کاش ایسا نہ ہوتا!

کاش ایسا نہ ہوتا!
کاش ایسا نہ ہوتا!

  

2013ءکے انتخابات آئے اور گزر گئے۔ وہ خدشات بھی دور ہوئے جو ان انتخابات سے قبل ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے۔ بعض نے کہا، انتخابات نہیں ہوں گے۔ یہ برسر اقتدار طبقے کی روایت ہی نہیں ہے۔ اس پراپیگنڈے سے عوام کیا خواص بھی متاثر ہوئے، لیکن جب وقت قریب سے قریب تر ہوتا نظر آیا اور انتخابات ہوتے محسوس ہونے لگےِ تو بڑے بڑے قد آور سیاسی حضرات کہنے لگے، یہ خونی الیکشن ہوں گے۔ بعض تو یہاں تک کہتے سنے گئے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے آخری انتخابات ہوں گے، لیکن اللہ کا شکر ہے، انتخابات کا عمل مکمل ہوا، بروقت ہوا۔ اللہ کا مزید شکر کہ خونی بھی نہیں ہوئے۔ بڑے پُرامن، اور بڑے ہی منظم۔ ملک کے چند حصوں میں اِکا دُکا واقعات سے انکار نہیں۔ چند جگہوں پر توتکار، دھینگا مشتی، پنجہ آزمائی ہوئی، یہ کھیل کا حصہ ہے، جس سے مفر ممکن ہے، نہ انکار کیا جاسکتا ہے۔ مجموعی طور پر حالات قابو میں رہے۔ نگران حکومت کی حکمت عملی بھی اپنی جگہ قابل تعریف ہے، لیکن اصلاً یہ سب اللہ رب العزت کی مہربانی اور عنایت کا کرشمہ ہے۔ اسے اس خطے کی بہتری مقصود ہے۔ سب سے زیادہ قابل مبارک باد اراکین الیکشن کمیشن اور ان کا عملہ ہے، جنہوں نے بہت قلیل وقت میں دن رات ایک کیا اور ان کی محنت و جانفشانی نے اس انتہائی کٹھن عمل کو آسان بنایا۔

الیکشن کمیشن میں سب سے زیادہ تحسین کے لائق فخرالدین جی ابراہیم، چیئرمین الیکشن کمیشن ہیں جو چھیاسی کے پیٹے میں ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بزرگ بزرگ ہوتا ہے۔ اس کا تجربہ اور خلوص نیت رنگ لاتا ہے۔ کسی پولنگ سٹیشن پر کسی کو پریذائیڈنگ آفیسر لگا دیا جائے تو وہ اس ڈیوٹی سے نام کٹوانے کی کوشش میں رہتا ہے، لیکن فخرالدین جی ابراہیم نے اس پیرانہ سالی میں پورے ملک میں الیکشن کرانے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ یہ ان کی ملک و قوم کے لئے بڑی خدمت ہے، جس پر پوری قوم کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔ انتخابات کے نتائج لوگوں نے ٹیلی ویژن پر پورے سکون و اطمینان سے سنے۔ جن پر تبصرے بھی ہوتے رہے۔ نتائج میں مسلم لیگ (ن) سرفہرست رہی۔ عمران خان بھی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں اپنا لوہا منوایا تھا، سیاست کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ اپنی شبانہ روز محنت سے یہ ثابت کر دیا کہ کھلاڑی نظم و ضبط کا پابند بھی ہوتا ہے اور قوموں کی رہنمائی کے اصول بھی جانتا ہے۔

جناب نواز شریف کہنہ مشق سیاستدان ہیں۔ انہوں نے بہت سے جلسوں سے خطاب کیا، لیکن کسی جگہ عقل و شعور سے گری بات کو زبان پر نہ لائے، حالانکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاست میں ہر چیز روا ہوتی ہے۔ اس وقت نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔وہی پاکستان میں مستقبل کے وزیراعظم ہوں گے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے انتہائی اعلیٰ اخلاقی وصف کا تذکرہ یہاں بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو معاف کر دیا اور اس کا اظہار بھرے مجمعے میں کیا۔ اچھے اخلاق کا یہی تقاضا ہے۔ اپنے حریف عمران خان کی عیادت کرنے گئے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں حریف قائدین نے مسکراہٹوں کے تبادلے سے باہم مل کر چلنے کی نوید سنائی۔ انشاءاللہ یہ عمل ملک و قوم کے لئے انتہائی سود مند ہوگا۔

میاں نواز شریف کی کامیابی پر پڑوسی ملک کے سربراہان اور دیگر متعدد بڑی شخصیات کی طرف سے مبارکباد کے پیغامات وصول ہوئے جو اچھی روایت ہے۔ مبارکباد کے پیغامات بعض سیاستدانوں کی طرف سے بھی موصول ہوئے۔ ایک سیاست کار کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نمائندہ جماعت کے سربراہ کو کامیابی پر مبارک دیتے ہیں۔ اخباری اطلاع کے مطابق اسی قسم کی کچھ اور باتیں بھی انہوں نے کیں۔ کاش یہ باتیں نہ ہوتیں، بلکہ کھلے دل سے ملک و قوم کی بہتری کے لئے اچھے انداز میں مبارکباد دی جاتی تو کتنا بہتر تھا۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ ہم میں سے کوئی پنجابی ہے، نہ پٹھان، نہ کوئی بلوچ، نہ سندھی، جب قومیں ان چھوٹے دائروں میں تقسیم ہوتی ہیں، تو باہم کدورت اور دشمنی کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے اور پاکستان کی شناخت لا الہ الا اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ ان سطور کے لکھنے تک مذکورہ قائد کی طرف سے تردیدی بیان بھی جاری ہوگیا، جو بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ یہ بات بھی بڑی قابل قدر ہے کہ پوری قوم نے اپنے ووٹ کے ذریعے روٹی، کپڑے اور مکان کے سراب اور سحر سے آزادی حاصل کرلی ہے۔

اس سحر سے نکل کر ہوش میں آنے تک پوری قوم کو چالیس سال سے زائد کا عرصہ لگا جو اس بات کی علامت ہے کہ اگر قوم کا ہدف بدل جائے یا پاﺅں پھسل جائے تو قومیں بھٹک جاتی ہیں۔ بھٹکی قوموں کو راہ راست کی طرف آنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ کاش ہم اب بحیثیت قوم اپنے ہدف لا الہ الا اللہ کو یاد رکھیں کہ یہی ہدف کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ ہم اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد کا مستحق سمجھتے ہیں کہ قوم نے اجتماعی طور پر فکری راست روی کا ثبوت دیا اور گمشدہ ہدف کو دوبارہ حاصل کیا۔ ہم میاں نواز شریف، ان کے بھائی میاں شہباز شریف اور دیگر سب ساتھیوں کو بھی مبارک دیتے ہیں، اور ان کی راست روی کے لئے دعاگو ہےں۔ آخر میں جناب نواز شریف سے گزارش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس کامیابی کے موقع پر اپنے اس محسن کو بھی دل سے یاد رکھیں،جس نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھا تو دعا دی تھی کہ اے اللہ میری زندگی بھی نواز شریف کو لگا دے، تاکہ وہ ملک و قوم کی بہتر طور پر خدمت کرسکے۔ عین ممکن ہے کہ موجودہ کامیابی اسی دعا کا ثمر ہو۔ ٭

مزید :

کالم -