شب برأت کی اہمیت وفضیلت!

شب برأت کی اہمیت وفضیلت!

  

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں جب رجب المرجب شریف کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریمﷺ دُعا کرتے۔ ”اے اللہ (تبارک و تعالیٰ) رجب المرجب شریف اورشعبان المعظم میں ہمارے لئے برکت عطاء فرما اور ہمیں رمضان المبارک میں پہنچا۔“

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”میں نے عرض کیایا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم آپ ﷺ کو شعبان المعظم کے مہینہ میں (رمضان المبارک کے علاوہ) دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ روزے رکھتے دیکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں۔ یہ مہینہ رجب(المرجب) اور رمضان(المبارک) کے درمیان ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کی بارگاہ میں اٹھائے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اُس وقت اٹھائے جائیں جب میں روزے سے ہوں“۔حضرت عبداللہ بن ابوقیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:۔ ”میں نے ام المومنین حضرت سیدّہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سُنا کہ رسول کریمﷺ کے نزدیک روزہ رکھنے میں شعبان المعظم کا مہینہ بہت زیادہ پسند تھا پھر آپ ﷺ اُسے رمضان المبارک سے ملادیتے تھے“۔

شعبان المعظم میں زیادہ 

روزے رکھنے کی حکمت

اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں رسولِ کریم ﷺ شعبان المعظم کے سارے مہینے کے روزے رکھتے۔فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا۔”یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا آپ ﷺ کے نزدیک شعبان المعظم کا مہینہ بہت محبوب ہے کہ آپ ﷺ(اس مہینے کے پورے) روزے رکھتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ(تبارک و تعالیٰ) ہر اُس شخص کا نام لکھ دیتا ہے جس نے اس سال اس دارفانی کو خیر باد کہنا ہوتا ہے تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا نام ایسی حالت میں لکھا جائے کہ میں روزے سے ہوں“۔

چار راتوں میں نیکیوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں 

اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں، میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چار راتوں میں نیکیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ۱؎ شب عید الاضحی ۲؎ شب عیدالفطر ۳؎ شب عرفہ اور ۴؎ شب وسطِ شعبان المعظم۔ کہ اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کی عمریں اور رزق لکھتا ہے اور اس رات میں حاجیان خانہ کعبہ کا شمار لکھتا ہے۔ (یعنی جن کی عمریں اور رزق ختم ہو رہا ہے اور جو حج کے لئے جائیں گے، سب کے نام لکھے جاتے ہیں)۔

شعبان المعظم کی پندر ہویں رات

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، شعبان المعظم کی پندر ہویں رات کو میرے پاس حاضر ہوئے اور مجھے عرض کیا: یا محمدﷺ آسمان کی طرف اپنا سرانور اُٹھائیں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا یہ کیسی رات ہے؟ عرض کیا یہ ایک رات ہے جس میں اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔ اللہ رب العالمین اُن تمام لوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے جواُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے مگر ”ساحر“، ”کاہن“ ”شراب خور“ ”سود خور“ اور ”زانی“ کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کریں“۔ پھر جب رات کا چوتھائی حصہ گزرا توحضرت جبرائیل علیہ السلام پھر نازل ہوئے اورحسب سابق عرض کیا محمدصلی اللہ علیک و سلم اپنا سرِ انور آسمان کی طرف اُٹھایئے، آپ ﷺ نے اپنا سر انور اُٹھایا۔ آپ ﷺ دیکھتے ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔پہلے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی شب رکوع میں ہے۔دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی رات سجدہ کرتا ہے۔تیسرے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس کے لئے جو آج کی رات دُعا کرتا ہے۔چوتھے دروازے پر ایک فرشتہ آوارز دیتا ہے، خوشخبری ہے ان کے لئے جو آج کی رات ذکر کرنے والے ہیں۔پانچویں دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے، خوشخبری ہے اُس شخص کے لئے جو آج کی رات خوف ِ خدا سے روتا ہے۔چھٹے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے،خوشخبری ہے ہر مسلمان کو آج کی رات ساتویں دروازے پر ایک فرشتہ ندا کرتا ہے۔آیا ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ وہ بخشا جائے؟۔آٹھویں دروازے پر ایک فرشتہ ندا کرتا ہے۔ آیا ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ وہ بخشا جائے؟۔

آپ ﷺ فرماتے ہیں، میں نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام سے پوچھا یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اوّل شب سے صبح کے طلوع ہونے تک اور پھر عرض کیا یا محمد(صلی اللہ علیک وسلم) اس رات اللہ (تبارک و تعالیٰ) دوزخ کی آگ سے بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر اپنے بندوں کو آزادی عطاء فرماتا ہے“۔ ام مومنین حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ شعبان المعظم کی پندرھویں رات ہے (ابن ماجہ ص 100) اس رات اللہ تبارک و تعالیٰ بنی کلب کی بکریاں کے بالوں کی تعداد کے برابر جہنم سے لوگوں کو آزادی عطاء فرماتا ہے۔ مگر اس رات اللہ تبارک و تعالیٰ مشرک،کینہ پرور،قاطع رحم، پاجامہ ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کو ستانے والے اور ہمیشہ شراب پینے والے کی طرف نگاہِ کرم نہیں فرماتا۔

مشرک اور کینہ پرور

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر مایا”جب شعبان(المعظم) کی پندرہویں رات آتی ہے تو اللہ (تبارک و تعالیٰ) اپنی مخلوق کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے۔ اور ایمان والوں کی بخشش فرمادیتا ہے۔ کافروں کو مہلت دیتا ہے اور کینہ پروروں کو چھوڑ دیتا ہے یعنی ڈھیل دیتا ہے، جب تک کہ کینہ ترک نہیں کرتے،کینے سے اجتناب نہیں کرتے“۔

والدین کا نافرمان اور

 ذاتی دشمنی رکھنے والا

حضرت ابوبکر صدیقﷺ سے روایت ہے، فرماتے ہیں۔”اللہ تبارک و تعالیٰ ہر مومن کی بخشش فرمادیتا ہے، سوائے والدین کے نافرمان، بے ادب اور ذاتی شمنی رکھنے والے کے۔“

بدکاری اورشرک کرنے والوں 

 کیلئے عطا کا دروازہ بند

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب شعبان (المعظم) کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو ایک منادی ندا کرتا ہے، ہے کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخشا جائے، ہے کوئی سائل کہ اُسے عطاء کیا جائے۔ پس جو سائل کچھ بھی مانگتا ہے اُس کو عطاء فرمایا جاتا ہے سوائے زانیہ عورت اور مرد اور شرک کرنے والے کے۔“

قیام شب ِ برأت اور روزہ

حضرت علی رضی اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں،رسول اللہ ﷺ نے ”جب شعبان (المعظم) کے مہینے کی پندرہویں شب ہو تو اُس رات کو قیام کرو، عبادت کرو اور اُس کے دن میں روزہ رکھو اس لئے کہ اس رات اللہ جل شانہ غروبِ آفتاب سے آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور کہتا ہے کوئی ہے جو بخشش چاہتا ہو تو میں اسے بخش دوں، کوئی ہے جو رزق چاہنے والا ہو تو میں اُسے روزی عطاء فرماؤں اور کوئی مرض میں مبتلا ہے کہ شفاء چاہیے تو میں اس کو تندرست فرماؤں،کوئی ایسا ہے کوئی ایسا ہے یہی فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ طلوع فجر ہو جاتی ہے“۔ حضرت علی رضی اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ شعبان المعظم کی پندرہویں شب کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے چودہ رکعتیں نماز پڑھی۔آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے پھر آپ ﷺ نے 14 بار سورۃ الفلق،14 مرتبہ سورۃ الناس اور ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھی اور ایک مرتبہ ”لقد جاء کم رسول من ربکم“(التوبہ) کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ ﷺ) اُس شخص کے لئے کیا حکم ہے جو اس طرح نماز ادا کرے؟ تو رسول اللہ کریم ﷺ نے فرمایا، جو اس طرح نماز پڑھے جیسے تو نے مجھے دیکھا ہے تو اس کے لئے بیس حج مبر ور اور بیس سال کے روزوں کا ثواب ہے اور اگر اِس رات کے بعد دن میں روزہ رکھے تو دو سال کے روزوں کا اُس کے لئے ثواب ہے۔ ایک سال ماضی کا اور ایک سال مستقبل کا۔

صلاۃ الخیر شعبان المعظم کی پندرہویں رات ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔اس کو صلاۃ الخیر”یا نماز خیر“ کہتے ہیں۔ اس کی سورکعتیں ہیں جن میں ہزار مرتبہ سورۃ الاخلاص شریف پڑھی جاتی ہے بایں انداز کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ شریف کے بعد 10 مرتبہ سورۃ الاخلاص شریف، یہ نماز دو دو رکعت کرکے پڑھی جاتی ہے۔چار چار رکعت کرکے بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ مگر چار رکعت کی صورت میں یہ بات یاد رکھیں کہ جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھیں تو التحیات پڑھنے کے بعد درود شریف اور دعا بھی پڑھیں اور جب تیسری رکعت شروع کریں تو پہلی رکعت کی طرح اس میں بھی ثناء پڑھیں لیکن ”تعوذ“ نہ پڑھیں۔

 حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ”مجھے تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس نماز کی فضلیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اس رات اس نماز کو ادا کرے گا، اللہ (تبارک و تعالیٰ) اُس کی طرف 70 بارنگاہِ کرم فرمائے گا اور ہر نگاہِ کرم کی برکت سے نماز پڑھنے والے کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا۔ اُن حاجتوں میں سے ایک حاجت اُس کی بخشش کردی جاتی ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -