محکمہ محنت سندھ میں جعلی دستاویزات کے حامل افسران عہدوں پر قابض 

  محکمہ محنت سندھ میں جعلی دستاویزات کے حامل افسران عہدوں پر قابض 

  

کراچی(این این آئی)محکمہ محنت سندھ کے اداروں سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیوریٹی انسٹی ٹیوشن، ورکرز ویلفیئر بورڈاور لیبر ڈائریکٹوریٹ اینڈ مائینز میں بڑے پیمانے پر ملازمین اور افسران کی جعلی دستاویزات میں بھرتی کا انکشاف ہوا ہے، ادارے کے اندرونی ذرائع کے مطابق 30 فیصد سے زائد جعلی دستاویزات کے حامل افسران اور ملازمین سالہا سال سے ان داروں میں عہدوں پر براجماں ہیں اور مسلسل ترقی بھی حاصل کررہے ہیں ان میں سے بیشتر افسران اور ملازمین کی دستاویزات کی جانچ کے بعد جعلی ثابت ہوچکی ہیں اور مزید ملازمین اور افسران کی دستاویزات کی جانچ کا عمل بغیر کسی وجہ کے روک دیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر کی میٹرک کے بعد کی تمام تعلیمی اسناد اور ڈگریاں جعلی ہیں ان افسران اور ملازمین کو سیاسی جماعتوں اور سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور بڑے پیمانے پر کرپشن، بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں، ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت پاکستان اور اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کے باوجودمحکمہ محنت سندھ کے ادارے سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیوریٹی انسٹی ٹیوشن سمیت کسی بھی ادارے کے سربراہ نے ملازمین کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے لیے اقدامات نہیں کیے اور مسلسل ٹال مٹول کرکے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ہے، جعلی ڈگریوں کے حامل بیشتر ملازمین نے عدالت سے اسٹے آرڈر لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ،اہل اور باصلاحیت ملازمین کی حق تلفی کے مرتکب ہورہے ہیں اس طرح اصلی ڈگری کے حامل ملازمین کی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوا ہے، یاد رہے کہ سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیوریٹی انسٹی ٹیوشن میں جعلی ڈگریوں کی جانچ کے بعد درجنوں ملازمین کو برخواست بھی کیا گیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیوریٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈگریوں کی تصدیق کا عمل روک دیا گیا ہے اور جعلی تعلیمی اسناد کے حامل افسران اور ملازمین اپنے عہدوں پر مسلسل قابض ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -