مظفرگڑھ: جیل میں لڑکے سے مبینہ بد فعلی‘بیرک انچارج سمیت2اہلکار معطل

  مظفرگڑھ: جیل میں لڑکے سے مبینہ بد فعلی‘بیرک انچارج سمیت2اہلکار معطل

  

مظفرگڑھ(نامہ نگار،نیوزرپورٹر)ڈی آئی جی جیل خانہ جات محسن لطیف چوہدری نے ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ میں پہنچ کر نوعمر لڑکے سے قیدیوں کی اجتماعی بدفعلی کے معاملہ پر ایکشن لیتے ہوئے بیرک انچارج سمیت 2 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے یاد رہے کہ مظفرگڑھ کے مضافاتی علاقہ رکھ خانپور کے رہائشی 13 سالہ محمد اصغر ولد محمد اسلم کو کم عمری کی شادی پر میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر تھانہ سٹی مظفرگڑھ پولیس نے 22 مارچ کو مقدمہ درج کرکے ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ بھیج(بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

 دیا تھا محمد اصغر کے مطابق اسے نوعمر بچوں کی بیرک میں رکھا گیا جہاں پہلے سے موجود محمد عامر اور محمد آصف نے رات کے وقت اس کی شلوار کھول کر اس کے ساتھ زبردستی بدفعلی کرنے کی کوشش کی ڈی آئی جی جیل خانہ جات محسن لطیف چوہدری نے ڈسٹرکٹ جیل مظفرگڑھ پہنچ کر واقعہ کی مکمل چھان بین کی اور زیادتی کا شکار نوعمر بچے محمد اصغر اور اسکے والد محمد اسلم کا بیان ریکارڈ کیا بعد ازاں ڈی آئی جی نے بیرک انچارج سمیت دو اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل عامر قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس دن مبینہ متاثرہ بچے کی رہائی کی روبکار موصول ہوئی اسی وقت بچے نے اپنی ساتھ ہونے والی مبینہ بدفعلی کے بارے میں بتایا جس پر قانون کے مطابق جیل کے میڈیکل آفیسر سے بچے کا میڈیکل کروایا گیا جس میں زیادتی کے شواہد نہیں ملے بعد ازاں بچے کی رہائی کی کارروائی کے بعد متاثرہ بچے کو  ایس ایچ او تھانہ سٹی کے حوالے کیا اور بچے کے بیان کے بارے میں بتایا جس پر تھانہ سٹی نے متاثرہ بچے کے بیان پر دو افراد عامر اور آصف کے خلاف مقدمہ درج کیا ہوا ہے انہوں نے کہا ڈسٹرکٹ جیل انتظامیہ کی جانب سے قانون کے مطابق کارروائی کی گئی متاثرہ بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ میں زیادتی ثابت ہوئی تو ملزمان کے خلاف مقدمہ پہلے ہی درج ہے جس پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی جبکہ زرائع سے معلوم ھوا ہے متاثرہ بچے کے والد نے دباو کے تحت راضی نامہ دیدیا ہے۔

معطل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -