انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف

انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف

اللہ کریم سورۃ البقرہ کی آیت 273 تا 274 میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تنگدستوں کے لئے جو رکے ہوئے ہیں اللہ کی راہ میں، وہ ملک میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے، ان کے سوال نہ کرنے سے ناواقف انہیں مالدار سمجھے، تو انہیں ان کے چہرہ سے پہچان لیتا ہے۔ وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور تم جو مال خرچ کرو گے تو بیشک اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ وہ لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن کو پوشیدہ اور ظاہر، پس ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ،،۔صدقات دو قسم کے ہیں، فرض جیسے زکوٰۃ اور نفل صدقات،جو صدقات فرض ہوتے ہیں وہ صرف مسلمانوں پر خرچ کئے جا سکتے ہیں اور نفلی صدقات پر کوئی قید نہیں، کسی بھی غریب مسکین پہ خرچ کئے جا سکتے ہیں، لیکن صدقات کا سب سے بہترین مصرف کیا ہے؟ فرمایا للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ وہ ضرورت مند جو اللہ کی راہ میں پابند ہو گئے ہوں، کہیں آجا نہ سکتے ہوں، کام نہ کر سکتے ہوں۔ اس میں سب سے پہلے وہ لوگ آتے ہیں،جو دین کا کام کرنے کی غرض سے اپنے اوقات صرف کر دیتے ہوں۔دین سیکھنے سکھانے میں، پڑھنے پڑھانے میں اور دینی امور کے جاننے اور لوگوں تک پہنچانے میں یعنی طالب علم اور اساتذہ۔ وہ لوگ جو مدارس کو ذریعہ معاش نہیں بناتے، لوگوں سے مانگنا شروع نہیں کر دیتے،بلکہ اللہ کی راہ میں اپنے اوقات کو لگاتے ہیں۔ پھر یہ دوسرے لوگوں پر ہے جن کو اللہ نے مال دیا ہے کہ وہ احساس کریں، ان کی ضرورت کو سمجھیں اور ان کی امداد کریں۔ یہ سب سے بہترین مصرف ہے۔

اس میں بھی دو شعبے پیدا ہو چکے ہیں۔ اکثریت تو ان لوگوں کی ہے، جنہوں نے اسے بطور پیشہ اختیار کیا ہے،یعنی جس طرح کاروبار ملازمت، مزدوری، کاشتکاری پیشہ ہے، اسی طرح بعض لوگ دینی مدارس بنا لیتے ہیں ۔ ان کی ضرورت اگر لاکھوں میں ہوتی ہے تو چندہ کروڑوں میں جمع کر لیتے ہیں۔ ان کی بات نہیں ہو رہی۔یہ ان لوگوں کی بات ہے جو بندوں سے مانگتے ہوئے شرماتے ہیں، جو صرف اللہ سے مانگنا پسند کرتے ہیں، جن کا یہ پیشہ نہیں ہے اور صرف اللہ کی رضا کے لئے اللہ کے دین کا کام کرتے ہیں۔ سیکھتے ہیں، سکھاتے ہیں اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔احصروا فی سبیل اللہ یعنی جیسے قیدی ہوتا ہے، اس کام میں پھنس گئے ہیں۔ لا یستطیعون ضربا فی الارض ان کے پاس فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کام کے لئے وقت نکالیں یا روزی کمانے کے لئے کہیں جائیں، چونکہ وہ لوگوں سے سوال کرنا گوارا نہیں کرتے تو جاہل اور نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت ہے، اِس لئے نہیں مانگتے۔ دینے والے کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے، وہ اللہ ہی کی امانت ہے اور اس نے احسان فرمایا کہ اسے دولت، علم، طاقت، حکومت یا اختیار دے دیا۔ اب وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہے تو اللہ ہی کا شکر ادا کر رہا ہے اور اس پہ مزید شکر واجب ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائی۔ اب آرزو اور تمنا یہ ہو کہ وہ اسے قبول فرمائے۔پھر اللہ کے وہ بندے جو خود اللہ کے کام میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ کاروبار بھی کر سکتے تھے، مزدوری بھی کر سکتے تھے، روزی کمانے کے اسباب اختیار کر لیتے، لیکن انہوں نے دینی امور کو ترجیح دی اور اس میں ایسے مصروف ہو گئے کہ اب ان کے پاس کاروبار کی فرصت نہیں۔ فرمایا: اللہ کی راہ میں جو خرچ کرتے ہو، اس کا سب سے بہترین مصرف یہ لوگ ہیں، لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جنہوں نے دین کو پیشہ بنا لیا ہے، وہ اس میں نہیں آتے۔اس میں وہ لوگ آتے ہیں،جو متوکل علی اللہ ہیں، جو کسی سے سوال نہیں کرتے۔ آگے اس کی وضاحت کردی۔

لا یستطیعون ضربا فی الارض نہ تو ان کے پاس فرصت ہے کہ وہ چل پھر کر اپنا کاروبار کریں یا کوئی روزی کا ذریعہ پیدا کریں یا مزدوری کریں۔ اللہ کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں، کسی اور سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی گوارا نہیں کرتی،لیکن اے مخاطب! جب تو ان کے چہرے دیکھے گا تو تجھے سمجھ آ جائے گی کہ یہ لوگ کتنے ضرورت مند ہیں، یہ کتنے فاقہ کش ہیں۔ ان کا لباس ایسا ہو چکا ہے کہ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن لایسئلون الناس الحافا لوگوں سے لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے اور جو بھی اللہ کی راہ میں تم خرچ کرتے ہو، جو بھلائی بھی کرتے ہو، مال خرچ کرتے ہو، کسی کو نصیحت کی بات بتاتے ہو، اللہ کا دین سکھاتے ہو، خود سیکھتے ہو، تمہارے پاس اختیار ہے تو حق و انصاف کرتے ہو اور لوگوں کو انصاف دلاتے ہو، کمزوروں کی مدد کرتے ہو تو جو بھی اللہ کی راہ میں نیکی کرتے ہو، یہ پختہ یقین رکھو کہ اللہ اس سے باخبر ہے۔ تم چھپ کر کرو، ظاہر کرو، رات کی تاریکی میں کرو یا دن کی روشنی میں کرو، اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو یا پوشیدہ کرو، کوئی ایسی بات نہیں جو اللہ کے ذاتی علم سے باہر ہو۔ ہر چیز کو اس کا علم محیط ہے۔

مزید : ایڈیشن 1