علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا کیس، میشا شفیع عدالت میں کوئی گواہ پیش نہ کرسکیں

علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا کیس، میشا شفیع عدالت میں کوئی گواہ پیش نہ ...
علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا کیس، میشا شفیع عدالت میں کوئی گواہ پیش نہ کرسکیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جنسی ہراسانی کیس کا حتمی چالان عدالت میں پیش کردیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق  خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے حتمی چالان میں نو  افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔نامزد کی جانے والی شخصیات میں گلوکارہ میشا شفیع، عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر شامل ہیں۔چالان میں بتایا گیا کہ میشا شفیع گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے واقعے سے متعلق کوئی بھی گواہ پیش نہ کر سکی تھیں۔ گلوکارہ نے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروایا تھا مگر وہ کسی بھی گواہ کو پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ ملزمہ حمنہ رضا طلبی کے باوجود ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئی تھیں۔چالان میں ٹرائل کورٹ سے میشا شفیع، حمنہ رضا اور ماہم جاوید سمیت 9 ہی نامزد ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر ایف آئی اے نے 16 دسمبر 2020 کو عدالت میں چالان جمع کروایا تھا، جس میں میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔مذکورہ کیس سے متعلق علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف 'توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد' پوسٹس کررہے ہیں۔

مزید :

قومی -