22کروڑ کی کرپشن میں ملو ث سی اینڈ ڈبلیو افسروں ، کنٹریکٹر ز کیخلاف انکوائری سرد خانے کی نذر

22کروڑ کی کرپشن میں ملو ث سی اینڈ ڈبلیو افسروں ، کنٹریکٹر ز کیخلاف انکوائری ...

لاہور(ارشد محمود گھمن /سپیشل رپورٹر)محکمہ اینٹی کرپشن ریجن لاہورنے 22کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن میں ملوث محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سابق ایگزیکٹو انجینئر ز(ہائی وے کنسٹرکشن روڈز)راؤخورشید عالم ، قاضی آصف نواز اورموجودہ ایس ای خاورزمان کے علاوہ 6کنٹریکٹرز کے خلاف انکوائری سردخانے میں ڈال دی ، یادررہے کہ مذکورہ افسروں نے مبینہ طور پر2017-18ء میں 3ارب روپے کی لاگت سے مریدکے نارووال 41کلو میٹر سڑک کی تعمیر کے دوران قومی خزانہ کی مذکورہ بالا رقم خورد بردکی تھی۔تفصیلات کے مطابق 2017-18ء میں حکومت پنجاب نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئرز(ہائی وے کنسٹرکشن روڈز)راؤ خورشید اور قاضی آصف نواز سمیت ماتحت عملہ نے کنٹریکٹریاسین برادرزاور آریم سی کنسٹرکشن کمپنی کو 2017-18ء میں مریدکے نارووال روڈ کو ڈبل کرنے کے 2ارب روپے کے ٹھیکے دیئے ،جنہوں نے ناقص میٹریل کا استعمال کیاجس پراس وقت کے چیف انجینئر خالد جاوید نے مقامی سماجی راہنماؤں کی شکایات پرنوٹس لیتے ہوئے مذکورہ سٹرک میں ناقص میٹریل کے استعمال کئے جانے پرقومی خزانہ کو 8کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے پرذمہ دارافسروں اور کنٹریکٹرز کے خلاف سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو کارروائی کی سفارش کی ،اس کے علاوہ عبدالرزاق اینڈ کمپنی کو دیپالپور چوک کا اوورہیڈ بنانے کا 80کروڑ روپے کاٹھیکہ دیاگیا ،جس میں ناقص میٹریل استعمال کرنے کے الزام میں قومی خزانہ کو7کروڑ روپے نقصان پہنچانے پربھی مذکورہ چیف انجینئر نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو کارروائی کی سفارش کی ،علاوہ ازیں سٹینڈرڈ انجینئرنگ کمپنی پر ایک ٹھیکہ14کروڑ کی لاگت سے پل کی تعمیر کبیروالہ ضلع خانیوال کو بھی قومی خزانہ کو7کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے پرمذکورہ افسران اورٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اعلیٰ افسران نے مذکورہ افسران کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرکے سارا ملبہ 6ٹھیکیداروں پر ڈال کر انہیں شوکاز نوٹس جاری کروادیئے ،یادرہے کہ مذکورہ افسران کے خلاف قومی خزانہ کو 22کروڑ روپے کا چونا لگانے کے خلاف وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم نے بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو کارروائی کے لئے مراسلہ بھیجا تھاجسے بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے ردی کی ٹوکری کی نظر کردیا،بعدازاں اس وقت کے ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر علی رانجھا کی ہدایت پراینٹی کرپشن ٹیکنیکل برانچ نے انکوائری شروع کرکے مذکورہ افسران کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے اس انکوائری کو ردی کی زینت بنادیا۔اس حوالے سے ایگزیکٹو انجینئر راؤخورشید کا کہناہے کہ تمام کام میرٹ پر کئے تھے تاہم قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے والے کنٹریکٹرز کومحکمہ کی طرف سے ناقص میٹریل کا استعمال کرنے پرشوکاز نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں میں چلنے والی انکوائریاں معمول کا حصہ ہوتی ہیں جبکہ ایگزیکٹو انجینئر قاضی آصف نواز کا کہناہے کہ اس سٹرک کی تعمیر میری تعیناتی سے قبل ہوئی تھی ،میرااس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر