ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟

ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟

  

تحریر: خطیب احمد

انسان کے بدن مادی میں نظام اعصاب کا مرکزی حصہ دماغ کہلاتا ہے، جس کو سوچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی ہم نے سوچانا ہی چھوڑ دیا ہے، شاید اس لیے کہ زیادہ سوچیں گے، تو زیادہ پریشانی محسوس ہوگی۔

اگر سوچیں، تو یہ ادراک ہوگا کہ چودہویں صدی میں پھیلنے والی عالمی وباء طاعون جس کو ”کالی موت“ بھی کہا گیا، یہ یورپ کی ایک تہائی آبادی کو نگل گیا تھی۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر ”اسپینش فلو“ نے جنم لیا تھا، جو برطانوی ہند کے سپاہیوں کو بھی لاحق ہوگیا۔ یہ فلو دو کروڑ کے قریب افراد کو نگل کر چین سے بیٹھا نہیں بلکہ اندازے کے مطابق جنوری 1918 سے دسمبر 1920 کے درمیان پانچ کروڑ لوگوں کو اپنا رزق بنا چکا تھا۔ لیکن ہم نے ماضی سے سبق حاصل کرنے بعد بھی کبھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کرونا وائرس کتنی جانیں لے سکتا ہے۔

لیکن پھر وہ ہی بات آگئی کہ ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں؟ جہاں ایک پل کا بھی علم نہیں کہ کیا ہوگا، نہ جانے کب موت ہم سے مزاج پوچھ کر جسم سے چمٹ جائے گی، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مگر جہاں ہمارا اپنا اسٹیٹس گرتا جارہا ہے وہیں ہم فیس بک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کرکے آنکھوں سے آنسوں نکلتے تھوبڑے ایک دوسرے کو بھیج کر پتہ نہیں ہم اپنی جبلت کی کونسی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ روز بروز انسانیت کا احساس بھی وقت کے ساتھ اپنی موت آپ مرتا جارہا ہے۔

ہمارا پورا ملک بھی اضطراب اور کرب کی حالت میں مبتلا ہے کہ آنے والا وقت کیا ہوگا؟ کیا ہم اس بیماری کو شکست دے پائیں گے؟ جن ممالک کی معیشت مضبوط تھیں، انہوں نے اس کو اپنی قوت ارادی اور مضبوط مدافعتی نظام سے شکست سے دوچار کیا ہے۔ لیکن ہم تو اپنی مدد آپ کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہیں۔  جبکہ امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے دو ہزار ارب ڈالرز کا کورونا پیکچ کی منظوری دی ہے، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکچ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 500 ڈالرز متاثرہ صنعتوں کے لیے مختص کیے ہیں، جبکہ 290 ارب ڈالرز کی رقم خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی، یعنی 3 ہزار ڈالرز فی کس امریکی خاندان کو رقم ملے گی۔

لیکن پاکستان کی صورتحال دیکھیں، تو وفاقی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس 3 ہزار روپے، سندھ حکومت نے 6 ہزار اور پختونخوا حکومت نے 5 ہزار روپے فی کس امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ بہر کیف یہ تو ہماری حکومت کی کارستانی تھی، جو ہمیشہ ایسی رہے گی۔ لیکن ہمیں سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بشمول اٹلی، فرانس، اسپین اور امریکا کس قرب و اذیت میں مبتلا ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے خوف کھا رہا ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کوئی غسل، کفن کچھ نہیں دیا جائے گا بلکہ جراثیم کش اسپرے کرکے پلاسٹک میں پیک کرکے پولیس کی نگرانی میں دفن کر دیا جائے گا۔ صرف ایک نام سے یاد کیا جائے گا کہ وہ فلاں نمبر کا مردہ تھا۔

اب ہاتھ جوڑ کر گذارش ہی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے۔ کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا ہے کہ تمام ممالک اس وائرس کی حقیقت کا ادارک کرلیں کیونکہ کرونا وائرس کے اثرات کافی وقت تک قائم رہیں گے۔

لہذا اب بھی وقت ہے، جو اس نظام کائنات کا مالک ہے اس کی جانب متوجہ ہوجائیں کیونکہ کوئی فرد دودھ کا دھلا نہیں ہے، سب گناہ گار ہیں، تو براہ کرم سماجی روابط کی ویب سائٹس پر کی بورڈ کو تھام کر ایک دوسرے کے خلاف بے ہودہ گوئی، مذاق، مذہبی مغلظات، ناشائستہ گفتگو کرکے اپنے رب کے غضب کو مزید آواز دینے کے بجائے، درست سمت کا تعین کر لیجیئے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -