مرگی کے مرض کا موسیقی کے ذریعے علاج دریافت

مرگی کے مرض کا موسیقی کے ذریعے علاج دریافت
مرگی کے مرض کا موسیقی کے ذریعے علاج دریافت

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا کے سائنسدانوں نے موسیقی سے مرگی کا علاج دریافت کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف اوٹاہ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مرگی کے مریض اگر موسیقی سنیں تو اس سے مرض کے دوروں کی شدت اور تعداد دونوں میں کمی کی جاسکتی ہے۔ صحت مند افراد کے مقابلے میں مرگی کے مریضوں کا دماغ موسیقی پر مختلف انداز میں ردعمل دکھاتا ہے۔سائنسدانوں نے تجربات میں مریضوں کو جان کولٹرن اور موزارٹ کی موسیقی سنائی جس سے ان کے دوروں کی شدت حیران کن طور پر کم ہو گئی۔ ان تجربات میں ماہرین نے پہلے 10 منٹ تک مریضوں کو خاموش رکھا اوران کی دماغ کی لہریں نوٹ کیں اور پھر 10 منٹ موسیقی سناکر ان لہروں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹرگرزیگورز بولاج کا کہنا تھا کہ ”مرگی کے مریضوں کی اکثریت کے ایک مخصوص دماغی حصے ”ٹیمپرل لوب“ میں موسیقی سننے سے ایک خاص سرگرمی ہوتی ہے۔ مرگی کے 80 فیصد مریضوں کے دورے میں دماغ کا یہی حصہ ملوث ہوتا ہے دوسری طرف انسان کو آواز اور موسیقی کا احساس بھی دماغ کا یہی حصہ دلاتا ہے۔مرگی کے دورے میں دماغ کا یہ حصہ خود کو ہی پروسیس کرتا ہے اور مریض بے حس ہوکر گرجاتا ہے تاہم جب تجربات میں مریضوں کو مخصوص موسیقی سنائی گئی تو ”ٹیمپرل لوب“ نے خود کو پراسیس کرنے کی بجائے موسیقی کو پروسیس کرنا شروع کر دیا اور انہیں بہت دیر تک دورہ نہیں پڑا۔ چنانچہ اگر مرگی کے مریض کو موسیقی سنائی جائے تو وہ دورے سے بچ سکتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس