"جبری مشقت "کے شور کی حقیقت کیا ہے؟

"جبری مشقت "کے شور کی حقیقت کیا ہے؟

  

آج کی دنیا  ناصرف معلومات کے تناظر میں گلوبل ویلیج ہے بلکہ وسیع انفراسٹرکچر اور تیز رفتار ذرائع آمد و رفت کی وجہ سے ایک چھوٹی سی منڈی بن چکی ہے۔ اس منڈی میں تمام ممالک اپنا مال فروخت کرسکتے ہیں۔ تاہم منافع وہ کمائے گا جس کی مصنوعات مسابقتی دوڑ میں آگے ہوں گی۔ حالیہ برسوں میں چین کی مصنوعات نے اپنے اعلیٰ معیار ، مناسب قیمتوں اور تیز رفتار رسائی کی خوبیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے صارفین کی توجہ حاصل کی ہے۔  دنیا کے تمام خطوں میں چینی مصنوعات میں مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ چین کے مختلف علاقوں میں مختلف مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

چین کا سنکیانگ ویغور اختیار علاقہ دنیا میں اپنی کاٹن مصنوعات میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔گزشتہ دو برس کے دوران امریکی اور چند مغربی ممالک نے سنکیانگ کی کاٹن انڈسٹری کو بدنام کرنے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ جھوٹ اور پراپیگنڈہ  ہمیشہ سے مغرب کا ہتھیار رہا ہے۔ اس سے قبل 1990 کے دہائی میں سی این این اور بی بی سی نے سربینوں کی جانب سے البانیوں کی نسل کشی کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں۔ 2003 میں کولن پاؤل نے عراق میں بڑے پیمانے پر خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی کا واویلہ مچایا۔ مغربی میڈیا اور سیاستدان پہلے جھوٹی سنسنی خیز خبروں کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں اور پھر انصاف کے نام پر فوجی کارروائی کرتے ہیں۔

سنکیانگ میں صورت حال مختلف ہے۔ یہاں "جبری مشقت" کی افواہوں کے بعد اگلا قدم عسکری کارروائی نہیں ہو سکتا کیونکہ مغرب میں ایسا سوچنے کی بھی ہمت نہیں ہے۔ یہاں چین کی ترقی کا راستہ روکنے کے لئے غیر سرکاری تنظیموں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ، بی سی آئی ایسوسی ایشن "جبری مشقت" کی افواہوں کا استعمال کرتے ہوئے رکن کاروباری اداروں سے سنکیانگ کی کاٹن مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جبری مشقت کو امریکی سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔1860 کی دہائی میں کاٹن جنوبی امریکہ کی معیشت ، سیاست اور ثقافت کا مرکز تھی، کاٹن پیسے اور طاقت کی علامت تھی۔ اپنی اسی طاقت کو فروغ دینے کے لئے امریکہ نے مقامی اقلیتوں کی زمینوں پر بے دریغ قبضے کئے اور انہیں کام کرنے کے لئے جبری غلام بنایا۔ امریکی حکمرانوں نے روئی کے کھیتوں میں خوفناک "جبری مشقت" کا استعمال کیا۔ ظلم و جبر کا یہ سلسلہ کم از کم سو برس تک جاری رہا۔

اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے کہا کہ امریکہ سے بہتر جبری مشقت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ امریکہ کی تاریخ سینکڑوں سالوں سے ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔چین پر الزام تراشی سے پہلے وہ خود اپنے گریبان میں جھانکیں۔

امریکہ نے "جبری مشقت" کو چین کی کاٹن انڈسٹری پر دباؤ کے ایک بہانے کے طور پر استعمال کیاہے

حالیہ برسوں میں ، امریکی  اور مغرب میں موجود چین مخالف قوتوں نے چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کو بدنام کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے۔ پہلے" تربیتی مراکز" کا شور مچایا گیا۔ تاہم چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات نے 2019 میں "سنکیانگ میں پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کا کام" کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا۔ اس کے بعد ، "جبری مشقت" آہستہ آہستہ امریکی پروپیگنڈے کا  "نیا ہتھیار" بن گئی۔

18 دسمبر ، 2018 کو ، ایسوسی ایٹ پریس نے ایک نام نہاد "تحقیقاتی رپورٹ" جاری کی ، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ کو برآمد ہونے والے سامان میں بڑی تعداد میں "جبری مشقت کی مصنوعات" شامل ہیں۔ سنکیانگ کی مصنوعات کے خلاف "جبری مشقت" کے نام پر تازہ ترین امریکی پابندیاں گزشتہ سال 2 دسمبر کو لاگو ہوئیں۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا  کہ ملک میں داخلے کی تمام بندرگاہوں پر  چین کے شہر سنکیانگ سے کاٹن اور کاٹن کی تمام مصنوعات کو قبضے میں لے لیا گیا ہے کیونکہ ان کی تیار میں" جبری مشقت" کروائی گئی ہے۔

2019 میں آسٹریلیوی ادارہ برائے اسٹریٹجک پالیسی ، بی بی سی اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت کچھ مغربی میڈیا اور غیر حکومتی تنظیموں  نے سنکیانگ میں نام نہاد   " جبری مشفت " کے نام پر سنکیانگ کو بدنام کیا۔  مغربی  ممالک کی مضبوط رائے عامہ کی وجہ سے گیپ ،نائیکی اور ایچ اینڈ ایم سمیت مختلف برانڈز  نے سنکیانگ کی کپاس کی مصنوعات کے  استعمال  کو ترک کردیا۔مغرب کے ڈھٹائی سے "جبری مشقت" کے شور  کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے جواب میں کاٹن انڈسٹری سپلائی چین نگرانی اور سرٹیفیکیشن کی ایجنسی "بیٹر کاٹن انیشی ایٹو آف سوئٹزرلینڈ (بی سی آئی)" کے شنگھائی نمائندہ آفس اور سنکیانگ کپاس کمپنیوں کے ایک گروپ نے سنکیانگ کی کاٹن انڈسٹری کے مختلف امور کا جائزہ لیا۔بی سی آئی شنگھائی کے نمائندے دفتر نے 18 جنوری کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ 2012 میں ، بی سی آئی نے شنگھائی میں باضابطہ طور پر ایک نمائندہ دفتر قائم کیا تھا۔ "ہمارے 8 سالوں کے آڈٹ اور توثیق کے دوران ، ہمیں سنکیانگ میں جبری مشقت اور کاٹن کے معیار کی کوئی خلاف ورزی نہیں ملی ہے"۔ "جبری مشقت" ایک ہتھیار ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ سنکیانگ کی کاٹن انڈسٹری کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -