منڈی بہاؤالدین کی 13 سالہ بچی کوانصاف کب ملے گا؟

منڈی بہاؤالدین کی 13 سالہ بچی کوانصاف کب ملے گا؟
منڈی بہاؤالدین کی 13 سالہ بچی کوانصاف کب ملے گا؟

  

جب کسی کو اولاد کا دکھ پہنچتاہے تواس کااحساس وہی بہترجانتاہے جس پر یہ کرب ہوگزرتاہے،خاص طورپرجب بیٹی دکھ میں ہواورخدانخواستہ اگر اس پرظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو پھروالدین کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ  بس وہی  جانے،کوئی دوسرا  اس کاصحیح معنوں میں ادراک بھی نہیں کرسکتا لیکن ایسے واقعات میں اہل اقتدار،اہل اختیار اورمعاشرے کے وہ افرادجو مظلوموں کے لیے کچھ کرسکتے ہیں ان کے لیے لمحہ فکریہ ضرورہوتاہے کہ اگر وہ مظلوم کے آنسوصاف کرسکتے ہیں تو پھر کیوں نہیں کرتے؟ ایسے افسران جو داد رسی کرنے کااختیاررکھتے ہیں اور وہ نہیں کرتے توپھریقیناً اس کاحساب وہ ذات ضرور لے گی جس نے مظلوم کو پیدا کیااورجس نے اہل اقتدارکوبھی مسند اقتدار تک پہنچایا۔یقیناً وہ ذات ہر کسی سے سوال کرے گی جنہوں نے انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے۔۔

منڈی بہاؤالدین کے علاقہ کدھرشریف کی  تیرہ سالہ بچی کے والدمحمداشرف  سےخود پرقابو نہ رہ سکااوروہ مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے زاروقطار رونے لگا،میں اس کی آواز سے اس کا دردمحسوس کررہاتھا،زاروقطار روتے ہوئے اس غریب انسان نے خود پر ٹوٹنے والے مظالم کی سب کہانی سنائی تومیں نے ارادہ کیاکہ جو کچھ ہوسکا،اس غریب کے لیے کروں گا،یہ سطور لکھنے تک اشرف کوانصاف نہیں ملا،اشرف کے مطابق رسولاں نامی ملزمہ اور اس کی بیٹی اقرا نے ربیعہ کوبہلا پھسلا کر اغواء کیا اورجرائم پیشہ گروہ کے سرغنہ رانانعمان کوفروخت کردیا جواسے  سرگودھا کے گاؤں رتوکالا میں اپنے ڈیرے پر لے کر چلا گیا،ملزمان نے بنت حوا پرجنسی تشددکی کوشش کی مگر انکار پراسے جسمانی تشددکانشانہ بنایاگیا۔بچی کے والدکاکہناہے کہ بھاری رقم کے عوض میری بیٹی کو فروخت کیاگیا،کھاریاں،گوجرانوالہ اورگجرات سمیت مختلف علاقوں کے لڑکوں سے پیسے وصول کرکے عزت کو تار تار کراتارہا۔پھرکسی طرح بیٹی ان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی،اب مظلوم محنت کش پولیس پر بھی نالاں ہے،اس کے مطابق پولیس ان خطرناک عناصرکیخلاف کارروائی سے گریزاں ہے،یہ ملزم اتنے نڈر ہیں کہ عدالت جاتے ہوئے بھی ملزم نعمان نے دوبارہ ان کی بیٹی کو اغواء کرنے کی کوشش کی۔بیٹے کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔اشرف اتنا ڈر گیاہے کہ وہ گھر سے باہرنکلتے ہوئے بھی ہزار بار سوچتاہے کہ کسی جگہ ملزم گھات لگا کر نہ بیٹھے ہوں۔

یہ جہالت کازمانہ نہیں،نہ ہی میں کہوں گا کہ یہاں جنگل کا قانون ہے،ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہیں،یہاں کے قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے،نہ ہمارا مذہب اس بات کی اجازت دیتاہے،ایک غریب پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور ہم صرف ریاست مدینہ کانعرہ لگا رہے ہیں،کیس پولیس کے ریکارڈ میں ہے،ملزم نامزد ہیں پھر انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں نجانے کون سی رکاوٹ ہے؟کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو،کیا قانون کے شکنجے میں نہیں آسکتا؟کیا اسے غریب  کی عزت  کیساتھ کھیلنے کی کڑی سے کڑی سزا نہیں دی جاسکتی؟یقیناًسب کچھ ممکن ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار،آئی جی پنجاب اور تمام متعلقہ اعلیٰ افسران کو اس کیس میں ذاتی دلچسپی لے کر غریب اشرف کو انصاف دلانے کی ضرورت ہے،ورنہ آج نہیں تو قیامت کو کہیں اشرف موچی خدا سے ہی ضد لگا کر نہ کھڑا ہوجائے کہ میرے مالک میں نے کون سا جرم کیاتھا جو میری لخت جگر کی عزت سے کھیلا گیا اور دنیا میں کسی افسر،کسی اعلیٰ وزیرنےانصاف دے کر مجھے دلاسہ تک نہ دیا؟سوال تو اشرف آج بھی کررہا ہے لیکن سن کوئی نہیں رہا۔۔مگر جب قیامت کو سب سے بڑی عدالت لگے گی تو پھر اشرف کی سنی جائے گی اور ذمہ داروں کو سزا بھی ملے گی؟سوال صرف یہ ہے کہ کیا اشرف کی بیٹی   کو انصاف کیلئے قیامت تک انتظار کرنا پڑے گا؟

 بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگرکرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -