پاکستان کو کیا ملا ؟

پاکستان کو کیا ملا ؟
پاکستان کو کیا ملا ؟

  

پا کستان اور افغانستان کے تعلقات تمام تر کوششوں کے باوجود تنزلی کا شکا ر ہیں۔ غلط فہمیوں اور بد گمانیوں کی فضا اِس قدر گہری ہے کہ اس کاچھٹنا محال نظر آتا ہے۔ افغانستان مُلک میں ہونے والے ہر حملے کی ذ مہ داری تواتر کے سا تھ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ افغانی صدر جناب اشرف غنی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں ید طو لیٰ رکھتے ہیں ۔ انہیں موقعہ ملنے چاہئے وُہ ہمشیہ پاکستان کے خلاف بیان داغنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان مُلک کے۰ ۵ فیصد حصے پر قابض ہو چُکے ہیں۔ امریکہ کی تما م فوجی امداد اور سہولت کے باوجود افغان فو جیں اپنے مُلک کے دفاع میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ امریکہ اور افغان حکام یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ وُہ افغانستان میں فوجی اعتبار سے ناکام ہو چُکے ہیں۔ وُہ اپنی ناکامی کا ذ مہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔اُن کے نزدیک ناکا کا می کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان حقا نی گروپ کو اپنے ہاں نہ صرف پناہ دیتا ہے بلکہ اُنکی ہر طرح سے مد د بھی کرتا ہے۔ اُنکو خفیہ کیمپوں میں فوجی تر بیت دی جاتی ہے اور اُنکی مالی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جاتا ہے۔ جب یہ لوگ افغانستان میں حملہ کرکے لوٹتے ہیں تواِن کو پاکستان کے اندر پناہ دی جاتی ہے۔ امریکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پا کستان کی فوجی حدود کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا۔ یہ سارے الزامات محض عذر لنگ ہیں۔ جبکہ امریکہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لئے پاکستان کی حدود کی علیٰ اعلانیہ خلاف ورزی کر چُکا ہے اور دُنیا کے تمام ممالک جانتے ہوئے بھی امریکہ کی حرکت پر خاموش رہے ہیں۔امریکہ افغانستانا ور انڈیا کی مدد سے بوجوہ پاکستان کو دبانے کے لئے حقانی نیٹ ورک کا پروپیگنڈہ کرتا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کو سیاسی طور پر رگیدنے کے لئے ہمیشہ ڈو مور کی رٹ لگائی ہے۔ وُہ پاکستان سے توقع رکھتا ہے کے چند ملین ڈالرز کے عوض پاکستان اپنی خود مختاری امریکہ کے ہاں گروی رکھ دے۔ ا یسی وفاداری کی توقع رکھنا بالکُل عبث ہے۔ کیونکہ پاکستان کے اپنے مُفادات ہیں۔ پختونوں کی ایک قابل لحاظ تعداد پا کستان کے میں موجود ہے۔ سر حد کی دونوں اطراف ایک دوسرے کے رشہ دار موجود ہیں۔ ہزازروں لوگ روز سر حد پار کرکے پاکستان آتے ہیں اور اسی طرح پاکستانی لوگ اپنے عزیزوں سے ملنے افغانستان جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ۔ یہ سلسلہ د ہائیوں پرانا ہے۔ دونوں ممالکے کے یہ باشندے ثقافتی اعتبار سے گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان ایک پلاننگ کے تحت پاکستان کو بدنام کرنے اور اُس پر دباؤ ڈالنے کے لئے الزامات لگاتے ہیں تاکہ ایک طرف اپنی نا کا می کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا جائے اور دوسرے طرف پاکستان کو جھکانے کے لئے مالی امداد بند کر دی جائے تا کہ پاکستان مجبور ہو کر امریکہ کی ہر جائز اور نا جائز بات ماننے پر تیار ہو جائے۔

پاکستان کے تعلقات کو افغانستان اور امریکہ سے خراب کرنے میں بھارت سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کیونکہ بھارت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے بد ظن کر دیا جائے اور وُہ بھی اس حد تک کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات صرف رسمی رہ جائیں۔بھارت اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ اُس نے امریکہ کو اپنی ہوشیار ی اور سفارتی چالاکیوں سے قائل کر لیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو افغانستان میں شکست سے دوچار کروانے کے لئے طالبان اور حقانی گروپ سے مِلا ہوا ہے۔ پاکستان مالی امداد حاصل کرنے کے لئے امریکہ کو جعلی کاروائیوں سے خوش کرتا ہے۔ اور ایک دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وُہ چُھپ کر طالبان کی مدد کرتا ہے ۔ بھارت کی خو اہش ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں سے ہر طرح سے فارغ کر دیا جائے اور افغانستان کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بھارت کو اہمیت اور فوقیت دی جائے۔ بھار ت پاکستان کو نیچا دکھنانے کے لئے کسی بھی حد تک گرنے کے لئے ہمہ وقت تیار اور مستعد رہتا ہے۔ اُس کا مطمع نظر پاکستان کو علاقے میں غیر اہم بنانا اور خود کو امریکہ کی نظر میں اونچا اٹھانا ہے۔پاکستان کی افواج مُلک کی سرحدوں کی نگرانی کرنے کے لئے دن رات کوشاں رہتی ہیں لیکن مُلک کو سفارتی انداز میں کامیابی دلانے کے لئے وزارت خارجہ کا فعال ہونا بھی بے حد اہم ہے۔ لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزارت خارجہ کا کردار ماضی میں صرف خانہ پوری تک ہی محدود رہا ہے۔ امریکہ حکام کو پاکستان کے عوام اور فوجی جوانوں کی شہادتوں کے بارے دُرست انداز میں آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اُن کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ امریکہ کی مدد کرنے کے سلسلے میں پاکستان کو کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ افغانستان سے آئے ہوئے دہشت گرد پاکستان میں کیا گُل کھلاتے ہیں؟پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی مدد کرکے کیا کیا مصبیتیں اُٹھائی ہیں؟ پاکستان نے در اصل امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ لیکن پاکستان کو اس کے عوض کیا مِلا ہے؟پاکستان کو اب اس پر کھل کر بات کرنی چاہئے اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ امریکہ اور افغانستان کو اس کا اصلی چہرہ دکھایا جاسکے۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ