پی اے سی ،ایف آئی اے سے تین سال پرانے کیسوں کی تفصیلات طلب

پی اے سی ،ایف آئی اے سے تین سال پرانے کیسوں کی تفصیلات طلب

اسلام آباد(آئی این پی)پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بیس بیس سال سے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق کیس زیر التواہیں کمیٹی(بقیہ نمبر38صفحہ7پر )

نے ایف آئی سے تین سال سے پرانے کیسوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی۔تفصیلات کے مطابق معرات کو پی اے سی ذیلی کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی صدارت میں پارلیمنٹ ہا ؤس میں منعقدہوا۔ اجلاس میں راجہ پرویز اشرف اور ملک عامر ڈوگر کے علاوہ متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزارت توانائی کے ایف آئی اے اور نیب کو بھجوائے گئے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق کیسوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاسمیں وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن کے1999.2000,2001,2004.2005,2003.2006,2006.007اور2008.2009کے آڈٹ پیرز کا جائزہ لیا گیا کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیس بیس سال سے ایف آئی اے کے پاس کیس ہیں ان کے حوالے سے کیا پیشرفت ہوئی ہے۔کمیٹی کے کنوینیر رانا تنویر حسن نے کہا کہ بیس سال پرائے کیسوں میں یہ تو لوگ فوت ہو چکے ہیں کچھ لاپتہ ہیں اور زیادہ تر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔کمیٹی نے ایف آئی اے حکام سے تین سال سے زائد پرانے کیسوں کی تفصیلات طلب کر لی۔کمیٹی نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے حکام کو ہدایت کی کہ اب تک ایف آئی اے اور نیب کو بھجوائے گئے کیسوں کی تفصیل دی جائے کمیٹی نے ایف آئی اے ملتان سے میسرز شیل اور کالٹکس کے 2008کے 9.758ملین روپے بقایا جات کی تفصلات طلب کرلیں جس پر ایف آئی اے حکام نے اگلے ماہ رپورٹ جمع کرانے کا وعدہ کیا۔ کمیٹی کے رکن راجہ پرویز اشرف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو ڈی جی ایف آئی اے کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔کمیٹی نے آڈٹ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ ذیلی کمیٹیوں میں پانچ ملین سے کم مالی بے ضابطگیوں کے آڈٹ پیرا نہ لایءں جایءں بلکہ ان کو ڈی اے سی کے لیول پر حل کیا جائے۔رانا تنویر حسین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مرکزی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پچاس ملین روپے سے کم مالی بے ضابطگیوں سے متعلق آڈٹ پیراز ذیلی کمیٹیاں دیکھے گی۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی

مزید : ملتان صفحہ آخر