لفظوں کی گولہ باری بند کریں 

لفظوں کی گولہ باری بند کریں 

  

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پہلی دفعہ دیکھا لیڈر آف دی اپوزیشن سرکاری ارکان سے مل کر بنا۔ باپ کے لوگوں نے باپ کے کہنے پر ووٹ دیا، عوام اور لیڈر پہچان گئے ہیں کس کا کیا بیانیہ ہے، خوشی ہے کہ پی ڈی ایم کی صف بندی ہو گئی ہے، ایک طرف لوگ آئین و قانون کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں،جبکہ دوسری طرف لوگ چھوٹے سے چھوٹے فائدے کے لئے بیانیے کو روند رہے ہیں، اصل اپوزیشن مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی ہیں، میری کوشش ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ کا موقف سامنے آ جائے،افسوس کی بات ہے بہت ہی چھوٹے سے عہدے کے لئے جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کو نقصان پہنچایا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کو شکست نہیں ہوئی، شکست ان کو ہوئی جنہوں نے عہدے پر اصول کی قربانی دے دی، نواز شریف سے کہتے وہ خود انہیں عہدہ دے دیتے۔ مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی خود کو دھوکا دے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت کے کچھ ارکان کو محسوس ہوا کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،مسلم لیگی دوستوں کو چاہئے کہ حوصلہ رکھیں ہم نہیں چاہتے کہ پی ڈی ایم کو نقصان ہو۔ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے،حکومتی بنچوں سے اٹھ کر تین آزاد ارکان کے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے فیصلے کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کے اپوزیشن لیڈر کے امیدوار کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ متنازعہ تھے۔ بی بی شہید کے کیس میں اعظم نذیر تارڑ وکیل تھا مَیں کیسے اس کی حمایت کرتا۔مجھے فون ہی کر لیتے  شاید نام کے حوالے سے اتفاق ہو جاتا۔

ابھی زیادہ دن نہیں گذرے پی ڈی ایم کی جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنوا کر جشن منا رہی تھیں اور یہ امید بھی لگا بیٹھی تھیں کہ وہ چیئرمین کا انتخاب جیت جائیں گی، کیونکہ سینیٹ میں تو ان کی عددی اکثریت بھی تھی، اگر انہوں نے اسلام آباد کی نشست پر اپ سیٹ کر کے دکھا دیا تھا تو چیئرمین کے انتخاب کے لئے تو پارٹی پوزیشن واضح تھی،لیکن سات مسترد ووٹوں کا جادو سر چڑھ کر بولا اور  فیصلہ صادق سنجرانی کے حق میں ہو گیا۔ پیپلز پارٹی یہ مقدمہ لے کر اسلام آباد ہائی کورٹ بھی گئی،لیکن فاضل عدالت نے گیند دوبارہ سینیٹ کی کورٹ میں پھینک دی اور یہ ریمارکس دیئے کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کے پاس اکثریت ہے تو پھر ثابت کرنے کے لئے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چیئرمین کو ہٹا دیں، اصولاً یہ بات سو فیصد درست ہے، لیکن تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تو صادق سنجرانی کو2019ء میں اُس وقت نہیں ہٹایا جا سکا تھا جب اپوزیشن جماعتوں کے پاس بڑی واضح اکثریت تھی اور تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والوں نے کھڑے ہو کر کہا بھی تھا کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے ہیں،لیکن جب خفیہ ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن کے14ارکان اِدھر سے اُدھر کھسک گئے اور یوں صادق سنجرانی بچ گئے۔ ان 14ارکان میں سے اگر زیادہ نہیں تو چند ارکان ابھی اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہیں۔ چیئرمین کے انتخاب میں اگر سات ووٹ مسترد نہ ہوتے تو گیلانی ایک ووٹ سے جیت جاتے، اب محسوس یوں ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کو نظر آ گیا ہے کہ شاید سپریم کورٹ سے بھی کوئی ریلیف نہ ملے، اِس لئے اس نے گیلانی کو قائد حزبِ اختلاف بنوانے پر ساری توانائی خرچ کر دی، یہاں تک کہ باپ کی مدد بھی حاصل کر لی اور اس کا خیر مقدم بھی کر دیا۔ چند کلیوں پر قناعت کرنا اسی کو کہتے ہیں،البتہ اب پی ڈی ایم میں اس کا رہنا مشکل ہو جائے گا۔

اختلافات تو سیاسی جماعتوں میں بھی ہوتے رہتے ہیں اور انہی کی وجہ سے جماعتیں ٹوٹ بھی جاتی ہیں اِس وقت کوئی ایک جماعت بھی ایسی نظر نہیں آتی جو اپنے اندرونی سیاسی اختلافات کی وجہ سے کبھی نہ کبھی اس صدمے سے دوچار نہ ہو ئی ہو،اِس لئے اگر ایک ہی جماعت کے رہنما اپنے بدلتے خیالات کی وجہ سے کسی جماعت سے الگ ہو جاتے ہیں تو سیاسی اتحاد تو بنتے ہی محدود وقت اور محدود مقاصد کے لئے ہیں۔پی ڈی ایم بھی ایسا ہی سیاسی اتحاد ہے یہ بنا تو حکومت گرانے کے لئے تھا،لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کے منصب نے اسے وقت سے پہلے ہی اس حال کو پہنچا دیا کہ اس کی دو بڑی جماعتیں آئندہ اکٹھے چلتی نظر نہیں آتیں، ویسے بھی پی ڈی ایم کے مستقبل کے لئے بہتر ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے اپنی راہیں کل جدا کرنی ہے تو آج ہی کر لیں، بالغ نظری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے کے خلاف الفاظ کی گولہ باری بند کر دے، کیونکہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے انہوں نے مستقبل کے سہانے خواب اکٹھے دیکھے تھے اور سیاسی تعلقات اگلی نسلوں تک نبھاتے رہنے کے عہد و پیمان کئے تھے، اب کسی بھی وجہ سے اگر ایسا ممکن نہیں رہا کہ دونوں جماعتیں اکٹھی چل سکیں تو خوش اسلوبی سے نئے فیصلے کئے جا سکتے ہیں، باہمی جھگڑوں اور تضادات کو نمایاں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اس سے اُن مخالفین کا موقف درست اور مضبوط نظر آئے گا جو اول روز سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ یہ اتحاد جلد ٹوٹ جائے گا۔پیپلزپارٹی اگر سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کا منصب حاصل کرنے ہی کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے تو اس پر جشن مناتی رہے۔ یوسف ر ضا گیلانی اور ان کی جماعت اگلے تین سال کے لئے اس منصب کے تقاضے خوش اسلوبی سے نبھائیں اور جس قسم کی سیاست کو اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں وہ جاری رکھیں۔ اگر پی ڈی ایم کی جماعتیں اُنہیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتیں یا پیپلزپارٹی اس اتحاد کے ساتھ مزید نہیں چلنا چاہتی تو یہ اس کی صوابدید ہے، کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا۔ البتہ باقی جماعتیں بھی اپنی سیاست پر ایک بار پھر نظرثانی کر لیں اور اپنی صفوں کو درست کر لیں۔ پی ڈی ایم بننے کے بعد جے یو آئی کو بھی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب مولانا محمد خان شیرانی اور ان کے ساتھیوں نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست سے اپنے راستے الگ کر لئے یا یوں کہہ لیں مولانا فضل الرحمن نے اُنہیں پارٹی سے نکال دیا۔ مسلم لیگ(ن) میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں، جن کا شروع دن سے خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ان چلنا مشکل ہے وہ  بھی مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کریں اور مستقبل کی سیاست کا نیا رُخ متعین کر لیں۔پیپلزپارٹی نے البتہ یہ واضح کر دیا ہے کہ کوئی اس سے استعفوں کی سیاست کی توقع نہ رکھے، وہ پارلیمینٹ اور نظام کے اندر رہ کر اپنی سیاسی لڑائی لڑنا اور اس سے اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے کوئی اسے کسی مخصوص لائن پر چلنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -