میں نے وزیر اعظم کوفریادی نہیں کہا:چیف جسٹس آف پاکستان

میں نے وزیر اعظم کوفریادی نہیں کہا:چیف جسٹس آف پاکستان
میں نے وزیر اعظم کوفریادی نہیں کہا:چیف جسٹس آف پاکستان

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر اعظم کو فریادی نہیں کہا ،ملک میں تعلیم اور صحت میں ترقی کرنے کی بہت ضرورت ہے اس سے قومیں ترقی کرتی ہیں ،بد قسمتی سے تعلیم ہمارا بنیادی حق تو ہے لیکن اس کی تکمیل نہیں کر سکے اس نظام کو ازسر نو تجدید کرنے کی ضرورت ہے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان میا ں ثاقب نثار کاکارڈیالوجی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے سوچا کہ دل کے امراض اور صحت کے حوالے سے مسائل حل ہونے چاہئے،اظہر کیانی نے تین ہفتے میں سفارشات پر مبنی رپورٹ جمع کروا دی جو اب اس ملک کا قانون بن گیا ہے،اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سٹنٹ اب ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ تک ڈالا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ ڈائلیسزاورہیپاٹائٹس کے علاج پربھی کمیٹی بنائی جائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسے ہسپتال ہرگزنہیں بنانے جہاں لوگوں کاگوشت اتاراجارہاہو،پچھلے دنوں ایک جج کی بیٹی کا ایکسیڈنٹ ہوا تو بل مجھے منظور کر نے تھے،میں بہت حیران ہوا کہ نجی ہسپتال کا کچھ دن کا بل ایک کروڑ روپے سے زائد تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اس قدر مہنگا ہے،فارمیسی کے مسائل کا احساس ہے ،تاہم ادویات کی قیمتیں مناسب ہوں جس سے کم از کم مناسب منافع ہو۔میاں ثاقب نثار کہتے ہیں کہ مجھے ایگزیکٹوکے کسی امورمیں مداخلت کاکوئی شوق نہیں،صرف ایک ہی خواہش ہے صحت اور عوام کے حقوق سے متعلق کام کر سکیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب مجھے یہاں سے دعوت آئی تو میں نے سوچا کہ یہاں جاوں کہ نہیں، پھر میں نے سوچا کہ یہی تو وہ جگہ ہے جہاں صحت کے لیے اپنا پیشن دکھا اور اظہار کر سکتا ہوں، سب آپ کو مسیحا کہتے ہیں اور یہی آپکی مغفرت اور روزگار کا سبب ہے۔

میڈ یا سے مختصر گفتگو مٰیں چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو فریادی نہیں کہا، نوا زشریف کی جانب سے عدلیہ کے بیانات کے  حوالےسے ان کا کہنا تھا کہ  انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ جج نہ ہوتے تو ڈاکٹر ہوتے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی والدہ کی بیماری کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...