تنخواہ دار طبقے کو پہلی بار گھر بنانے کا موقع مل رہا ہے، وسائل کی کمی ہے مکمل لاک ڈاؤ ن لگا کر کاروبار بند نہیں کر سکتے: عمران خان 

تنخواہ دار طبقے کو پہلی بار گھر بنانے کا موقع مل رہا ہے، وسائل کی کمی ہے مکمل ...

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی دو لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے تاہم وسائل کی کمی کے باعث ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے۔انہوں نے کورونا ویکسین سے متعلق قومی کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کی پہلی دو لہروں میں احتیاط کیا  اور ماسک پہنا تاہم سینیٹ الیکشن کے دوران محتاط نہیں رہ سکا جس کے باعث وائرس کا شکار ہوگیا۔ میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ماسک لازمی پہنیں، پوری دنیا کا یہ تجربہ ہے کہ  ماسک پہننے سے بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں اس لیے ملک میں مکمل طورپر لاک ڈاو?ن نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں بزنس اور فیکٹریاں بند نہیں کر سکتے، امیر ترین ممالک بھی یہ نہیں کرسکتے۔ ہم صرف یہ کرسکتے ہیں کہ ایس او پیز پر عمل درا?مد کریں۔انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے تیسری لہر پہلی دو لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔  جس شرح سے تیسری لہر پھیل رہی ہے ہمارے اسپتال بھر جائیں گے۔ ہم نے جس طرح پہلی لہر میں احتیاط کیا دنیا نے  ہماری مثال دی۔ عوام ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ دنیا میں ویکسین کی قلت ہوچکی ہے، جن ممالک نے ویکسین دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کرپارہے۔ اس لیے وائرس سے بچاو? کے لیے ماسک لازمی پہنیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ  اللہ نے مجھ پراورمیری اہلیہ پرکرم کیا ہے۔ یاد رکھیں کوروناایسی بیماری ہیاگرسینے میں چلی جائیتویہ بڑی خطرناک بیماری ثابت ہوتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی دفعہ تنخواہ دارطبقے کوگھربنانے کا موقع دیا جارہا ہے۔ جولوگ گھرکا کرایہ دیتے ہیں اسی کرائے کواپنے گھرکی قسط دے سکتے ہیں۔خصوصی میراتھون ٹرانسمیشن میں بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پہلی دفعہ شروع کیا گیا اور اس سے جڑی مشکلات کا بھی احساس ہے۔انہوں نے گورنراسٹیٹ بینک اور سربراہ نیشنل بینک کوہدایت دی اور کہا بینک لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔وزیر اعظم نے کہا انہوں نے سنا کہ لوگوں کومشکلات آرہی ہیں اور کہا کنسٹرکشن انڈسٹری کے ساتھ 30 انڈسٹریاں جڑی ہوئی ہے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔انکا مزید کہنا تھا کہ ہاؤسنگ اسکیم سے غریب کو اپنی چھت اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ہمارے ملک پرقرضے چڑھے ہوئے ہیں، ملک کی دولت میں اضافہ ہوگا توقرضوں کوواپس کریں گے۔عمران خان نے کہا گھروں کی تعمیرسے معیشت مستحکم ہوگی۔ کوشش ہے کہ بیواؤں، اسپیشل پرسنز کوترجیح دی جائے۔ تمام بینک قرضوں کے حوالے سے آسانیاں پیدا کریں۔انکا مزید کہنا تھا ہم مسلسل مارگیج کے حوالے سے رکاوٹیں دورکررہے ہیں۔ پوری دنیا میں لوگ بینکوں سے پیسے لیکر گھر بناتے ہیں۔۔ وزیر اعظم نے کہاکہ امیر ملکوں، یورپ اور امریکہ میں ہمیشہ لوگ بینکوں سے پیسے لیکر گھر خریدتے ہیں اور قسطیں دیتے ہیں، پاکستان میں اس کا کوئی رواج نہیں ہے اور یہ پہلی بار کوشش کی جارہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جن کے پاس گھر خریدنے کیلئے کیش نہیں ان کو اپنا گھر بنانے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک دفعہ لوگوں نے اپنے گھر بنانا شروع کر دیئے تو کنسٹرکشن سے جڑی تیس انڈسٹریز کو فائدہ ہوگا اور انقلاب آجائیگا، ملک کی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہو جائیگا، لوگوں کو روز ملے گا،نوجوانوں کیلئے روز گار کے مواقع بڑھ جائیں گے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -