میرا زمانہ میری کہانی

  میرا زمانہ میری کہانی
  میرا زمانہ میری کہانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان ٹیلی ویژن اپنے آغاز میں ایک اُبھرتا ہوا ادارہ تھا جس نے پاکستانی تشخص نمایاں کیا اور قومی کلچر کو پروان چڑھایا۔ ابتدائی زمانے میں پی ٹی وی ایک ہی چینل تھا کسی سے مقابلہ نہیں تھا لیکن پی ٹی وی کی مقبولیت کی صرف یہی وجہ نہیں تھی حقیقت یہ ہے کہ قوم آج بھی پی ٹی وی کے ڈرامے، مزاحیہ پروگرام اور موسیقی کے سروں کو نہیں بھولے۔ خبروں کے شعبے میں مخصوص پالیسی کی وجہ سے جو کچھ ہوتا رہا اُس کا ہم دفاع نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی پوری قوم خبرنامہ بڑے شوق سے دیکھتی تھی حتیٰ کہ صدرِمملکت بھی خبرنامہ دیکھتے تھے،اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے نو بجے نہ دیکھ سکیں تو خبرنامے کی ٹیپ منگوا کر دیکھتے تھے۔ خبروں میں ہم جیسے کارکن تو پردے کے پیچھے ہوتے تھے اگرچہ ہر شارٹ اور ہر لفظ میں ہم لوگوں کا خونِ جگر شامل ہوتا تھا لیکن اِس سارے ڈرامے کے فرنٹ پر کچھ اور لوگ ہوتے تھے۔ پبلک انہیں ہی پہچانتی تھی ایسا ہی ایک دلکش نام مہ پارہ صفدر تھا جنہیں پی ٹی وی نے ملک بھر میں پہچان دی۔ مہ پارہ نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کیا لیکن کسی روایتی ملازمت کی بجائے اُن کا رحجان طبع فلم اور آرٹ کی طرف تھا اگرچہ اُن کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے تھا پھر بھی اُن کی کافی حوصلہ شکنی ہوئی لیکن انہوں نے بہرحال اپنا راستہ بنا لیا اورلاہورسے ریڈیواور ٹیلی ویژن سے خبریں پڑھنے کا آغاز کیا بعد میں جب خبرنامہ نیٹ ورک پر آ گیا تو وہ بھی لاہور سے اسلام آباد آ گئیں اور 1990ء تک پی ٹی وی کی سکرین پر نمایاں رہیں،اِس دور کی یادیں اور پذیرائی اُن کی زندگی کا سرمایہ ہیں،پھر وہ بی بی سی میں چلی گئیں، وہاں اُن کی صلاحیتوں کو اور جلا ملی کیونکہ وہاں معاملہ خبریں پڑھنے تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی جرنلزم کرنا پڑا جس سے پیشہ ورانہ دائرہ کار وسیع ہو گیا۔ بی بی سی سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہیں رہ گئیں اور اب اپنا یوٹیوب چینل چلا رہی ہیں۔
مہ پارہ صفدر نے اِس سفر کی دلچسپ کہانی 463 صفحے پر محیط ایک کتاب ”میرا زمانہ میری کہانی“ میں سمو دی ہے۔ وہ صرف پی ٹی وی اور بی بی سی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اُنہوں نے کتاب میں اپنے خاندانی پس منظر کے علاوہ علم و ادب، آرٹ اور سیاسی ماحول کا بھی احاطہ کیا ہے، اس کے لئے انہوں نے کتا ب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے باب میں اپنے خاندان کی کہانی بیان کی ہے اُن کے والد علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے اور یہاں انہوں نے تعلیمی اداروں میں علم کی روشنی پھیلائی وہ چھ بہنیں تھیں اور بھائی کوئی نہیں تھا اس بارے میں بھی معاشرتی رویوں پر انہوں نے خوب روشنی ڈالی ہے۔ دوسرے باب میں پی ٹی وی سے تعلق کی کہانی بیان کی ہے جس میں پی ٹی وی کے ماحول، پبلک میں پذیرائی کے علاوہ کچھ دلچسپ واقعات لکھے ہیں اور ملک میں بھٹو اور ضیاء الحق کے ادوار پر تفصیلی تبصرہ بھی کیا ہے تفصیل کی کالم میں گنجائش نہیں۔ تیسرے حصے میں بی بی سی سے وابستگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ بی بی سی پر خبروں کے علاوہ سیربین کے پروگراموں کے لئے انہوں نے کئی دفعہ پاکستان کے علاوہ ایران کا بھی دورہ کیا، اس باب میں بی بی سی کے اندرونی ماحول اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں زندگی کے مختلف پہلوؤں خصوصاً پاکستانی نژاد لوگوں کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ پاکستان کے نمایاں ادیبوں، شاعروں اور موسیقاروں سے ملاقاتوں کی دلچسپ روداد بھی لکھی ہے پھر ایران میں اُن کے تجربات بھی بڑے معلوماتی ہیں۔
مہ پارہ نے کتاب میں دفتروں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملے پر کافی تفصیل سے لکھا ہے لیکن اس سلسلے میں ایک وضاحت ضروری ہے۔ صفحہ نمبر 211 پر انہوں نے اس بات پر افسوس کا ظہار کیا ہے کہ پاکستان میں اب تک ایسا کوئی پلیٹ فارم نہیں جہاں خواتین اس سلسلے میں اپنی شکایت کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی حراسگی کے معاملے میں وفاقی اور صوبائی سطح پر محتسب کا ادارہ سالوں سے کام کر رہا ہے اور اسلام آباد میں محتسب نے سال ڈیڑھ پہلے پی ٹی وی کی نیوز کاسٹرز کی شکایت پر سخت ایکشن لیا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنٹرولر نیوز کو ڈسمس کرنا پڑا۔
میں نے نہ صرف اُن کی کتاب خرید کر بڑے شوق سے چند دِنوں میں پڑھی ہے بلکہ اتفاق سے کتاب کی رونمائی کی دو تقریبات میں شرکت بھی کی ہے، کچھ دن پہلے لاہور میں الحمراء میں اُن کی کتاب کی رونمائی کی تقریب میں، میں اور ہمارے سابق کولیگ شاہین فاروق شامل تھے۔ یہ ایک اتفاق تھا کہ میں اُن دنوں لاہور میں تھا۔ تقریب کا اہتمام ایک دانشور، سیاسی ایکٹویسٹ اور پبلشر فرخ سہیل گوئندی نے کیا تھا، تقریب بھرپور رہی۔ اِس میں سٹیج پر تشریف فرما شخصیات کے علاوہ شرکاء نے بھی بڑی تعداد میں اظہار خیال کیا، پھر چند دن پہلے اسلام آباد میں SZABIST یونیورسٹی میں تقریب ہوئی جس کا اہتمام شہید بھٹو فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ یہاں بھی میں نے شرکت کی یہ تقریب بھی بھرپور تھی۔ اگلے دن راولپنڈی آرٹس کونسل میں بھی اُن کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
پی ٹی وی نیوز میں مہ پارہ صفدر کے علاوہ نمایاں چہروں میں خالد حمید، اظہر لودھی، چشتی مجاہد، زبیرالدین، ارجمند شاہین، عشرت ثاقب، شائستہ زید اور عبدالسلام نے بڑی شہرت پائی، لیکن مہ پارہ صفدر نے طویل اور دلچسپ کہانی کو کتاب میں سمیٹنے کا کریڈٹ حاصل کر لیا ہے کیونکہ کسی اور نیوز کاسٹر نے یہ ہمت نہیں کی حتیٰ کہ نیوز اور کرنٹ افیئرز پر پچھلے 55 سالوں میں ہمارے صرف ایک ڈائریکٹر نیوز برہان الدین حسن مرحوم نے 2000ء میں ایک کتاب لکھی تھی اگرچہ اُس کے بعد خبروں کا سین بالکل بدل چکا ہے اور بہت کچھ لکھنے کی ضرورت اور گنجائش تھی ان شعبوں کے سینئرز پر یہ ایک قرض ہے دیکھیں وہ یہ کب چکاتے ہیں۔ حال ہی میں میں نے اپنے حصے کی شمع جلائی ہے او ر”پی ٹی وی میں مہ و سال“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں کچھ اور لوگوں کے علاوہ مہ پارہ صفدر کا انٹرویو بھی شامل کیا ہے۔ 
”میرا زمانہ میری کہانی“ جہلم والے مشہور پبلشرز بک کارنر نے شائع کی ہے اور ہمارے ایک کلاس فیلو اسلم ملک نے زبان و بیان کی نوک پلک درست کی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -