تعلیمات رسول اکرمؐ کو فراموش کیوں کیا گیا؟

تعلیمات رسول اکرمؐ کو فراموش کیوں کیا گیا؟
تعلیمات رسول اکرمؐ کو فراموش کیوں کیا گیا؟

  

کورونا وائرس جو پوری دُنیا یں پھیلا ہوا ہے اور روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اس کے بارے میں ہر روز کئی کہانیاں سامنے آتی ہیں۔2011ء والی امریکی فلم تو اب لوگ اپنے گھروں میں ویڈیو کے ذریعے دیکھ رہے ہیں، جبکہ ماہرین نجوم بھی میدان میں ہیں، اس حوالے سے ایک پوسٹ جاری کی گئی، جس کا تعلق پیشن گوئی سے ہے یہ کسی کتاب سے لی گئی، اس میں کہا گیا ہے ”نوسٹریڈیمس نے 1551ء میں لکھا تھا کہ جڑواں سال (2020ء) میں ایک شہزادی (کورونا) اٹھے گی جو مشرق (چین) سے آئے گی اور رات کی تاریکی میں وباء (وائرس) پھیلائے گی، اس ملک پر حملہ آور ہو گی جو سات پہاڑوں والا(اٹلی) ہے اور اس سے لاتعداد انسان مریں گے۔ یہ دُنیا بھر میں پھیلے گی اور تباہی مچائے گی۔ اس سے ملتی جلتی کئی کہانیاں چل رہی ہیں، انہی میں ایلو پیتھک ڈاکٹر حضرات بھی ہیں، ایسے دو ڈاکٹروں کا تعلق بھارت سے ہے۔ ایک صاحب گرم پانی سے گلے کو ٹھیک رکھنے کی تلقین کرتے ہیں تو دوسرے صاحب مصر ہیں کہ کورونا وائرس 37ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں مر جائے گا کہ یہ اس سے کم درجہ حرارت والے ممالک (یورپی) میں پھیل رہا ہے۔

ہم ہر روز خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں، پاکستان میں بھی اب مریض بڑھ رہے ہیں کہ متاثرین کی تلاش کامیاب ہوئی تو ساتھ ہی حفاظتی اور امدادی انتظامات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سرگرم عمل ہیں، ہمارے خیال میں یہ وقت تنقید کا نہیں البتہ تجاویز میں کوئی حرج نہیں، ان حکمرانوں کو بھی پیش کی جانے والی تجاویز کو سن اور پرکھ لینا چاہئے، وہ کدھر سے بھی آئی کہ آج پر درد مند پریشان اور فکر مند ہے، اس لئے شہباز ہو یا بلاول، کسی کی تجویز بھی رد نہیں کرنا چاہئے۔

میری فکر مندی سوا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور حضور نبی اکرمؐ کے پیروکار ہونے پر فخر بھی کرتے ہیں،حتیٰ کہ حرمت ِ رسولؐ پر جان قربان کرنے کے بھی دعویدار ہیں،لیکن ہمارا عمل یہ ہے کہ تعلیمات رسولؐ پر عمل نہیں کرتے، بدقسمتی سے جب بھی کوئی مشکل مرحلہ آتا ہے تو ہم کسی نہ کسی سورت یا فرمان ِ رسولؐ سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں جیسے آج کی وباء کے حوالے سے فرمان رسولؐ ہی کی تشریح کر کے مساجد کو بند اور ویران کیا ہے،حالانکہ حفاظتی اقدامات کئے گئے تو بہت زیادہ تشہیر بھی کی گئی، بدقسمتی سے اس حوالے سے بھی ہم اتفاق اور اتحاد کا تاثر دے کر بھی اختلاف ہی کا شکار رہے۔چاہے دبے دبے سے الفاظ ہی استعمال کئے۔اس سے یہ بھی مراد لی جا سکتی ہے کہ خوف بھی موجود ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر گزشتہ روز مساجد ویران ہی رہیں، اللہ ہم پر اپنا رحم نازل فرما دے۔

مَیں یہ جسارت کرنے پر مجبور ہوں کہ آج جو دُنیا کے حالات ہیں یہ غورو فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمارے علماء کرام حضرات کو ان احکام اور پیش گوئیوں کے بارے میں غور کرنا چاہئے، جو اس دور سے متعلق ہیں۔ آج دُنیا میں جو حالات ہیں وہ سب وہی ہیں، جن کے بارے میں بتا دیا گیا تھا کہ انسان جیسا کریں گے ویسا بھریں گے۔ افسوس کہ ان نصیحتوں پر نہ غو کیا جا رہا اور نہ ہی عمل کی طرف آ رہے ہیں۔منافع خوری، جھوٹ، ملاوٹ، بدانتظامی اور بے عملی جاری ہے۔حتیٰ کہ جان بچانے اور دوسروں کے تحفظ کے لئے ہدایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو پھیلاؤ کا باعث ہو رہا ہے،حالانکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مضطرب اور پریشان بھی ہیں اور کئی امدادی اور حفاظتی اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا، لوگ گھروں میں نہیں بیٹھتے اور حکومتوں کو اب زیادہ سخت رویہ اپنانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔اس وباء سے عہدہ برآ ہونے کے لئے تو رضا کارانہ پیش کش کی ضرورت ہے، لوگوں کو خود ہی اپنی حفاظت کرنا چاہئے۔

مَیں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے امدادی پیکیجز کے اعلانات کا خیر مقدم کرتا ہوں،لیکن افسوس کے ساتھ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ امداد حق داروں تک پہنچانے کے لئے بھی سیاسی راستے اختیار کئے جا رہے ہیں۔سندھ حکومت نے ویب بنا کر اچھا اقدام کیا،لیکن یہ تو بتائے کہ جو غریب تر لوگ ہیں وہ تو اَن پڑھ بھی ہیں وہ کس طرح رابطہ کریں گے۔ کاش بلدیاتی ادارے ہوتے تو یہ مشکل نہ ہوتی۔اگرچہ ایسی صورت میں بھی اقربا پروری ہوتی،لیکن مجموعی طور پر بہتر نتائج نکلتے۔مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے یہ راستہ اختیار کیا اور اپنی جماعت کے ان نمائندوں کو ذمہ داری سونپی ہے، جو بلدیات والے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ اللہ کرے وہ کسی تعصب یا اقربا پروری کا شکار نہ ہوں۔

جہاں تک وفاقی حکومت کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کرنے کے باوجود عمل درآمد والا خانہ خالی نظر آ رہا ہے اور بات ”کب باپ مرے اور بیل بٹیں“ والی ہے کہ 31مارچ سے ٹائیگر فورس کی رجسٹریشن ہو گی اس کے بعد امداد تقسیم ہو گی۔ میرے خیال میں حکومت کے پاس مسحق لوگوں کی فہرستیں پہلے سے موجود ہیں اس میں ساڑھے چار لاکھ تو وہ بوڑھے ہیں جو ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہیں، پھر بے نظیر بھٹو انکم سپورٹس والوں کی حالیہ سکریننگ کے بعد والی فہرست ہے اور زکوٰۃ کے مستحق افراد کی فہرستیں بھی حکومت کے پاس ہیں،مرحلہ صرف ان مزدور پیشہ افراد کا ہے جن کو دیہاڑی دار کہا جاتا ہے۔ ان سب کو مقامی انتظامیہ اور نمائندوں کے ذریعے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہاں تو یہ عالم ہے کہ وزیراعظم نے حکم دیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور پنشنر حضرات کو تنخواہ اور پنشن28 مارچ(جمعہ) تک ادا کر دی جائے۔ اس ہدایت میں ای او بی آئی والوں کا ذکر تک نہیں،ان بابوں کے لئے یکم جنوری سے پنشن میں دو ہزار روپے ماہوار کے اضافے کا اعلان کیا گیا۔ ای او بی آئی بورڈ نے منظوری دی اور بتایا کہ ادائیگی اپریل میں مارچ کی پنشن کے ساتھ ہو گی اور جنوری سے بقایا جات شامل کر دیئے جائیں گے۔ بورڈ نے پنشنر حضرات کو کسی بھی فیصلہ کے لئے اپنے دفاتر آنے سے منع کیا۔یہ اطلاع بھی دی،لیکن پنشن میں اضافے اور ادائیگی کا کچھ نہیں کیا۔وزیراعظم کو ایسے شعبوں کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ اب تو بوڑھے حضرات کی آس یکم اپریل تک ہے جو ”اپریل فول“ کا دن ہوتا ہے۔گذارش یہ ہے کہ سب حضرات اصل کو لوٹ جائیں۔ تعلیمات رسولؐ کو حقیقی معنوں میں اپنا لیں، اللہ سب پر مہربان ہو گا۔

آخر میں اپنے تحقیق کرنے والے حضرات سے سوال ہے کہ اسرائیل(ناجائز۔ یہودی ریاست) سے قبلہ اول بند کرنے کی اطلاع تو آئی۔ کیا وہاں بھی کورونا کی وباء پھیلی، غور اور تحقیق کر کے رہنمائی فرمائیں۔

مزید :

رائے -کالم -