کورونا ایس او پیز پر عمل، کیسے؟

کورونا ایس او پیز پر عمل، کیسے؟

  

لاہور پولیس نے ماسک نہ پہننے والے شہریوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی اور یہاں ایک شہری کے خلاف پہلا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے،حکومت نے کورونا کی تیسری لہر کی تیزی کے باعث فیصلہ کیا کہ گھر سے باہر ہر شہری کے لئے ماسک  پہننا لازمی ہو گا اور یہ بھی طے کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے۔اگرچہ یہ  نہ بتایا گیا کہ مقدمات کس قانون کے تحت ہوں گے تاہم یہ بھی اعلان کیا گیا کہ جو کار والے خلاف ورزی کریں گے، ان کی گاڑی بند کر دی جائے گی، اسی طرح ٹرانسپورٹ والوں کے لئے بھی یہ لازم ہے کہ وہ کوئی سواری ماسک کے بغیر نہ بٹھائیں،خلاف ورزی پر گاڑی بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق قانون کی عدم موجودگی میں یہ پابندیاں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت عائد کی جاتی ہیں اور مقدمہ دفعہ188 کے تحت درج ہوتا ہے، جو قابل ضمانت ہے۔انہی دفعات کے تحت جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ این سی او سی کی اطلاع کے مطابق نہ صرف اموات کی تعداد بڑھی، بلکہ مثبت کیسوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔لاہور، اسلام آباد اور پشاور زیادہ متاثر ہیں، پنجاب حکومت کی طرف سے تو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی اور کیسز بڑھتے رہے تو سمارٹ لاک ڈاؤن سے مکمل لاک ڈاؤن کی طرف بھی جایا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ شہری کورونا کو اہمیت نہیں دیتے،تاجر کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھنا چاہتے ہیں اور بازاروں میں سماجی فاصلے کی پرواہ نہیں کی جاتی، اسی بنیاد پر سخت احکامات جاری ہوئے ہیں، تاہم مشاہدہ یہ ہوا ہے کہ خود سرکاری اداروں اور ٹرانسپورٹ میں ضوابط پر عمل نہیں ہوتا، صوبائی حکومت مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز کا کہہ رہی ہے، لیکن خود ہی کاروباری اوقات دو گھنٹے بڑھا کر8 بجے رات تک کر دیئے، شہریوں کو پابند کرنے کے لئے گرفتاریوں اور جرمانے کی سزا اپنی جگہ، حکومت کو خود بھی اپنے عمل کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ میں عملہ خود عمل کر کے سواریوں کو بھی کہہ سکتا ہے،اسی طرح جو حضرات احتساب پر مامور(پولیس+ شعبہ صحت) ہوں وہ خود ماسک کا اہتمام کرنے کے ساتھ سماجی فاصلے بھی برقرار رکھیں،ہم توقع کرتے ہیں کہ شہری خود اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کے لئے احتیاط کریں گے تاہم احکام نافذ کرنے والوں کو بھی عملی مظاہرہ کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -