسی اور کا شکار کر لے۔‘‘

بوڑھا بیساکھی کا سہارا لیتے ہوئے سرد خانے سے باہر آگیا۔ نوجوان نے جلد از جلد لاشوں کو ان کے ورثاء تک پہنچا دیا۔ تین گھروں پر صدمے کی بجلیاں گر گئیں۔ شمعون کی لاش پر ماتم کرتی ہوئی ماں نیم بیہوشی کی حالت میں چارپائی پر سر رکھے رو رہی تھی۔ خبر سن کر جب ماریہ وہاں پہنچی تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

شمعون سے ایک روز پہلے ہی تو اس کی بات ہوئی تھی اور یہ سب کیسے ہوگیا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ سوگواری ماحول میں بین کرتی عورتوں کی دل خراش آوازیں گونج رہی تھیں۔

ماریہ نے شمعون کی میت کو قریب سے دیکھا تو وہ بری طرح جھلسا ہوا تھا۔

ماں کو تو اپنی ہوش نہیں تھی مگر لاش کے قریب بیٹھی ہوئی عورتیں سرگوشی کے انداز میں کھسر پھسر کر رہی تھیں۔ ’’اس کے علاوہ اس کے دو دوست بھی مرے ہیں تینوں کی اموات ایک ہی انداز میں ہوئی ہیں گردنوں پر دو دانتوں کے نشان اور جسم جھلسے ہوئے اگر تینوں جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے تو ان کے جسم کیسے جھلس گئے۔‘‘

دوسری عورت نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔’’استغفار پڑھو مجھے تو یہ کوئی کالے جادو کا چکر لگتا ہے۔‘‘ ماریہ نے عورتوں کی باتیں سنیں تو گھبراہٹ سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے آگے بڑھ کر کفن کا کپڑا شمعون کی گردن سے پیچھے کیا تو اس کی گردن پر واقعی دو دانتوں کے نشان تھے جس سے نکلنے والے خون کی رنگت کالی ہو چکی تھی اور گردن سے لے کر چہرے تک کی رنگت میں نیلاہٹ تھی جیسے کسی نے خون چوس لیا ہو۔

ماریہ مبہوت نظروں سے لاش کی طرف دیکھتی ہوئی اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ شمعون کی ماں کو دلاسہ دینے کے لیے اس کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ ہو سکا وہ بس گم صم سہمی سہمی تسبیح پڑھتی رہی۔

ایک عجیب سا خوف اس کی رگوں میں سرایت کر گیا۔

کچھ دیر کے بعد وہ ڈرائیور کیساتھ واپس آگئی۔ گھرمیں ایک بوڑھی ملازمہ تھی اور وہ تھی۔ ظفر تو بیرون ملک تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جیسے خوف کے سپید سائے بھی اس کے ساتھ ہی گھر میں داخلی ہوگئے۔ اس کے اندر کے خوف نے باہر کا ماحول بھی سراسیمہ بنا دیا۔ وہ سہمی سہمی سی اپنے کمرے تک چلی گئی۔

رات کی تاریکی میں ڈوبا ہوا گھر کا سناٹا ماریہ کے خوف کو مزید بڑھا رہا تھا۔ کچن سے برتنوں کے کھڑکنے کی آوازیں آئیں تو ماریہ بلا تامل بولی۔’’بشری۔۔۔‘‘

’’ت۔۔۔ت۔۔۔تم کیا کر رہی ہو؟‘‘ ماریہ نے پوچھا۔

’’جی وہ برتن سمیٹ رہی ہوں۔ آپ کے لیے چائے بنا دوں؟‘‘

’’نہیں کچھ دیر بعد بنا دینا۔‘‘

’’بی بی جی! رات کا ایک بج رہا ہے۔ پھر تو بہت دیر ہو جائے گی۔‘‘

’’تم چائے رہنے دو ایسا کرو آج ادھر ہی سو جاؤ۔ زمین پر میرے کمرے میں‘‘ ماریہ نے قالین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کا۔

’’اچھا بیگم صاحبہ!‘‘ ملازمہ ادھر ہی قالین پر سو گئی۔ ماریہ بستر پر براجمان تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ عجیب عجیب اوہام ذہن میں ہلچل مچا رہے تھے۔ اسی دوران اس کے موبائل کی رنگ بجی تو وہ چونک سی گئی۔ موبائل کی سکرین ظفر کا نام آرہا تھا۔ ماریہ نے جلدی سے فون کانوں سے لگا لیا’’ہیلو۔۔۔‘‘

’’کیا بات ہے تمہاری آواز کیوں کانپ رہی ہے۔‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’ایسے ہی عجیب سا خوف محسوس ہو رہا ہے تم ٹھیک ہو۔‘‘ ماریہ نے پوچھا۔

ظفر نے متاسفانہ لہجے میں کہا’’شمعون کے بارے میں علم ہوا مگر یہ سب کیسے ہوا؟‘‘

’’کسی نے بیدردی سے شمعون کا قتل کر دیا۔‘‘

’’اوہ۔۔۔آوارہ لڑکوں کا ایسا ہی انجام ہوتا ہے۔۔۔‘‘

’’مرے ہوئے لوگوں کو تو بخش دو۔‘‘ ماریہ غصے سے بولی۔

’’شمعون کے قتل سے تم کیوں خوفزدہ ہوگئی ہو۔‘‘ ظفر نے سوال کیا تو ماریہ سارا ماجرا بتائے بغیر نہ رہ سکی۔

ظفر مبہوت ہو کے رہ گیا۔’’یہ موت تو واقعی بہت عجیب ہے۔ خیر میں آؤں گا تو مزید اس موضوع پربات کریں گے۔‘‘

یہ کہہ کر ظفر نے فون بند کر دیا۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 19ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟


loading...