انتخابات کے بعد؟

انتخابات کے بعد؟
انتخابات کے بعد؟

  

الیکشن ہو گئے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں شاید دوسرے الیکشن ہیں، جن میں عوام نے بھرپور حصہ لیا، حالانکہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کو لانے لے جانے پر پابندی لگا رکھی تھی، اس کے باوجود عوام نے بہت ووٹ کاسٹ کئے۔الیکشن کمیشن نادرہ سے تقریباً تین کروڑ ووٹ لسٹوں سے خارج کروا چکا تھا، ان میں بے شمار لوگوں نے دو دو جگہوں پر ووٹ بنوائے تھے،2013ءمیں عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، نوجوانوں نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا،اس کا کریڈٹ بہرحال عمران خان کو جاتا ہے۔ بے شک میاں شہباز شریف نے پنجاب بھر میں طالب علموں میں لیپ ٹاپ اور پڑھائی کے لئے انرجی سیور تقسیم کئے، لیکن یہ تمام تگ و دو عمران خان کی وجہ سے نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کی گئی۔

 عمران خان نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ دھاندلی ہو گی، ہمیں اس دھاندلی کو روکنا ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کیا منظور تھا کہ الیکشن سے چند روز پہلے عمران خان کو ایک خطرناک حادثے سے دوچار کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے عمران خان کی جان بچائی، لیکن الیکشن مہم متاثر ہوئی۔ عمران خان کی پارٹی کے لوگ، امیدوار ،ورکر تقریباً نئے تھے ،ان کو شاید پتہ ہی نہیں تھا کہ پرانے ٹرینڈ لوگ الیکشنوں میں دھاندلی کن طریقوں سے کرتے ہیں۔

پاکستان کے تمام لوگ جانتے ہیں، خصوصاً پنجاب کے ممبران یا سیاست دان اقتدار کی طرف بھاگتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) میں اکثریت پرویز مشرف کے ساتھیوں کی ہے۔ جب تک سیاسی لیڈروں خصوصاً بڑی جماعتوں کے سربراہوں کو ہر حال میں اقتدار میں رہنے کی عادت اور خواہش ہو گی، پاکستان میں مضبوط حکمت عملی نہیں بن سکتی۔ ہر جماعت کے سربراہ نے بھگوڑے لوگوں کو شامل کر کے اقتدار حاصل کرنا ہے، تو پھر ان لوگوں کی ناجائز خواہشات بھی پوری کرنی پڑتی ہیں۔ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ پنجاب کے کچھ حلقوں میں مسلم لیگ(ن) کے مخالفوں کو الیکشن کے اگلے روز چار بجے تک شہروں اور دیہاتی حلقوں کے رزلٹ نہ ملے، چند حلقوں کے علاوہ بے شک امیدواروں کی ذاتی کوششوں سے یا سرکاری ملازمین بشمول الیکشن ملازمین کے ساتھ بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے، اگر عمران خان بوجہ چوٹ بستر پر نہ ہوتے، تو حالات شاید بدل چکے ہوتے۔

 لاہور کے چند اہم حلقوں میں دھاندلی کے خلاف شور اُٹھ رہا ہے، دھرنے دیئے جا رہے ہیں، الیکشن کمیشن گنتی کیوں نہیں کروا رہا، جب عوام کے پاس ویڈیوز بنی ہوئی ہیں۔ اقتدار کی خواہش رکھنے والوں کو عوام کی رائے کا احترام کرنا پڑے گا، ورنہ صرف عددی برتری حاصل کر لینے سے پاکستانی عوام مطمئن نہیں ہوں گے۔

 عوام کی اکثریتی رائے کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا طاقتور طاقتوں کا کام ہے، مَیں تو جو لوگوں سے سنتا اور دیکھتا ہوں، اس کا لکھ رہا ہوں۔ بہرحال عمران خان کے ساتھ ان کے امیدواروں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے نام پر دھاندلا ہوا ہے، ابھی تو پاکستانی عوام بجلی کی مصیبت میں مبتلا ہیں، گیس کے حصول میں لگے ہوئے ہیں، مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، امن وامان کا مسئلہ پریشان کن حد تک بڑھ گیا ہے، بے شمار لوگوں کا خیال تھا کہ الیکشن 2013ءمیں اُن کے ووٹ سے تبدیلی آئے گی، لیکن ووٹ کا تقدس مجروح کر دیا گیا ہے، پرانے شکاری نئے جال لے کر عوام کو شکار کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملک کو سلامت رکھے، حالات کہیں اتنے خراب نہ ہو جائیں کہ پھر مسلم لیگ(ن) کے لوگ ادھر شامل ہو جائیں، ریکارڈ گواہ ہے کہ اقتدار کے بھوکے لوگوں کے لئے پارٹیاں بدلنا آنکھیں نیچی کر کے وقت گزار لینا معمولی بات ہے۔    ٭

مزید :

کالم -