نیب کا بڑا شکار میر شکیل الرحمن

نیب کا بڑا شکار میر شکیل الرحمن
نیب کا بڑا شکار میر شکیل الرحمن

  

انسان کے خمیر میں نیکی، بدی کا عنصر پیدائشی طور پر موجود ہوتا ہے خوشی سنبھالنے کے بعد ماحول سے یا اس کے رجحان سے اس پر نیکی یا بدی کا عنصر غالب آ جاتا ہے کیونکہ انسان ایک سماجی جانور ہے انسان پر اکثر حیوانی اثرات کا غلبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ کرہئ عرض پر فساد برپا کرتا رہتا ہے انسان کے حیوانی اثرات کو کم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے سوا لاکھ سے زیادہ پیغمبر دنیا میں بھیجے تاکہ اسے اشرف المخلوقات بنا کر رکھے اور اپنی نازل کی ہوئی کتابوں کے ذریعے معاشرتی نظام رائج کرنے کے طریقے بتائے جس کو اپنانے سے عدل کے نظام وجود میں آئے اور آہستہ آہستہ دنیا میں ایک بیلنس نظام قائم ہوا حکومتوں نے اپنے سماجی ڈھانچے کے مطابق عدالتی و احتسابی ادارے قائم کئے اور کچھ حکومتوں نے احتسابی ادارے اپنی حکومت کے تحفظ کے لئے قائم کئے جیسے کہ پاکستان میں نوازشریف نے نیب کا ادارہ قائم کیا جو کہ زرداری و دیگر کے خلاف استعمال ہوا پھر اس ادارے کو آئندہ حکومتوں نے احتساب کے نام پر اپنے مخالفوں کے خلاف زیادہ استعمال کیا ادارے نے اپنی بقاء کے لئے کافی اچھے کام بھی کئے اور کرپٹ عناصر میں اس کا خوف موجود ہے لیکن ظاہری طور پر حکومتی سیاسی و کاروباری عناصر کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرتا بھی نظر آیا اور سیاسی و کاروباری حضرات کو عرصہ تک جیلوں میں رکھ کر کوئی ثبوت دیئے بغیر رہا کر دیا۔

حکومت نے چند ماہ قبل ایک آرڈیننس کے تحت کاروباری حضرات و سرکاری افسران کے لئے اپنی نیب پر لگام ڈالنے کی ظاہری کوشش کی۔ میر شکیل الرحمن کا معاملہ بھی ذاتی نوعیت کا نظر آتا ہے میڈیا ہاؤس کا مالک اپنے آپ کو کاروباری شخص ثابت کرتا ہے اور اس کے پاس کبھی کوئی سیاسی و حکومتی عہدہ نہیں رہا جہاں تک ایل ڈی اے پلاٹس کی ایگزمشن کا تعلق ہے وہ ایل ڈی اے افسران و حکومتی عہدے داران کا معاملہ ہے اگر کسی سرکاری افسر نے قانون سے ہٹ کر ایگزمشن دی ہے تو احتسابی عمل ایل ڈی اے سے شروع ہونا چاہئے انکوائری کے بعد مجاز افسر کو سزا دے کر ناجائز ایگزمشن منسوخ کر کے اگر کوئی حکومتی نقصان ہے تو اس کا ازالہ کرنا چاہئے لیکن میڈیا کی خبروں سے اس کا تاثر الٹ مل رہا ہے اور میر شکیل الرحمن کی گرفتاری ایک انتقامی کارروائی لگتی ہے۔

C.V کی اسٹیج پر کبھی گرفتاری نہیں ہوتی C.V انکوائری میں تبدیل ہونے کی صورت میں نوٹس جاری کیا جاتا ہے انکوائری کا دورانیہ تین ماہ کا ہوتا ہے مطمئن نہ کرنے کی صورت میں مزید کارروائی کی جاتی ہے۔ کورونا وبا کی صورت حال میں عدالتیں سنگین نوعیت کے قیدیوں کو رہا کر رہیں ہیں اور بڑی کرپشن میں جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں ملوث چوبیس قیدیوں کوبھی رہا کر دیا گیا ہے کورونا کے حالات میں میڈیا کو اس کے تدارک کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے میڈیا مالک کو بغیر کسی واضح ثبوت گرفتار کرنے سے میڈیا انڈسٹری میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ملازمین کی نوکریاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، موجودہ صورت حال نہ حکومت نہ عوام کے حق میں ہے۔ حکومت کو فی الفور شکیل الرحمن کو رہا کر کے ایک غیر جانب دار جے آئی ٹی بنا کر انکوائری کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں نیب کو جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے تحمل سے قانونی تقاضے پورے کر کے اپنے بے تحاشہ اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے ایگزمشن کے کیس میں زمین پاکستان میں موجود رہے گی اور عدل بھی۔

مزید :

رائے -کالم -