پولیس میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت 

پولیس میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت 
پولیس میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت 

  

قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی عوامی یا فوجی حکمران نے پاکستان میں پولیس کے نظام کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی،جو بھی آیا اصلاحات کی تقاریر ضرور کیں مگر پولیس کو قانون کی روح اور میرٹ پر کام کرنے کا عملی مظاہرہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا کیونکہ ہر حاکم وقت نے پولیس کے ذریعے ہی عوام کو قابو میں رکھا ہے اور انہیں آزادی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اگر انگریزوں کی بنائی گئی اس پولیس کو بروقت ٹھیک کر دیا جاتا تو آج اس ملک پر کالے انگریزوں کا راج نہ ہوتا بلکہ عوام کے من پسند افراد عوام کی خدمت میں مصروف ہوتے۔ ماضی قریب میں تخت حکمرانی سے اترنے والے خود پسند حاکموں نے صرف وردی کو تبدیل کر کے یہ سمجھ لیا کہ پولیس اب بالکل پاک صاف ہو جائے گی اور سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس قدر جہالت اور بے عقلی کا مظاہرہ اگر ایک صوبے کا وزیراعلی کرے تو اس صوبے کے عوام کو صبح و شام اکیس توپوں کی سلامی دی جانی چاہیے کہ انہوں نے ایسے ارسطو کو اپنا حاکم منتخب کر لیا ہے۔موجودہ حاکمین کے دور میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بھی آپ بخوبی واقف ہیں سلامی تو ان کی بھی بنتی ہے، ملتان میں ایک ریٹائر آفیسر کو جس طرح نوازا گیا ہے کسی کی جرات نہیں کہ کوئی ایسی تعینا تیوں میں رکاوٹ پیدا کرسکے،یہ حکمران کیا خاک اس سسٹم کو ٹھیک کر سکیں گے، جرائم کو روکنے اور امن و امان قائم کرنے کے لئے کسی بھی ریاست میں پولیس کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے-

گزشتہ 74 سال کے دوران ہم پولیس اصلاح کے لئے مختلف نوعیت کی تدابیر اختیار کرتے رہے ہیں - نئے ناموں کے ساتھ پولیس کے نئے یونٹ تشکیل دیتے رہے ہیں مگر ان تجربات کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا، پولیس کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی- اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہم نے آزادی کے تقاضوں کے مطابق پولیس کا نظام تبدیل نہ کیا- انگریزوں نے متحدہ ہندوستان میں پولیس کا نظام عوام کو غلام اور محکوم رکھنے کے لئے بنایا تھا یہ پولیس ہرگز عوام دوست نہیں تھی- قیام پاکستان کے بعد پولیس میں انقلابی اصلاحات ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے تھی مگر افسوس کہ کسی بھی حکمران نے اس کی جانب کوئی سنجیدہ توجہ نہ دی- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کی پولیس حکمران اشرافیہ کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے جسے عوام کے مفادات کا ہرگز کوئی خیال نہیں ہے-عوام کا پولیس پر اعتماد ہی اٹھ چکا ہے- یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مستقل اور پائیدار امن و امان قائم نہیں ہو سکا اور جرائم کی رفتار بھی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے-آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ برطانیہ نے برطانوی پولیس نظام کے لئے جو اصول طے کیے تھے وہ ہندوستانی پولیس کے لیے پیش نظر نہ رکھے گئے کیونکہ برطانیہ ایک آزاد ملک تھا جب کہ ہندستان ایک غلام ملک تھا لہذا دونوں ملکوں کے پولیس نظاموں میں واضح فرق تھا-

برطانیہ کی پولیس عوام دوست تھی جبکہ ہندوستان کی پولیس عوام کو غلام اور محکوم رکھنے کے لئے تھی-جس صوبے کے آئی جی پولیس کو یہ تک پتہ نہ ہو کہ اس کے ماتحت کون کون آر پی او اور کون کون ڈی پی او لگ رہا ہے اور ان کی تقرری کاکب نوٹیفیکیشن ہو رہا ہے اور کس کی سفارش پر کیا جا رہا ہے؟ اس صوبے کے آ ئی جی پولیس سے امن و امان پر کیونکر اچھی کارکردگی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ حکومت نے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا ہے۔ نئی گاڑیاں، خوبصورت دفاتر اور بہترین قسم کے اسکواڈ لیکن تھانے میں بیٹھنے کے لئے کرسی نہیں سپاہی کے رہنے کے لئے کمرے نہیں۔ تھانہ کی بہتری کے لئے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے جب تک بیٹ افسر، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے عہدہ کے افسران کی حالت نہیں بدلی جاتی، پولیس کا نظام کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا ہے۔ پولیس میں اصلاحات پر کام بہت کم ہو رہا ہے اور اگر ہو رہا ہے تو اوپر کی سطح پر ہو رہا ہے جس کے ثمرات تھانہ تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر کچھ بھی نہیں ہو پا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پولیس کی اصلاحات اور مورال پر ہمہ وقت کام کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں سڑکوں کی تعمیر پر سارا فوکس کیا جاتا ہے۔ہر واقعہ کے محرکات تلاش کرنے اور اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا ہے۔

دنیاکا سب سے بڑا واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ سیکروں لوگ مارے گئے دنیا کی طاقتور ایٹمی طاقت پٹ کر رہ گئی۔ لیکن اس میں ایک سپاہی بھی معطل نہیں ہوا۔ طیارے امریکہ کے تمام سیکورٹی حصار توڑتے ہوئے ٹارگٹ تک پہنچ گئے لیکن انتظامیہ پر کریک ڈاون کی بجائے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر کام ہوا۔ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا۔؟ مثبت اور منفی پہلووں کو کھنگالا گیا اور اس کے لئے نئے ایس او پیز بنائے گئے۔ اور مستقبل میں اس جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تھینک ٹینک نے کام کیا اور سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا گیا۔ لیکن قابل غور امر یہ کہ کیا ہمارے ملک میں بھی کبھی ایسا ہوا؟؟؟جوڈیشل کمیشن، فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ، انکوائری کمیٹی بننے سے کیا عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی پنجاب پولیس جرائم سے لڑنے کی بجائے میدان سے بھاگ رہی ہے۔ اس وقت پنجاب پولیس کا مورال گزشتہ کئی برسوں سے بدستور زبوں حالی کا شکار ہے۔ جب بھی کوئی سکیورٹی کابڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی بڑا ایونٹ ہوتا ہے تو ہر برائی کا ذمہ دار پولیس کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔عدلیہ، حکومت اور ریاست کے تمام ستون ہی پولیس پر دباو ڈالتے ہیں، جس سے پولیس ایک ادارہ کے طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون، سانحہ ساہیوال سامنے ہے کہ با اثر افراد کو مقدمہ سے خارج کر دیا گیا لیکن چند پولیس والوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا،

مزید :

رائے -کالم -