پولیس اور اے وی سی سی کی کارروائی، 10سالہ بچہ بازیاب، والدہ گرفتار

    پولیس اور اے وی سی سی کی کارروائی، 10سالہ بچہ بازیاب، والدہ گرفتار

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر)خاتون نے تاوان کے لیے اپنے ہی 10 سالہ بچے کو اغوا کرلیا۔ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی)اور ضلع ایسٹ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 6 گھنٹوں میں بچے کو بازیاب کرالیا۔پولیس کے مطابق 10 سالہ بچے احمد علی کے والد اسد اللہ سے موبائل فون پر تاوان کی رقم طلب کی تھی اور دھمکی دی تھی کہ پولیس کو اطلاع دی گئی تو بچے کو جان سے مار دیا جائے گا۔ضلع ایسٹ پولیس کے مطابق مغوی کے والد نے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ مبینہ ٹاؤن تھانے میں درج کرایا تھا۔ رات دو بجے بچے کے والد کو کال کی گئی اور ڈاؤ میڈیکل اسپتال بلایا گیا۔ تاہم پولیس کے افسران و جوان سادہ کپڑوں میں ڈاؤ میڈیکل اسپتال میں پہنچ گئے،والد رقم 4 لاکھ 50 ہزار لیکر پہنچا تو اسکی بیوی رقم لینے آئی اور بتایا کہ ملزمان دائیں بائیں گھوم رہے ہیں اور انہوں نے مجھے رقم لینے کے لیے بھیجا ہے۔ خاتون رقم لیکراسپتال کے اندر چلی گئی اور اِدھر ادھر گھومتی رہی اور رقم واش روم میں چھپا کر اپنے بہنوئی جو کہ اسپتال کا سکیورٹی گارڈ ہے سے بچہ لے کر باہر آگئی۔ باہر آنے کے بعد پولیس نے معلومات لی تو خاتون نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ وہ اور اس کے بہنوئی نے بچے کے اغوا کو ڈرامہ رچایا تھا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے زیورات گروی رکھے جس کو چھڑانے کے لیے شوہر پیسے نہیں دے رہا تھا۔ اس لیے یہ ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ خاتون نے بتایا کہ موبائل فون کے اندر مردانہ آواز کا سسٹم موجود تھا جس سسٹم کے ذریعے مردانہ آواز میں خود بات کر رہی تھی۔ خاتون حمیرہ اور اسکے بہنوئی ہاشم کے قبضے سے تاوان کی رقم 4 لاکھ 50 ہزار روپے اور موبائل فونز برآمد کرکے دفعہ 54 ضابطہ فوج داری کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیاہے جبکہ مزید تفتیش کے لیے ملزمان کو اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے سپرد کردیا گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -