حکومتی دعوے ایک مرتبہ پھر جھوٹے نکلے، پنجاب میں آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا

حکومتی دعوے ایک مرتبہ پھر جھوٹے نکلے، پنجاب میں آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا
حکومتی دعوے ایک مرتبہ پھر جھوٹے نکلے، پنجاب میں آٹے کا بحران سر اٹھانے لگا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت پنجاب کی جانب سے پورے صوبے میں جزوی لاک ڈاﺅن کیا گیاہے جس دوران صرف میڈیکل سٹورز، کریانہ سٹورز ، دود ھ دہی ، سبزی اور پولٹری کی دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں لاک ڈاﺅن کے باوجود بھی عوام کی جانب سے مکمل تعاون ہو نے کے باعث کورونا کیسز میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے بعد تعدا د 559 تک جا پہنچی ہے ۔

لاک ڈاﺅن کے باعث پنجاب میں آٹے کے بحران نے سراٹھانا شروع کر دیاہے جس کے باعث عوام کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔لاک ڈاﺅن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دکانداروں نے آٹا بلیک میں فروخت کرنا شروع کر دیاہے جبکہ آٹا چکی مالکان نے بھی قیمت 60 روپے فی کلو پر پہنچا دی ہے جس کے باعث عوام در در بھٹکنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔

یاد رہے کہ ایک مرتبہ پہلے بھی آٹے کے بحران نے سر اٹھایا تھا جس پر حکومت نے نہایت سختی کرتے ہوئے اس بحران کو ختم کیا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا ۔

کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کہاتھا کہ ملک میں اناج کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اس لیے ذخیرہ اندوزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

مزید :

قومی -