بے سہارا بچوں کے لیے صوبائی پالیسی بنانے کا فیصلہ ، مسودہ چیف سیکرٹری کو ارسال

بے سہارا بچوں کے لیے صوبائی پالیسی بنانے کا فیصلہ ، مسودہ چیف سیکرٹری کو ...

لاہور ( جنرل رپورٹر) پنجاب میں پہلی بار لاوارث ، بے سہارا اور بھکاری بچوں کے حوالے سے صوبائی پالیسی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا ڈرافٹ تیارکرکے منظوری کے لئے چیف سیکرٹری کو بھجوا دیا گیا ۔ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کے تحت لاوارث ، بے سہارا اور اسٹریٹ چلڈرنز کو رہائش ،خوراک ،تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں مہیا کرنا چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیوروکی ذمہ داری ہوگی اوردیگرسرکاری محکمے اس حوالے سے چائلڈپروٹیکشن بیوروکی معاونت کے پابندہوں گے۔پنجاب حکومت نے گزشتہ ماہ لاوارث ، بے سہارا بچوں سے بھیک منگوانے اوران سے جنسی تشددکی روک تھام کے لئے صوبے بھرمیں ایمرجنسی نافذکی تھی ۔چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیوروپنجاب کی چیئرپرسن سارہ احمد نے اس بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے مہم چلاتے ہوئے جنوبی پنجاب کا دورہ کیا اورلوگوں میں شعور اجاگر کیا ۔

سارہ احمد نے بتایا کہ پالیسی کی تیاری میں مختلف این جی اوز، پنجاب یونیورسٹی کے ماہرین سمیت مختلف محکموں کی معاونت لی گئی ہے۔ بچوں سے بھیک منگوانے ، بد اخلاقی کا نشانہ بنانے ، اسپتالوں میں لاوارث چھوڑنے کے سدباب اور ان کی تعلیم ، صحت اوربنیادی سہولتوں کی تمام ذمہ داریاں چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیوروپنجاب کے پاس ہوں گی اوردیگرمحکمے انہیں سروسزفراہم کرنے کے پابندہوں گے۔چائلڈپروٹیکشن بیوروکے پاس پنجاب کے 8 اضلاع میں واقع سنٹرزمیں 800 سے زائدبچے حفاظتی تحویل میں ہیں۔لاہورسنٹرمیں 50 بچے ایسے ہیں جن کے والدین اور ورثا کو تلاش نہیں کیا جاسکا جبکہ 2013 سے 2018 کے دوران پانچ برسوں میں 30 ہزار 992 بچوں کو ریسکیوکیا گیا۔سارہ احمد نے بتایا کہ پانچ برسوں میں 121 نوزائیدہ بچے یہاں لائے گئے ان میں اکثریت بچیوں کی تھی جنہیں پیدائش کے بعد ان کے والدین اسپتالوں میں ہی چھوڑگئے تھے۔ بچوں سے بھیک منگوانے ، ان پرجنسی اورجسمانی تشددکرنیوالے 489 ملزمان کیخلاف مقدمات درج ہوئے۔ان پانچ برسوں میں 25 ہزار 766 بچوں کو ان کے والدین اور ورثا سے ملوایا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1