سیاسی محاذ پر نئی صف بندی

سیاسی محاذ پر نئی صف بندی
سیاسی محاذ پر نئی صف بندی

  

سیاسی بساط پر ایک واضح تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے ابھی تک اس تقسیم کے جو ہلکے ہلکے خدوخال ابھرے ہیں، ان سے لگتا ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، جماعتی اسلامی، اے این پی، ایم کیو ایم اور بلوچستان کی چھوٹی جماعتیں ہوں گی اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن)، جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمن، جمعیت العلمائے پاکستان نورانی گروپ اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی۔ پیپلزپارٹی اب سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ پی ڈی ایم میں رہے لیکن حالیہ واقعات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پی ڈی ایم کو نقصان پہنچانے پر پیپلزپارٹی کو اتحاد سے نکالا جائے۔ جس پر پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کسی ایک جماعت کی خواہش پر دوسری جماعت کو پی ڈی ایم سے نہیں نکالا جا سکتا مگر پیپلزپارٹی کا موقف اس لئے کمزور ہے کہ اس نے انفرادی فیصلوں کے ذریعے پہلے ہی یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی ترجیح پی ڈی ایم نہیں مثلاً سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ صریحاً پی ڈی ایم کی رضا مندی کے بغیر کیا گیا۔ جب چیئرمین سینٹ، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے امیدواروں کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا تھا تو اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کیوں نہیں ہو سکتا تھا۔ ظاہر ہے اس میں پیپلزپارٹی نے جلد بازی اس لئے دکھائی کہ وہ اپنا اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی تھی۔ پیپلزپارٹی شاید اندر ہی اندر سے اپنی نقب جاری رکھتی اگر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لئے اس طرح کھل کر سامنے نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب مریم نواز کھل کر پیپلزپارٹی پر تنقید کر رہی ہیں اور انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کو بھی سلیکٹڈ کی صف میں شامل کر دیا ہے۔

مریم نواز نے تو اس صورتِ حال کو پی ڈی ایم کے حق میں قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کون اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون عوام کی بات کر رہا ہے۔ اگر پی ڈی ایم سے پیپلزپارٹی نکل جاتی ہے، یا اسے نکال دیا جاتا ہے تو حکومت کے خلاف تحریک کی باگ ڈور مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ آ جائے گی۔ اس وقت تک پی ڈی ایم کو اگر کسی نے فیصلہ کن اقدام اٹھانے سے روکا تھا تو وہ پیپلزپارٹی تھی۔ آصف علی زرداری نے پہلے لانگ مارچ کی مخالفت کر کے پی ڈی ایم کو اسلام آباد جانے سے روکا، پھر استعفوں کے معاملے پر واضح مخالفت کر کے معاملہ اس حد تک الجھا دیا کہ 26 مارچ کا لانگ مارچ بھی ملتوی کرنا پڑ گیا۔ اس فیصلے پر بڑی لے دے ہوئی اور پیپلزپارٹی کے بارے میں کہا گیا کہ دس جماعتیں ایک طرف اور پیپلزپارٹی دوسری طرف کھڑی ہے خیر یہ معاملہ بھی دب جاتا اگر پیپلزپارٹی سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر خفیہ راستہ اختیار نہ کرتی اور اسے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے منوانے کی کوشش کرتی۔ سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوا کر گویا پیپلزپارٹی نے سارے حجاب سارے نقاب ہٹا دیئے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) بھی لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر میدان میں آ گئی مریم نواز کے جارحانہ رویئے کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کو سلیکٹڈ کہہ دیا اور یہ تک کہنا کہ پاکستان کیا دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سرکاری ارکان نے اپوزیشن لیڈر منتخب کیا ہو۔

انہوں نے یہ راز بھی کھول دیا کہ پیپلزپارٹی کیوں پنجاب میں تبدیلی لانے پر زور دے رہی تھی۔ وہ چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتی تھی جو ہمارے اس بیانیئے کی تضحیک تھی کہ اقتدار اکثریت رکھنے والی جماعت کو ملنا چاہئے۔ مریم نواز کی اس بات میں اس لئے سچائی نظر آتی ہے کہ سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نے یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک پنجاب میں لائیں گے، ظاہر ہے یہ تحریک مسلم لیگ (ن) کے بغیر لائی ہی نہیں جا سکتی تھی مگر پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مشورہ تک نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز ہیں اور وہ کسی صورت یہ نہیں مان سکتی کہ 10 ووٹوں والا صوبے کا وزیراعلیٰ بن جائے۔ آصف علی زرداری نے غالباً اس پلان میں ناکامی کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ(ن) کو باور کرایا جائے وہ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اس کا ثبوت سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنا کر دیا مگر شاید اس بار آصف علی زرداری قبل از وقت چال چل گئے۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تو پیپلزپارٹی کو مل گیا تاہم اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ اب یہ تاثر بہت گہرا ہو چکا ہے کہ موجودہ حکومت کو گرانا آصف علی زرداری کا مقصد ہے ہی نہیں۔پی ڈی ایم میں رہ کر اب تک شاک آبزاربر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ جہاں بھی پی ڈی ایم حد سے بڑھتی نظر آتی وہ اچانک نمودار ہو کر اس کا سارا ٹمپو توڑ دیتے۔ آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ اس قسم کی باتیں سامنے آئیں گی تو پی ڈی ایم کی جماعتیں منتیں کرنے بلاول ہاؤس آئیں گی۔ پی ڈی ایم نہ چھوڑنے کی استدعا کریں گی مگر یہاں تو معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور بعض چھوٹی جماعتیں پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے نکالنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

فرض کرتے ہیں پیپلزپارٹی اگر پی ڈی ایم سے نکل جاتی ہے تو وہ سیاسی لحاظ سے کہاں کھڑی ہو گی۔ ظاہر ہے وہ اپوزیشن نہیں کرے گی اور رفتہ رفتہ اس پر یہ چھاپ لگ جائے گی کہ وہ حکومت کی بی ٹیم ہے سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہیں یا اقتدار میں تیسرا آپشن تو کوئی ہے ہی نہیں اس بات کا علم آصف علی زرداری کو بھی ضرور ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کو نہیں چھوڑنا چاہتے تاہم اب تک جو ہو چکا ہے اس نے پیپلزپارٹی کی دو عملی کو بڑی حد تک آشکار کر دیا ہے۔ ظاہر ہے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت العلمائے اسلام ف کو ایسی سیاست منظور نہیں، جو دو عملی کا شکار ہو، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) تو ایک واضح بیانیہ لے کر میدان میں نکلی ہوئی ہے۔ نوازشریف تو دو روز پہلے بھی ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اکیلے بھی ووٹ کو عزت دو کی خاطر نکلنا پڑا تو ہم نکلیں گے۔ میرا اپنا تجزیہ ہے کہ حکومتی حلقے اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خوش فہمی کا شکار ہیں کہ پی ڈی ایم میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گی۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت دونوں ہی حکومت کے خلاف ہر حد تک جانے کی حامی ہیں۔ یہ پیپلزپارٹی تھی جو درمیان میں آ کر ماحول کو ٹھنڈا کر دیتی تھی مریم نواز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت العلمائے اسلام ف تحریک چلانے کے لئے کافی ہیں، سو مجھے تو اس نئی بساط میں پیپلزپارٹی سیاسی تنہائی کا شکار ہوتا نظر آ رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -