’’ خوابوں کی خوشبو‘‘

’’ خوابوں کی خوشبو‘‘
’’ خوابوں کی خوشبو‘‘

  

منیر کی درازیں صاف کرتے کرتے پرانی ڈائریوں میں سے ایک اچانک دستیاب ہوگی.کئی سال پہلے غالبا اس ڈائری کے دوچار صفحات اپنے کسی کالم کی نذر کیے تھے. 18.1.86 سے لیکر 28.12.93 تک کے 330 صفحات.اس سے پہلے کی بہت سی ڈائریاں بھی موجود ہیں.گھر کے اوپر والے کمرے کے کاٹھ کباڑ میں دبی اور اس کے بعد کی بھی ایک عدد باضابطہ ڈائری گھر میں نیچے میری لکھنے کی میز کی دراز میں بند ہے.باقاعدہ,بے قاعدہ,با ضابطہ ڈائری لکھنے کا سلسلہ غالبا 2001 کے بعد ختم ہو گیا تھااور غالبا بالکل صحیح وقت پر ختم ہوا تھا.خوابوں کی تعبیر چکھنے کے لیے شائد ضروری ہوتا ہے کہ ہم خواب دیکھنا موقوف کر دیں.اور خوابوں کی تعمیر کیلئے شائد ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنے دیکھے ہوئے خوابوں کو میز کی درازوں اور یاد کے نہاں خانوں میں بند کرکے بھول جائیں.

Human life is guided by Human Thoughts.And our thoughts are illuminated with the light of our Dreams.

(انسانی, زندگی انسانی خیالات سے رہنمائی پاتی ہےاور ہمارے خیالات ہمارے خوابوں کی روشنی سے روشن ہوتے ہیں)

دنیا کا ہر شخص خواب دیکھتا ہے.سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی.ہر شخص کے خوابوں کی نوعیت بھی الگ ہوتی ہے اور تعبیر بھی الگ ہوتی ہے.نیند میں دیکھے گئے خواب کچھ اور طرح کے ہوتے ہیں.بقیہ ہوش و حواس, بیدار وچوکس دیکھے جانے والے خوابوں کے رنگ ڈھنگ الگ ہو تے ہیں.ہر عمر میں زندگی کی ہر سٹیج  پر خوابوں کی ماہیت بدلتی رہتی ہے.پچن کے خواب,لڑکپن میں بوگس لگتے ہیں.جوانی کے خواب,ادھیڑ عمری میں اپنی تازگی کھو بیٹھتے ہیں اور ایک عمر کے بعدجب نئے خوابوں کے پھول کھلنا بند ہو جاتےہیں تو آدمی,ماضی کے خوابوں سے اپنی باقی ماندہ زندگی کو توانائی فراہم کرنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے.

اوائل عمر میں سوچے گئے خواب جتنے زیادہ گہرے خوش رنگ,دلکش,دیرپا ہوں گے,آئندہ کی زندگی میں اتنے زیادہ ہمارے لئے باعث توانائی ثابت ہوں گے . مایوسی, اداسی اور تنہائی کے اندھیروں میں اتنے زیادہ ہمارے لئے روشنی فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گےلیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر ہم نے بچپن اور لڑکپن میں خواب نہ دیکھے ہوں تو ہم آج بھی خواب نہ دیکھ پائیں.ہم کسی بھی عمر میں زندگی کے کسی بھی حصے میں فریش سٹارٹ لے سکتے ہیں.کسی بھی لمحے کسی بھی بات سے Trigger ہوکر خواب دیکھنا شروع کرسکتے ہیں.حالت بیداری والے خواب.

لڑکپن کے دنوں میں کسی کتاب میں پڑھا تھا."ہوائی قلعے"بنانا قطعا بری بات نہیں بشرطیکہ ہم روزانہ اپنے اپنے قلعے کیلئے ایک اینٹ ضرور جوڑتے ہیں . "لڑکپن کے ان دنوں سے ہزاروں دن آگے آگے آکر جب میں اپنی پرانی ڈائریوں کی ورق گردانی کرتا ہوں تو ماضی کی تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ ساتھ وہ ہوائی قلعے بھی دوبارہ نگاہ کے سامنے آجاتے ہیں جو ان دنوں میں بنائے جاتے تھے.وہ خواب بھی دوبارہ روشن ہوجاتے ہیں جو ان دنوں,جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے تھے.

ان میں سے بہت سے خواب تو حالات و واقعات کے ساتھ رخصت ہو گئے.ہاں البتہ کچھ خیال ایسے بھی تھے ان زمانوں کے جو آنے والے دنوں میں کسی نہ کسی صورت عمل میں ڈھلتے گئے اور واضح خط و خال اختیار کرتے گئے.جو خیال, جو خواب جتنا جاندار ہوتا ہے وہ اتنا ہی پنپنے اور پروان چڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے .ہمارے بہت سے خواب غیر حقیقی ہوتے ہیں.ہماری بہت سی خواہشات سطحی ہوتی ہیں مگر ہمیں اندازہ نہیں ہوتا.ہمیں اپنا ھر خواب پیارا لگتا ہے.اپنی ھر خواہش جی جان سے عزیز ہوتی ہے.بسا اوقات ہمارے غیر حقیقی خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو جاتے ہیں،ہماری انتہائی ذاتی سطحی خواہشات بھی پوری ہو جاتی ہیں لیکن اس صورت میں کبھی کبھی پھر ہمیں تمام عمر اپنے خوابوں,اپنی خواہشوں کی قیمت چکانی پڑتی ہے.گو مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں کہ ہم اپنے خوابوں کو مہمیزدینا سیکھ لیں.

عام حالات میں اپنے خیالات پر قابو پانا مشکل ہوتا ہےاور چونکہ ہمارے خواب, ہمارے خیالوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اس لیے عام حالات میں جیسے ہمارے خیالات ہوتے ہیں جو ہماری سوچ ہوتی ہے.اپنے ماحول اور اپنے اطراف کے لوگوں سے جس طرح ہمارا Interaction ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمارے اندر جس طرح کے Reaction پیدا ہوتے ہیں.وہ سب مل کر ہمارے خیالوں کو ایک خاص صورت دیتے ہیں.اس خاص صورت کاReflection ہمارے دونوں طرح کے خوابوں میں جھلکتا ہے.نیند کے دوران دیکھے جانے والے خواب اور جاگتے کے خواب مستقبل کے خواب.

عام حالات میں ماحول اور اطراف کے لوگوں کے رویوں پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا.ہم نہ اپنے ماحول کو اپنی پسند کے مطابق تبدیل کر پاتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کی باتوں اور رویوں کو اپنے مزاج اور اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں.ہمیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے.ہمیں بہت سی باتوں پر غصہ آتا ہے.بہت سی باتوں پر ہمیں دکھ پہنچتا ہے.کئی باتوں پر ہمیں پریشانی ہوتی ہے.کئی باتیں ہمارے Stress یا اعصابی دباؤ میں اضافہ کردیتی ہیں.کچھ باتوں سے ہمارا دل خوش ہوتا ہے.کچھ باتیں ہمارے لیے وحشت اور بیزاری کا سبب بن جاتی ہیں. غرضیکہ ماحول ہو یا لوگ؟اور یہ دونوں ہم پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہوں یا ہم ان سے Indirectly متاثر ہو رہے ہوں.ھر دو صورتوں میں ان کی وجہ سے ہماری سوچ, ہمارے جذبات,ہمارے احساسات,ہمارے خیالات اور ہمارے خواب سب کے سب یا تو Colourful ہو جاتے ہیں اور یا پھر Grey shades میں ڈھل جاتے ہیں.

خواب,بلیک اینڈ وائیٹ ہوں یا رنگین,خوشگوار ہوں یا تکلیف دہ,ہر دو صورتوں میں ہمیں اپنے خوابوں کو بھی اپنے خیالوں اور اپنی سوچوں کی طرح باقاعدگی سے Filter کرتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے.خوابوں کے اوپر جمے جالوں اور گرد ومٹی کو صاف کرتے رہنا پڑتا ہے.عملی اور غیر عملی خانوں میں بانٹا پڑتا ہے.خوابوں میں چھپے Facts اور Fiction کو الگ الگ کرنا پڑتا ہے Romance کوReal Life سے جدا کرکے اپنے خوابوں کے Core تک پہنچنا پڑتا ہے.تب کہیں جا کر ہزاروں میں سے دوچار خواب ہی ایسے برآمد ہوتے ہیں جن میں Growth کی گنجائش ہوتی ہے.جن کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے.جن کے سہارے ہم اپنے مقصد کی منزل تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کرسکتے ہیں اور جن کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا کر ہم اپنی خواہشوں کی تصویروں میں رنگ بھر سکتے ہیں.

ھر خواب یاد نہیں رہتا. ہر خواب یاد نہیں رکھا جا سکتا. ہر خواب دیر پا نہیں ہوتا.ھر زمانے کے اپنے خواب ہوتےہیں.بچپن,لڑکپن, جوانی,بڑھاپا.عمر کے ھر حصے کے خواب الگ الگ طرح کے ہوتے ہیں.ایک خاص عمر,ایک خاص وقت میں دیکھے جانے والے خواب,ایک عمر کے گزرنے کے بعد Childish اور Rubbish لگتے ہیں.ایسے خواب لاکھوں کروڑوں میں دوچار ہی ہوتے ہیں جو زمانوں پر محیط ہوں.جن کا پھیلاؤ دلوں اور ذھنوں تک ہو.جو اپنے اندر آفاقی کشش رکھتے ہوں.جن کی خوشبو کسی ایک فرد کسی ایک گروپ تک محدود نہ رہے.جن کے اثرات اور ثمرات سے ہر قوم,ہر عمر اور ہر نسل کا ہر فرد فیضیاب ہو اور ہوتا رہے.

ایسے خواب دیکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں.بسا اوقات تو نرگس کو ہزاروں سال اپنی بے نوری پر رونا پڑتا ہے.پھر کہیں جاکر کوئی ایسا دیدہ ور پیدا ہوتا ہے جو آفاقی خوابوں کو دیکھنے,برتنے اور سنوارنے کے لائق ہوتا ہے.جس کے دیکھے ہوئے اور سینتے ہوئے خوابوں نے لاکھوں کروڑوں آنکھوں میں روشنی بھری ہو.جس کے خواب لمماتی نہیں ہوتے.بلکہ ان کا احاطہ ان گنت انسانوں کے بے انت فائدوں تک پھیلا ہوتا ہے.پھیلتا چلا جاتا ہے.

آج میں اور آپ ایسے ہی انجانے اور جانے پہچانے لوگوں کے دیکھے ہوئے,سوچے ہوئے,پروان چڑھائے ہوئے خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں.اور اپنے اپنے خوابوں کے حصول کی دوڑ میں بھاگ رہے ہیں.لیکن ہم میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو خوابوں کی اس دنیا میں اور بہتری اور رنگینی اور دلفریبی کیلئے خواب دیکھتے ہیں.شاید کوئی ایک آدھاپنے خیالوں,اپنے جذبوں,اپنے خوابوں کو Trim کرنا سیکھئے.Tame کرنا سیکھئے.Tune in کرنا سیکھئے.اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر سوچنا سیکھئے.اپنی سوچ کو کائنات کے دھارے سے ہم کنار کرنا سیکھئے.شاید اس طرح میرے اور آپ کے خوابوں میں سے کوئی ایک آدھ خواب ایسا بھی نکل آئے جو کل کلاں کو کسی اور کو ,ذاتی سے آفاقی خوابوں کے سفر پر آمادہ کر سکے ضروری نہیں کہ میرے اور آپ کے اور ہمارے خواب ہی شرمندہ تعبیر ہوں.لکین اتنا ضروری ہے کہ ہمارے آدھے ادھورے, بلیک اینڈ وہائٹ خوابوں میں اتنا دم خم ضرور ہو کہ وہ کسی اور کے خوابوں میں رنگ بھر سکیں.

(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات میں اُن کا شمار ہوتا ہے ،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں ،اب وہ ’’ڈیلی پاکستان ‘‘ کے لئے لکھ رہے ہیں ۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے  کے لئے وٹس ایپ نمبر 03456680988 پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔) 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ