آئی جی پنجاب پولیس کی خدمت میں چند تجاویز

آئی جی پنجاب پولیس کی خدمت میں چند تجاویز

  

آئی جی پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی اپنے دفتر ، تمام ریجنل، ڈسٹرکٹ پولیس ،دفاتر، ایس پی ، سب ڈویژنل، پولیس اسٹیشن، پولیس لائنز اور دیگر جگہوں پر تعینات پولیس افسران و ذمہ داران کے نام مراسلہ برائے ضابطہ کا نوٹی فکیشن جاری کریں کہ فرائض کے امور کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کریں، جس میں تمام پولیس اہلکار و افسران شریک ہوں۔ عوام الناس کے جان و مال عزت کے تحفظ کے لئے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے پولیس افسران و اہلکار وں کے اہل خانہ کے گھر ہر عید کے موقع پر خصوصی گفٹ پہنچانے کا اہتمام کیا جائے اور ان کے خاندان کے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور پولیس تقریبات میں شہداء کے اہلِ خانہ کو بھی مدعو کیا جائے۔

شہید اہل کاروں کے نام سے منسوب بورڈز بھی لگائے جائیں۔اسی طرح فوج اور رینجرز کی طرز پر محکمہ پولیس بھی ایک دن یوم شہداء پولیس منانے کا اہتمام کرے پولیس کے شہدا کی مرقدوں پر قومی پرچم بھی لگایا جائے اور ان کے جام شہاد ت کے دن افسران و اہلکار شہید کی قبر پر سلامی دینے پہنچیں۔عوام کے جان و مال عزت کے تحفظ کے لئے پنجاب و دیگر صوبوں کے پولیس افسران ،جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے ہیں،جو کہ قابلِ فخر عمل ہے۔تمام صوبوں کے آئی جی صاحبان ایسا میکنزیم تشکیل دیں کہ شہدا پولیس کے لواحقین کو بغیر کسی عجلت کے تمام مراعات ان کی دہلیز پر میسرہوں۔ عوام کے لئے قانون و انصاف ، مظلوم کی داد رسی اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے پولیس قوانین اور حصول انصاف کے تقاضوں کے حوالے سے اقوال زریں اور قرآن و حدیث کے تراجم کے بورڈز ، پولیس دفاتر اور پولیس اسٹیشن پولیس لائنز اور پولیس چوکیوں میں نصب کرائے جائیں۔

تمام ریجنل، ڈسٹرکٹ، سب ڈویژنل، پولیس اسٹیشن پر اردو میں حکومت کی جانب سے قانون، ادارے کے ضابطے کے متعلق واضح تحریر کرادیں کہ پولیس صرف اس فرد یا افراد کو گرفتار کرنے کی مجاز ہے جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں۔ اگر پولیس کسی ایسے شخص یا افراد کو گرفتار کرتی ہے، جن کے نام ایف آئی آر میں درج نہیں دوسری جانب وہ ملزمان کے قریبی رشتہ دار ہیں یا جان پہچان والے اور پولیس نے مدعیوں کے کہنے پر یا خود اپنی معلومات پر ملزمان کے لواحقین کی زیر حراست رکھا تو محکمہ ان اہلِ کاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرے گا۔اور اگر مدعی پارٹی پولیس پر ناجائز دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس ہر قسم کی ناجائز سیاسی مداخلت کو خاطر میں نہ لائے۔اس پر عمل ہو جائے تو خود محکمہ پولیس کے لئے مفید ہو گا اور حبس بے جا کے واقعات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ہر ماہ کھلی کچہری لگائیں۔

آر پی او تین ماہ بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفس،ایس ڈی پی او یا تھانے میں کھلی کچہری لگائیں۔آئمہ کرام ، نمبرداروں، اچھی شہرت کے حامل افراد چاہے ان کا کسی بھی سیاسی یا دینی، سماجی جماعت سے تعلق ہو، تھانے کی سطح پر ان کی کمیٹیاں تشکیل دیں اور چھوٹے مسائل کے حوالے سے مساجد میں بیٹھ کر درخواست گزاروں کا مؤقف سن کر ان کا آپس میں تصفیہ کرانے کا اہتمام کیا جائے تو اس سے عوام کی بھی دادرسی اور پولیس کا وقت ضائع ہونے سے بچے گا۔پولیس سٹیشن کی حوالاتوں، جوڈیشل حوالاتوں میں صفائی ستھرائی کا بہترین نظام متعارف کرایا جائے، کیونکہ حوالاتوں کے واش رومز کی حالت نہایت ابتر ہے نیز حوالات انتہائی چھوٹی رکھی گئی ہیں، جس میں افراد گنجائش سے زیادہ ہوتے ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ تمام تھانوں کے حوالاتوں کا نئے سروے کراکر نئے واش رومز کی تعمیراور کھلے ہوادار حوالات تعمیر کیے جائیں۔ ہر ضلع میں پولیس سرجن موجود ہے، متعلقہ میڈیکل اسٹاف بھی ہوتا ہے۔ تمام پولیس افسران و اہل کاروں کا میڈیکل چیک اپ 6ماہ بعد باقاعدہ کروایا جائے اور ہیپا ٹائٹس ABCسے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے بھی ترتیب کے ساتھ ملازمین کو لگائے جائیں۔

اس کے لئے باقاعدہ شیڈول مرتب کیا جائے اور ضلعی،سب ڈویژنل، پولیس اسٹیشن، پولیس لائنز، چوکیوں اور دیگر جگہوں پر شیڈول کے حساب سے میڈیکل چیک اپ اور حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اس کا ریکارڈ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ رکھا جائے، پولیس میں بھرتی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی آنکھوں کا معائنہ ہر چھ ماہ بعد لازمی طور پر کروایا جائے اور ٹرانسپورٹ ڈائریکٹو میں گا ڑیوں میں انجن آئل چینج،فلٹرز کی تبدیلی، گاڑی کی سروس کا باقاعدہ شیڈول تحریر کیا جائے کہ کن گاڑیوں کی سروس فلاں تاریخ کو ہوگی۔ پولیس کو بھی حکومت انسان سمجھے۔ ان کی بھی سماجی زندگی ہے۔ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لیں گے تو ان کے رویوں میں تلخی تو آئے گی۔ ان کی سماجی زندگی متاثر ہورہی ہے۔ عوام کی جان و مال کی عزت پر مامور افسران و اہلکار اپنی خوشیوں میں شریک ہورہے ہیں نہ غمی میں۔ پولیس ملازمین کی چھٹیوں میں ان کو آرام دینے کے لئے ضابطہ اخلاق قانون تو موجود ہے، لیکن اس پر عمل درآمد بھی کرائیے۔ عوام کے ساتھ ناروا سلوک کرنے اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی او ر شہریوں کوناجائز مقدمات میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ میں الگ سے سیل بنایا جائے جو ایس پی لیول کے افسران پر مشتمل ہو۔

پولیس افسران تعلیمی اداروں میں جاکر طالب علموں کو خصوصی لیکچر دیں کہ قانون کا احترام اور قانون شکنوں کے خلاف آپ کس طرح پولیس کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ معاشرے میں امن و سکون فلاح پاسکے۔ایلیٹ فورس کے اہل کار جب اپنے پروفیشن کے مطابق ڈیوٹیاں دے رہے تھے تو پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے جرائم پیشہ افراد اپنی جان بچاتے پھرتے تھے۔ ان جفاکش اہلکاروں نے بہت جرائم پیشہ افراد کو کیفر کردار تک پہنچا یا تھا۔عوام نے اس فورس کو بہت پذیرائی دی، لیکن اب اس فورس کو وی آئی پی کی ڈیوٹی پر مامور کر دیا گیا ہے۔ اگر ایلیٹ فورس کے اہل کار وں سے چارٹر کے برعکس ڈیوٹی نہیں لینی ہے تو پھر ایلیٹ ٹریننگ سکول جس پر سالانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں کو بند کر دینا چاہئے،اگر اشتہاریوں، اغواکاروں، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر امن و سکون لانا ہے تو پھر ایلیٹ فورس کو اس پوزیشن پر بھیج دیا جائے،جو ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور سے قبل نظام رائج تھا ۔کالا خطائی روڈ شاہدرہ سے نارنگ تک 40کلومیٹر اور نارنگ سے ناروال تک 43کلومیٹر یوں یہ مجموعی فاصلہ 83کلو میٹر بن جاتا ہے۔یہ سٹرک ساری کی ساری بارڈر ایریا سے گزرتی ہے اورسنسان علاقہ ہے اس سٹرک پر کالا خطائی روڈ اور بدوملنی ضلع ناروال کے مقام پرپیٹرولنگ پولیس کا قیام عوام کے جان ومال عزت کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -