حریم فاطمہ کے قتل کیخلاف کرک اور  کوہاٹ کے عمائدین کا گرینڈ جرگہ

    حریم فاطمہ کے قتل کیخلاف کرک اور  کوہاٹ کے عمائدین کا گرینڈ جرگہ

  

کوھاٹ (بیورورپورٹر) چار سالہ حریم فاطمہ کے قتل کے خلاف کرک اور کوہاٹ کے عمائدین نے گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا جس میں کرک کے سابقہ ممبر قومی اسمبلی شاہ عبدالعزیز ممبر صوبائی اسمبلی میاں نثار گل پاکستان راہ حق پارٹی کے صوبائی صدر مولانا عبیداللہ حیدری سابق صوبائی امیدوار پیر عادل شاہ حیدر وکیل آفریدی محمودالاسلام  ایڈووکیٹ اور دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ حریم فاطمہ کے بہیمانہ قتل پر پورا پاکستان غمزدہ ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے جگہ جگہ احتجاج شروع ہیں کوہاٹ پولیس اور انتظامیہ کی اب تک کی کاوشوں پر ہمیں مکمل اعتماد ہے لیکن 72گھنٹوں کا جو الٹی میٹم دیا گیا تھا اس حوالے سے ایم این اے شہریار آفریدی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ان شاء اللہ 48 گھنٹوں میں ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی لہٰذا ہماری شہر یار آفریدی سے گزارش ہے کہ یہ وعدہ روایتی وعدہ نہیں ہونا چاہئے جسیے مولانا سمیع الحق اور دیگر واقعات کے ملزمان ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے انہوں نے مزید کہا کہ 72 گھنٹے پورے ہونے کے بعد کوہاٹ ہنگو اور کرک کے عوام بلکہ پورے پاکستان کے پختونوں کو سڑکوں پر نکلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور ملزمان کو ایسی عبرت ناک سزا دینگے کہ دنیا دیکھے گی اور آئندہ اس طرح گھناؤنے فعل کی کوئی جرآت نہیں کر سکے گا انتظامیہ ملزمان کی فوری گرفتاری کے بعد ملزمان کے گھروں کو مسمار کریں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لا کر عبرت کا نشان بنائیں اس موقع پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ واقعہ پنجاب میں ہوا ہوتا تو پورے پاکستان کے حکومتی ارکان وہاں پہنچ جاتے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کرک میں اس غمزدہ خاندان سے تعزیت کے لئے لوکل ایم این ایز اور ایم پی ایز کے علاوہ کوئی نہیں آیا جبکہ ایک چھوٹے سے واقعہ پر سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لیتی ہے لیکن کرک کی اس معصوم بچی پر سپریم کورٹ نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے لہذا ہماری سپریم کورٹ سے بھی اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعہ کا سوموٹو ایکشن لیں اور ملزمان کی گرفتاری اور عبرتناک سزا کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں بصورت دیگر یہ عوامی احتجاج روز بروز زور پکڑتا جائے گا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -