احساس اور کفالت کا حکومتی پروگرام اور عوام

احساس اور کفالت کا حکومتی پروگرام اور عوام
 احساس اور کفالت کا حکومتی پروگرام اور عوام

  

اسلام آباد میں احساس اور کفالت پروگرام جاری تھا جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر ثانیہ قوم کے سامنے پاکستان کے عوام کی کسمپرسی کی داستان سنا رہی تھیں۔ان کا کہنا تھا ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں 40فیصد آبادی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، 41فیصد بچوں کو صحیح خوراک اور نشوونما نہ ہونے کی وجہ سے ان کے قد چھوٹے رہ جاتے ہیں، 25فیصد آبادی کو روٹی میسر نہیں۔ڈاکٹر ثانیہ ساتھ ہی فرما رہی تھیں ٹھیکوں میں کرپشن بنیادی مسائل کی جڑ ہے،خواتین کو تحفظ اور نئی دُنیا دینے کے لئے احساس کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ڈاکٹر ثانیہ فرما رہی تھیں پاکستان کا ہر چوتھا فرد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، دو وقت کی روٹی بھی دستیاب نہیں، کنونشن سنٹر میں ڈاکٹر ثانیہ نے احساس اور کفالت پروگرام کا خاکہ پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے مقبول عام سیاسی نعرے روٹی کپڑا اور مکان میں صحت اور تعلیم کو عوام کا بنیادی حق قرار دے رہے تھے۔

ادھر لاہور کے ڈی ایچ اے رہبر کے کاہنہ تھانہ میں چار سال قبل ہونے والی محبت کی شادی کا ڈراپ سین کر رہی ہیں اور نوحہ کناں تھیں میرے خاوند میاں فیصل نے دوستوں کے سامنے رقص نہ کرنے کی پاداش میں نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا،بلکہ سر کے بال بھی منڈوا دیئے ہیں۔ نئے پاکستان میں کاہنہ تھانہ کے اہلکار عورت کی بدترین تذلیل کو بھی سنجیدگی سے لینے کی بجائے ہنسی مذاق میں لے کر میڈیکل کروانے کے 500روپے مانگ رہے تھے، ماں باپ نہ ہونے کا بار بار رونا رونے والی اسماء نذیر کی المناک کہانی ایک ٹی وی لائیو دے رہا تھا۔

کروڑوں بچیوں کی مائیں گھروں میں محبت کی شادی کا انجام دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھی تھیں اور پیغام دے رہی تھیں ان این جی اوز کو جو بے شرمی پر فخر کرتی تھیں،ان کے پہلے خاوند اور دوست میں کوئی فرق نہیں ہے، نوجوان بچی بھی اسی بیہودہ کلچر کی بھینٹ چڑھی۔ وزیراعلیٰ، وزیر مملکت داخلہ کا ایکشن اور آئی جی پنجاب کی تسلیاں ایک یتیم بچی کے سر کے بال جو ایک ایک کر کے ہمارے معاشرے کے ایک ایک فرد کے پیروں میں آ رہے ہیں، کون انہیں اکٹھا کرکے ان کو ان کا حقیقی مقام دلائے گا،57لاکھ خواتین کو سیونگ اکاؤنٹس کھول کر موبائل دینے کے اعلانات میں اسماء نذیر کی داستان درمیان میں لانا ناانصافی ہے،کیونکہ وزیراعظم نے نئے پاکستان میں تمام وزارتوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے خالصتاً غریب عوام کا درد محسوس کرتے ہوئے غربت کے خاتمے کے لئے نئی وزارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

غربت مٹاؤ پروگرام میں80ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے انصاف کارڈ33اضلاع کے اندر33لاکھ لوگوں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا عوامی پروگرام زکوٰۃ اور بیت المال سمیت غربت کے لئے کام کرنے والے اداروں کو وزارت کو ایک کرنے کا اعلان بظاہر خوش آئند ہے۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے آئین میں ترمیم کا فیصلہ بھی قابلِ تحسین ہے، غریب عورتوں کو مرغیاں، بکریاں دینے کا عمل بھی اچھا ہے۔ بے سہارا افراد کے لئے پناہ گاہیں بھی قابلِ ستائش ہیں،وزیراعظم کی طرف سے غریب خواتین کے لئے بلا سود قرضوں کی مد میں 5 ارب رکھنا پارٹی ایلیویشن فنڈ میں 25ارب فراہم کرنے کا اعلان، پسماندہ اضلاع کے 1200 دیہات کے لئے نیا پروگرام بھی مثبت اقدام ہے۔

وزیراعظم کی طرف سے پنشن کی رقم 5200 سے بڑھا کر6500 کرنے کا بھی خیر مقدم ہونا چاہئے۔ غریب اور پسماندہ علاقوں کے رہنے والے بچوں کوA-25 آئین کے تحت ان کے بنیادی تعلیم کے حق سے آگاہی کا اعلان بھی بھرپور ہے۔

روٹی،کپڑا،مکان اور اب ‘‘صحت اور تعلیم سب کو دیں گے‘‘ کا نعرہ بڑا پُرکشش ہے۔ دِل موہ لینے والا ہے، نئے پاکستان میں ایسے ہی نعروں کی توقع کی جا رہی تھی،دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ اعلانات پاکستان میں پہلی دفعہ ہو رہے ہیں کیا یہ سب اعلانات قابلِ عمل ہیں؟اگر یہ سب اعلانات اور نعرے پہلے بھی لگ چکے ہیں،عوام اس کو بھگت چکے ہیں،25فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا سروے پہلی دفعہ ہوا ہے، 40فیصد بچے بچیاں بنیادی سہولیات اور نشوونما سے محروم ہیں، عوام کو نہیں پتا۔

ہر گز ایسا نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان صاحب قوم آپ سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے آپ نئے پاکستان میں کرپشن کلچر بدلیں گے، ٹھیکوں میں کرپشن کی نشاندہی نیا اقدام نہیں ہے، کارڈ سسٹم، لائنوں میں گھی، چینی، آٹا لینے کا تجربہ بھٹو دور میں ہو چکا ہے، اسی روایت کو آپ انصاف کارڈ،صحت کارڈ اور اب تعلیم کارڈ کے نام پر دوبارہ قوم کو خوشخبری کے انداز میں دے رہے ہیں۔ آپ کے وزیر خزانہ عوام کی چیخوں کی نوید سُنا رہے ہیں، آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی کہانی سنا رہے ہیں۔ گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی بے قدری کو مجبوری قرار دے رہے ہیں،

غریب تو غریب امیروں کو بھی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ رہے ہیں،ان حالات میں آپ کو عوام کا درد خوش آئند ہے،مگر عملاً ایسا لگ رہا ہے آپ کرنا کچھ چاہتے ہیں اور کر کچھ اور رہے ہیں، دو صوبوں کی آپ بات چھوڑ دیں، وہاں آپ کی حکومت نہیں ہے۔ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں آپ کی حکومت ہے وہاں گورننس چیک کروائیں۔ الیکشن سے پہلے کے اعلانات کی روشنی میں عوام کی کسمپرسی کا جائزہ لیں، مزدور اور کسان کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی بھی حالت زار کا سروے کروائیں، بھٹو کی طرح آپ کے احساس اور کفالت پروگرامات کے نعرے بڑے پُرکشش ہیں،مگر ان میں غریب نہیں ہیں، کارڈ۔ کارڈ۔ کارڈ کے ذریعے قوم کو انصاف، تعلیم، صحت کا درس نہ دیں، بلکہ یکساں نظام تعلیم مفت صحت اور دہلیز پر انصاف دینے کا وعدہ پورا کریں۔

مزید : رائے /کالم