گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں پرنسپل کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں پرنسپل کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

رحیم یارخان (بیورو رپورٹ) ترنڈا علی مراد گورمنٹ گرلز ھاء سکول کی میڈم نے گورنمنٹ کے تمام دعوے غلط کر دکھائے بچوں کو واش روم برتن اور سکول کی صفائی کرنی پڑتی ہے اور میڈم زیادہ تر اپنے خاوند کو سکول بلا کر بٹھا لیتی ہے اور ٹیچرز کو ان کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کرنا شروع کر دیتی ہے اس (بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

سلسلے میں تمام ٹیچر و نے اکٹھے ہوکر ای ڈی او سکینڈری سکول سے رابطہ کیا اور تحریریں ایپلیکیشن دی جس کے نتیجے میں ہیڈ میس حنا افضل کی کرپشن کی کہانی بھی کھل کر سامنے آگئی ھے جس میں میڈم حنا افضل نے آیا ‘ چوکیدار کی مد میں اورنائٹ واچ مین کی مد اور دوسرے معاملات میں گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا نقصان ایک سال میں پہنچایا جو رپورٹ میں سامنے آگیا ھے اس کے علاوہ میڈم نے بچوں سے فنڈ کے نام پر اور کبھی امتحانوں کی فیس کے نام پر پیسے جمع کیے جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں,میڈم حنا افضل نے نہ صرف گورنمنٹ کو بلکہ غریب بچوں کو بھی چونا لگایا , حال علاقہ کے لوگوں کا کہنا ھے کہ جب سے یہ میڈیم اس سکول میں آء ھے اس کی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے سکول میں تدریسی عمل کو نقصان پہنچا ھے جب سی او سے رابطہ کیا اور ان سے رپورٹ کی کاپی طلب کی تو ڈی او صاحب میڈم کے دفاع میں کھڑے ہوئے اور کہا کہ ٹیچروں کی آپس میں لڑائی ہوئی تھی جس کی صلح کروا دی گئی ہے اور جب ہم نے رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو بتایا کہ مجھے کچھ یاد نہیں کہ رپورٹ میں کیا ہے۔ اس کے علاوہ سکول ٹیچرز نے یہ بھی بتایا ھے کہ میڈم کا میاں فیاض علوی ٹھیکے دار ہے اور کام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر سکول میں آتا جاتا رہتا ہے اور جس کے آنے سے سکول کی ٹیچر ڈسٹرب ہوتی ہیں افسران بالا کوتو کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے بچوں سے برتن دلوائے جائیں یا ان سے واش روم صاف کروائے جائیں یا ان سے سکول کی صفائی کروائی جائے کیوں کہ یہ بچے تو غریبوں کے بچے ہیں اگر اس جگہ جناب کے بچے ہوتے تو جناب کو کوئی فرق محسوس ہوتا , ایسے افسران کی وجہ سے ہمارا تعلیمی سسٹم کرپشن کا شکار ہے جو بھی کرپشن کرتا ہے افسران کا حصہ پورا پورا ان کو پہنچا دیتا ہے ہم اس سلسلے میں دو سے تین دفعہ سی او اور ڈی اوسے رابطہ کیا گیاانہوں نے انکوائری رپورٹ کی کاپی نہ دی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر