قبرکے پھول

قبرکے پھول
قبرکے پھول

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

رمضان کا جمعہ تھا، مسجد میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی ، جوتوں کے پاس چار سجدوں کی جگہ ملی ، نمازہوئی، دعا مانگی اور مسجد سے باہر نکلے توقریبی موجودقبرستان کی دیوار کے سائے میں چاچا عبداللہ اپنی وہیل چیئر پربراجمان تھا، روایتی دعا سلام ہوئی اور آگے بڑھ گیا، آج خلاف  معمول قبرستان کے باہر ایک ریڑھی بھی موجود تھی جس پر گلاب کی تازہ خوشبودار پنکھڑیاں موجود تھیں، لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر ڈالنے کے لیے خرید رہے تھے ، واپسی پر دوباروہیں سے گزرہواتوچاچا عبداللہ اپنی وہیل چیئرپر دراز ہوچکاتھا، نیند کا غلبہ واضح محسوس ہورہاتھا، لوگوں کو آتے جاتے ایک آنکھ کھول کر دیکھتے اور پھر بند کرلیتے۔
چاہتے نہ چاہتے عجیب سی کیفیت میں دوبارہ رازونیازشروع کیا توان کی آواز بھرآئی، اپنی پلاسٹک چپل کو دھاگاباندھ کر جوتا بنا رکھاتھا، ان کے بچے اب جوان ہیں، محنت مزدوری کرت ہیں، غربت سے انکار نہیں لیکن اللہ نے دو وقت کی روٹی کا سبب بنا رکھا ہے ،اپنی اولاد کاکوئی شکوہ نہیں کیا لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی دل کی بات زبان پرآگئی، بچوں کی ایک عادت انہیں اندر ہی اندرسے کھاچکی تھی جس میں کہیں نہ کہیں ان کااپنا کردار بھی تھا اور یہی پشیمانی ان کو گھرکے باہرایک دیوار کے سائے تلے لے آئی تھی تاکہ دنیا کی گہمی گہمی دیکھ کر اپناغم کچھ لمحوں کیلئے بھلاسکیں۔
اپنی نوعمری ، جوانی اور پھر بچوں کا بچپن انہوں نے ہنسی خوشی گزارا، ہم سفربھی اچھا ملاتھا، فیملی سے ہردکھ ساکھ میں ساتھ ملا، چاچاعبداللہ اپنے بچوں اور بیوی کو بھی ان کی ضروریات کے مطابق نقدی دیتے، ہرضرورت پوری کرتے، گھر کاسازوسامان اپنے ذمہ لیے رکھااور ایک ذمہ دار والد کاثبوت دیتے ہوئے اپنی اولاد کو دی گئی نقدی کے اخراجات کا گاہے بگاہےحساب کتاب بھی لے لیتے، اولاد جوان ہوئی، اپنے ’گھونسلے‘ سے نکلی اور روزگار کا سلسلہ بھی اللہ تعالیٰ نے بنادیالیکن چاچاعبداللہ کیلئے تو وہ ابھی بھی بچے ہی تھے، اس کے رویہ میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی تھی ، جب خیال آجاتاتو بچوں کی بازپرس ہوجاتی لیکن بچے اب والد سے کنی کترانے لگے۔
تنخواہ کی مد میں بچوں کو ملنے والی رقم وہ والدکی بجائے کسی پوچھ گچھ سے بچنے کے لیے والدہ کو پکڑاناشروع ہوگئے تاکہ گھر میں آئی رقم بارے والدہ ہی والد کو کسی مناسب موقع پر آگاہ کریں، ساتھ ہی اب چاچاعبداللہ کی صحت بھی ساتھ چھوڑناشروع ہوگئی، وہ وہیل چیئرپر آگئے ، اب وہ اندر سے ٹوٹ چکے تھے ، ساری عمر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا،ہمیشہ دوسروں کو دیتے، اب انہیں ضمیراجازت نہیں دیتا یاشرم محسوس کرتے ہیں کہ اپنی بیوی یا بچوں سے بھی مانگیں، وہ گھر کے اندرایسی ہی سوچوں سے خاموش جنگ لڑرہے ہیں اور ایسی ہی منفی سوچوں میں کچھ وقفہ لینے کیلئے اپنی وہیل چیئرپر براجمان ہوئے اور گلی میں نکل آئے ۔
ان کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں، آپ کی طرح میں بھی سوچوں کے ایک سمندر میں کہیں گم ہوچکاتھا، پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور کوئی اپنے پیارے کی قبرپر پھول ڈالتادکھائی دیا، اس وقت سے پہلے کہ ہم بھی اپنے بزرگوں کی قبریں یا گلاب کی پتیاں بیچنے والا ریڑھی بان ڈھونڈ رہے ہوں، آج ہی معاشرے میں موجود بزرگوں کا خیال رکھنے کا تہیہ کرلینا چاہیے ، دین بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے ،وہ آپ کے والدین ہوں یا کوئی اور بزرگ محلے دار، چاہے وہ جتنے ہی سخت مزاج ہوں لیکن یقین مانیں، ان کی ان سختیوں میں کہیں نہ کہیں خیر کا پہلو ضرور مخفی ہوگا ، چاہے اس کا احساس ان لوگوں کے دنیا کے جانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -