الیکشن کمیشن کے 2ارکان کی نامزدگی کا معاملہ، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے اختلافات میں شدت

الیکشن کمیشن کے 2ارکان کی نامزدگی کا معاملہ، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن کے2 ارکان کی نامزدگی کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں مشاورت کے معاملے پر تنازع بڑھ گیا ، قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف کے آفس نے وزیراعظم کے سیکرٹری کوجوابی خط لکھ دیا ۔وزیراعظم کے سیکرٹری محمد اعظم خان کو قائد حزب اختلاف کے ڈائریکٹر محب علی پھل پوٹو نے خط ارسال کیا ہے،اپوزیشن لیڈر آفس کے خط میں کہاگیاکہ وزیرخارجہ کے دفتر کا 11 مارچ کا خط آئین کی متعلقہ شقوں کی خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہاگیاکہ آپ کا حالیہ خط بھی آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور آئینی آرٹیکلز کی روح کے مطابق نہیں ۔اپوزیشن لیڈر آفس کے خط میں کہاگیاکہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کیلئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 215 چار کی خلاف ورزی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے دفتر سے وزیراعظم آفس بھجوائے جانے والے خط میں آئین کے آرٹیکل 213 دو اے کا متن بھی تحریر کیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر آفس کے خط میں موقف اختیار کیاگیاکہ مشاورت کسی نامزد شخص کے ذریعے نہیں ہوسکتی۔خط کے متن میں کہاگیاکہ فہرست میں اب جو نام آپ نے بھجوائے ہیں، وہ شاہ محمود قریشی کے خط میں دئیے گئے مجوزہ ناموں سے مختلف ہیں۔ خط میں کہاگیاکہ 2011ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مشاورت کی حدودقیود طے ہیں، اس عدالتی فیصلے سے رہنمائی لے سکتے ہیں۔دوسری جانب وزیر اعظم عمرا ن خان نے نیشنل ایکشن پلان کے با رے میں ا پو زیشن کے تحفظات دور کر نے کیلئے وزیر خا رجہ کو ہدا یا ت جا ری کر دیں۔نجی ٹی وی کے مطا بق نیشنل ایکشن پلان پر وزیر اعظم نے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن سے دوبارہ رابطے کی ہدایت کی اور کہا کہ اجلاس کے حوالے سے اپوزیشن کے تحفظات دور کیے جائیں، اپوزیشن رہنما جہاں چاہیں انہیں بریفنگ دی جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر انہیں کہا کہ اپوزیشن کو قائد حزب اختلاف کے چیمبرمیں بریفنگ دینے کو تیار ہوں، پارلیمانی رہنماوں کے علاوہ پورے ایوان کو بھی بریفنگ دینے کو تیار ہوں۔علاوہ ازیں چینی سر کا ری ٹی وی چا ئنہ گلو بل ٹیلی ویژن نیٹ ور ک کو انٹر و یو دیتے ہو ئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے قائم ہے کہ سی پیک کے تحت کن شعبوں میں اور کون سے مقامات پر کتنی سرمایہ کاری کرنی ہے،سی پیک کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھے ہیں،روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ترقی ممکن ہوئی ہے۔ وزیر خا رجہ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو اور سی پیک دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں،پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے قائم ہے کہ سی پیک کے تحت کن شعبوں میں اور کن جگہوں پر کتنی سرمایہ کاری کرنی ہے،چینی قیادت کی جانب سے چین کے کم ترقی یافتہ مغربی علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر اپ گریڈ کرنا توجہ حاصل کرچکا ہے اور یہی عمل پاکستان میں حوصلہ افزاء قدم بن چکا ہے۔چین سے پاکستان کی جانب ٹیکنالوجی منتقل ہوئی ہے اور پاکستان اور خطے میں استحکام آیا ہے،افغانستان میں قیام امن علاقائی ممالک کے مفاد میں ہے‘ افغانستان میں تعمیر و ترقی کے مواقع سب کیلئے اہم ہیں۔

تنازع/شاہ محمود

مزید : صفحہ اول