ہم میں برداشت نہیں!

 ہم میں برداشت نہیں!
 ہم میں برداشت نہیں!

  

 واقعات بہت چھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ ہمارے قومی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔میں گاڑی چلاتے ہوئے جا رہا تھاکہ رکنا پڑا۔ آگے کسی وجہ سے سڑک بند تھی۔ شاید کوئی حادثہ ہو گیا تھا۔میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کر دی اور راستہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ پانچ سات منٹ انتظار کرنے کے بعد راستہ کھلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو سوچا خود اتر کر دیکھوں۔ سامنے ایک بڑا ہجوم کھڑا تھا۔ میں ہجوم تک پہنچا تو پتہ چلا کہ دو نوجوانوں کی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو اس حادثے کاذمہ دارقرار دے کر نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ دونوں کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔شاید ہمارے عام پنجابیوں کی طرح دھینگا مشتی ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ان کے پاس حوالے تھے جن کو ایک دوسرے کو بتابتا کر ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے یا موبائل پر اپنے ساتھیوں کو بلا رہے تھے۔میں کچھ آگے ہوا تو دو تین نوجوان ملے جو میرے شاگرد تھے۔ بتانے لگے ممی ڈیڈی گروپ ہے۔ لڑتے بھی نہیں، صرف دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ابھی فلاں آئے گا اور آپ کو میری گاڑی ٹھیک کرانی ہو گی۔دونوں نے اپنے دس دس، بارہ بارہ کلاس فیلو زبھی بلا لئے ہیں۔ سب کے پاس گاڑیاں ہیں۔بیس پچیس گاڑیاں ایک جگہ کھڑی ہونے سے راستہ بند ہے۔ آپ سمجھائیں، شاید انہیں بات سمجھ آ جائے۔

میں ہمت کرکے آگے بڑھا۔ سر راہ ملنے والے میرے شاگرد میرے دائیں بائیں تھے۔ میں نے پوچھا کہ بیٹا تم دو،جو لڑ رہے ہو،کس کا نقصان زیادہ ہوا ہے۔ پہلے تو وہ بولے کون ہو تم اور ہمارے معاملے میں کیوں دخل دے رہے ہو۔میرے شاگردوں نے فوراً بتایا کہ ہمارے استاد ہیں، پروفیسر ہیں ان کی بات غور سے سنو۔ یوں میرے شاگردوں کے گھو رنے پر وہ کچھ ڈر گئے اور میری بات سننے کو تیار ہو گئے۔ پتہ چلا کہ دونوں کی گاڑیوں کے بمپر ٹوٹ گئے تھے، باقی ہلکی پھلکی خراشیں تھیں۔ میں نے کہا کہ بیٹا دنیا میں کون سا شخص ایسا ہے جو جان بوجھ کر اپنے لئے خود حادثے کا بندوبست کرتا ہے۔ حادثہ تو بغیر اطلاع دئیے ہو جاتا ہے۔آپ کو اللہ نے گاڑیاں بھی دی ہیں اور ساتھ وسائل بھی۔تھوڑا حوصلہ کرو، تھوڑا سا برداشت سیکھو اور اگر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تو ایک دوسرے کو معاف کر دو، اپنی گاڑیاں خود مرمت کرا لواور لوگوں کوراستہ دو۔ کسی سے کوئی زیادتی ہو گئی ہو تو میں معافی مانگ لیتا ہوں۔میں نے بتایا کہ یورپ میں کسی بھی ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں دونوں فریق مسکراتے ہوئے باہر نکلتے ہیں اپنا اپنا تھرڈ پارٹی انشورنش کا نمبر ایک دوسرے کو دیتے اور اچھے الفاظ میں ایک دوسرے کو خدا حافظ کہتے اپنے اپنے رستے پر لوٹ جاتے ہیں گاڑیوں کی مرمت انشورنس والوں کے ذمہ ہوتی ہے۔ میر ے کہنے پر وہ ایک دوسرے سے اچھی طرح ملے جھگڑا ختم کیا ا ور گھروں کو چل دئیے۔افسوس کہ ہمارے تعلیمی نظام نے انہیں سلیقہ سکھایا ہی نہیں۔برداشت کا جذبہ کیا ہوتا ہے بتایا ہی نہیں۔ قران نے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے حکم دیا ہے۔ ہم نے یہ حکم اپنے طلبا کو پہنچایا ہی نہیں۔ وہ کیا برداشت کریں گے۔

یونیورسٹی میں میرے دو شاگرد آپس میں گتھم گتھا ہونے کے چکر میں تھے۔ لسانی بنیادوں پر پوری کلاس دو حصوں میں بٹ چکی تھی اور اپنے گروپ کی اندھی حمایتی تھی۔ ڈر تھا کہ کسی بھی لمحے دو لسانی گروپوں کے مار ڈھار سے بھرپور منظر نظر آنے لگیں گے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتی ہیں۔ ان نفرتوں کواگر پالنا شروع کر دیں تو فساد جنم لیتے ہیں لیکن اگر ایسی باتیں نظر انداز کر دی جائیں تو انسان بہت سی مشکلوں سے بچ جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے لڑتے کیوں ہو۔ ایک بولا، ”میں اس کے پاس سے گزر رہا تھا تو اس نے مجھے گھورا ہے“۔دوسرا بولا، ”سر یہ عجیب آدمی ہے، میں پاس سے گزر رہا تھا، اس کی طرف ایک عام نگاہ ڈالی تو لڑنے لگا کہ مجھے گھورتے کیوں ہو“۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ بیٹا تم دونوں ایک دوسرے کے کلاس فیلو ہو، دونوں گھر سے دور ہوسٹل میں رہ رہے ہو۔ تمہارا تو ایک دوسرے سے بھائی چارہ ہونا چائیے۔ دیار غیر میں تو ہوسٹل فیلو بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کے دکھ درد کے شریک۔اک دوجے کے ہمدرد، ہم پیالہ،ہم نوا۔ تھوڑا احساس کرو کہ کسی جھگڑے کے نتیجے میں کسی کا کچھ نقصان ہو جائے، کسی کو چوٹ آ جائے تو میلوں دور بیٹھے تمہارے والدین پر کیا بیتے گی۔۔ ان پر رحم کرو۔ لڑائی چھوڑو اور انہوں نے جو امیدیں اور آرزوئیں تم سے وابستہ کی ہیں، انہیں پورا کرنے کا جتن کرو۔ میرے کہنے پر وہ وقتی طور پرسب کے سامنے ایک دوسرے سے گلے ملے مگر کچھ نہیں ہو گا۔ وہ جہالت جو ان کے علاقوں، ان کے قبیلوں اور ان کے آباء نے ان کے دماغ میں ڈالی ہوئی ہے وہ جہالت دور کرنے میں ہمارا نظام تعلیم مکمل ناکام ہے۔

جاپان ایک انتہائی نظم وضبط رکھنے والا ملک ہے۔ راہ چلتے دو اشخاص آپس میں ٹکرا جائیں تو دونوں ایک دوسرے سے معذرت کرتے ہیں گویا دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ غلطی ان کی ہے۔کوئی دوسرے کو الزام نہیں دیتا۔ وہاں لوگوں کو پرائمری لیول پر سب سے پہلے برداشت سکھائی جاتی ہے۔ دوسروں کو سہولت دینا سکھایا جاتا ہے۔لوگوں کا احترام سکھایا جاتا ہے۔ وہ عزت کے معانیٰ سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہاں آپ کو لڑائی جھگڑا دکھائی نہیں دیتا۔ وہاں لوگ اونچا نہیں بولتے۔ وہاں چوری نہیں ہوتی۔ آپ کی کوئی چیز گر جائے وہ آپ کو وہیں مل جائے گی اور اگر زیادہ دیر پڑی رہے تو جو اسے  اٹھائے گا وہ آپ تک پہنچانا اپنا فرض جانے گا۔یہی وجہ ہے کہ جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں کے باوجود جاپانی آج بھی ایک زندہ قوم ہیں۔ اس کی وجہ وہ بھرپور اخلاقی تعلیم ہے جو پرائمری اور سیکنڈری لیول پر جاپانیوں کو دی جاتی ہے۔ افسوس ہمارا نظام تعلیم اس سارے معاملے میں بالکل بانجھ ہے۔ وہ لوگ جنہیں پرائمری اور سیکنڈری لیول تک سکولوں میں پڑھانا ہے انہیں اخلاق، انسانیت اور بہتر قدروں کے بارے کچھ نہیں بتایا جاتا وہ سکولوں میں کیا سکھائیں گے۔ معذرت کے ساتھ کہ وہ یونیورسٹی ٹیچرزجو ان کو ایجو کیشن کی تعلیم دیتے ہیں، جنہیں صاحب کردار ہونا چائیے، سراپا اخلاق ہونا چائیے، بچوں کے لئے رول ماڈل ہونا چائیے، اپنی کلاس پورا وقت لینے سے گریز کرتے ہیں بلکہ کلاس کا چکر لگانا بھی تعلیم پر احسان جانتے ہیں۔۔ یونیورسٹی میں صرف اور صرف سیاست کرتے ہیں۔ ذہنی طور پر گریڈ ہنٹر ہیں، بہتر گریڈ کے لئے وہ کس حد تک جا سکتے ہیں، وہ کیا کہوں شاید وہ بات اچھے استاد کے شان شایان ہی نہیں۔ وہ تعلیم کا بہت کم اور پیسے کا بہت زیادہ سوچتے ہیں۔انہیں تعلیم کے معیار کا کم اور مراعات کا خیال زیادہ ہوتا ہے۔ وہ جذبہ جو استاد کا بنیادی احساس ہے اب کہیں نہیں ملتا۔ ایسے میں ہم ایک اخلاقی بانجھ قوم کا گلہ کرنے کی بجائے اپنے پالیسی سازوں کو سر دار لٹکا دیں تو زیادہ اچھا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -