پولیس کمانڈر نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے 

پولیس کمانڈر نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے 
پولیس کمانڈر نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے 

  

پاکستان میں پولیس کا ادارہ سیاسی اور سرما یہ د ارانہ مفادات کے تحت ہی کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ آئین کے کوڈ آف کرمنل پروسیجر کی شق 154 کے تحت پولیس کو کسی بھی شخص کے خلاف FIR درج کرنے کا اختیار ہے جس کے خلاف کوئی بھی شکایت پولیس اسٹیشن میں لائی جائے۔اِس FIR کے اختیار کو انتہائی استحصالی انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر شکایت کنندہ ایک امیریا سیاسی طور پر مضبوط شخص ہو تو اْسکی FIR فوراً درج کرکے مخالف شخص کو فوراً گرفتار کیا جاتا ہے چاہے شکایت کنندہ نے اْس شخص پر اپنی ذاتی دشمنی یااْس کی کِسی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی نیت سے ہی جھوٹا الزام لگایا ہو۔جبکہ غریب یا سیاسی طور پر کمزور شکایت کنندہ کی طرف سے کسی طاقتور کے ظلم کے خلافFIRکی درخواست پر مختلف حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا ہے اور اگر کبھی ایسی نوبت آبھی جائے کہ پولیس کو کسی امیریا سیاسی طور مضبوط شخص کے خلاف FIR درج کرنی پڑجائے تو وہ FIR میں ایسے نقائص یاکمزوریاں چھوڑ دیتی ہے جسکا فائدہ اٹھا کر اْسے ضمانت مِل جائے یا عدالت اْس پر کیس ہی بد نیتی پر مبنی قرار دے کر اسے رہا کردے۔ FIR درج کرنے کا مطلق اختیار پولیس کولوگوں سے بھار ی ر شوتیں لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔گرفتاری کے دوران بعض اوقات ملزمان کے سہولت کاروں کے نام اْگلوانے یا جرم قبول کر وانے کے لیے ملزمان پر بے پناہ تشدد بھی پولیس کا مخصوص طریقہ کار ہے۔۔ پولیس کے ظلم کی ایک بد ترین مثال پولیس کی طرف سے پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل ہیں۔ یہ پولیس مقابلے زیادہ تر جعلی ہی ہوتے ہیں اور اِن میں جان بوجھ کر ملزمان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف ایک سال میں 2108مرد ملزمان اور 7 عورتوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کردیاگیااور95فیصد پولیس مقابلوں میں کوئی پولیس اہلکار شہید یا زخمی نہیں ہوا۔

سانحہ ساہیوال اور کراچی کے نقیب اللہ محسود قتل کیس اس ظالمانہ پریکٹس کی بد ترین اور ہائی پروفائل مثالیں ہیں۔کوئی بھی ریاست چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی اپنی عوام کے جان و مال کی حفاظت اور امن قائم رکھنے کے لیے جن ریاستی اداروں پر انحصار کرتی ہے اْن میں پولیس کا ادارہ سب سے اہم ہے۔ پولیس کا ا دارہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ادارہ عدلیہ کے ساتھ مل کر ریاستی قوانین کے نفاذ اور حفاظت کا فریضہ ادا کرتا ہے جس کی وہ ریاست علمبردار ہوتی ہے، انگریز دور کے اس نظام سے ادارے بدحالی کا شکار اور عوام ان سے نالاں ہیں آج ہمارے تقریباً تمام سِول اور کرمنل قوانین مثلاً کرمنل پر وسیجر، سِو ل پر وسیجر، قانونِ شہادت،لینڈایکیوزیشن ایکٹ انگریز دور کی پیداوار ہیں جن کی وجہ سے یہاں کی عوام انصاف کے لیے دَردَر کی ٹھوکر یں کھاتے ہیں اور استعماری بنیاد پر کھڑا پورا عدالتی نظام انہیں یا تو اْن کا حق سِرے سے دے ہی نہیں پاتا یااِس میں کئی کئی سال لگا دیتا ہے اور کئی معاملات میں تو ایک شخص کی زندگی میں دائر کیے گئے مقدمات کا حتمی فیصلہ اْس کے مرنے کے بعد سنایا جاتا ہے۔ قتل کے اَنگنت مقدمات جن میں ملزمان کو محض FIR میں نامزد ہونے پر گرفتار کر لیا گیا دس پندرہ حتیٰ کہ 20 سال کی جیل کی قیدبْھگتنے کے بعد شواہد نہ ہونے پر اْن کا ”با عزت بری“ ہونا اِس پولیس اور عدالتی نظام کا نا صرف عوام سے ایک سنگین مذاق ہے بلکہ اِس نظام کے منہ پر خود ایک طمانچہ ہے۔

پاکستان کی پولیس اور عدلیہ کے ظالمانہ پروسیجر(قوانین) اور سْست اور نااہل نظام ِعدل کو دیکھ کر ہی یہ بات کہی جا تی ہے کہ یہاں انصاف حاصل کرنے کے لیے حضرت نوح علیہ اسلام کی عمر، قارون کا خزانہ اور حضرت ایوب علیہ اسلام کا صبر چاہئے۔اداروں بالخصوص پولیس میں بہتری لانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اورکمانڈر کو فری ہینڈ دینے کی ضرورت ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ آئی جی پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان،سی سی پی او فیاض احمد دیو اور پنجاب بھر میں اہم مرکزی عہدوں پر تعینات پولیس آفیسرز امن عامہ،شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ریاستی قوانیں پر عملدرآمد کروانے کے لیے اپنی بھر پور توانیاں استمال کررہے ہیں،مگر نظام میں حائل رکاوٹیں پولیس کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، ملکی تاریخ میں ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آ رہا ہے کہ چہرے بدلتے رہے لیکن نظام کو بدلنے کی جانب کسی نے توجہ نہ دی جس کا خمیازہ ہماری عوام برداشت کرتی چلی آ رہی ہے ہم نے مختصر مدت یعنی دو دو سال بھی چہرے بدل کر دیکھ لیا لیکن اداروں کی حالت بد سے بدتر ہی کی جانب گامزن رہی کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آتی‘ حالات نہیں بدلتے عوام کی حالت میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ آج تک جو مختلف چہرے قوم کے سامنے آئے وہ سب کے سب مکمل طور پر فیل ہو گئے ان کے حکومتی اقدامات کسی طور بھی غریب عوام کے مسائل کو کم نہ کر سکے لہذاضرورت اس امر کی ہے کہ اداروں میں بہتری لانے کے لیے کمانڈر نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے

مزید :

رائے -کالم -