کتنے ویرانوں کے دل روشن تھے ہم سے ہائے ہم(1)

کتنے ویرانوں کے دل روشن تھے ہم سے ہائے ہم(1)

  



اتوار کی صبح ملنے والا ایس ایم ایس ان الفاظ سے شروع ہوا”ہمارے شاہ جی چلے گئے“....پورا پیغام پڑھے بغیر بھی یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ یہ بہت پیارے، سدامسکرانے اور ہمہ وقت دوستوں کی دلجوئی کرنے والے سید عباس اطہر (شاہ جی) کی دائمی جُدائی کی اطلاع ہے۔ دل میں ایک ہُوک اُٹھی، کاش! مَیں اپنے دوستوں جیسے بزرگ سید عباس اطہر (شاہ جی) کے آخری دیدار سے محروم نہ رہتا اور شاہ جی کا ماتھا چُوم کر انہیں رخصت کرتا ،مگر اپنی صحت اور بچوں کے تقاضے پر چار برس ہوئے گاڑی چلانا ترک کر چکاہوں۔ تنہا سفر سے جی گھبراتا ہے۔ ہجوم میں راستہ بنانے کا حوصلہ زندگی کے طویل اور کٹھن سفر میں کہیں ساتھ چھوڑ گیا ہے.... کہاں؟....اب یہ بھی یاد نہیں ۔کسی کو کندھا مار کر آگے بڑھنے پر بھی طبیعت آمادہ نہیں ہوتی اور دھکے کھانے کا نہ اب حوصلہ ہے، نہ تن میں جان۔ کمزوروں اور ڈھلتی عمر کے لوگوں کے احترام اور پہلے آپ کا زمانہ کب کا گزر گیا۔ اب پہلے ہم کی دنیا ہے جو اجنبی سی لگتی ہے۔ اب بچ بچا کر رہنے میں ہی عافیت ہے، ورنہ سیلانی طبیعت مجھے لے گئی نہ کہاں کہاں.... یہ جو روشنی تھی کہیں کہیں!.... یوں بھی چودھری شجاعت حسین کی یہ بات بھلی لگتی ہے کہ دوستوں اور عزیزوں کا وہی چہرہ ذہن کی سکرین پر رہنا چاہئے جو زندگی سے بھرپور ہو، مگر اپنے شاہ جی تو چہرے کی چمک اور اپنی دائمی مسکراہٹ سے کبھی کا ناتا توڑ چکے تھے۔

ابھی ایک ہفتہ پہلے کی تو بات ہے، اسلم خان کے ساتھ ہسپتال کے کمرے میں شاہ جی کی خدمت میں حاضری دی تھی ۔ ایک بے جان سا لاغر جسم بستر پر پڑا تھا ۔ایک اور بزرگ کی بات یاد آئی جو آخری عمر میں قوت گویائی سے محروم ہوگئے تھے۔ مزاج پُرسی کو آنے والوں کی بات کا جواب لکھ کر دیتے تھے۔ مَیں نے حاضر ہو کر کہا: حضرت صاحب کچھ بولئے! اپنے زمانے کے لاجواب خطیب کا مختصر تحریری جواب تھا:” میاں اپنے حصے کا جتنا بولنا تھا، بول چکے۔ اب سننے کا زمانہ ہے“ہسپتال کے بستر پر کچھ اسی کیفیت میں اپنے شاہ جی بھی تھے۔ اسلم خان نے دریافت کیا:” شاہ جی! انہیں پہچانا“؟.... لبوں کی جنبش حرفِ اظہار سے محروم نظر آئی، البتہ آنکھوں کی گردش نے سوال کا مثبت جواب دیا۔ مَیں نے شاہ جی کا ہاتھ چوما، چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھرا، آنکھیں نم ناک ہو گئیں۔ زبان سے بولتے ،لفظوں سے کھیلتے، افکار و خیالات کے مجسمے نے خاموشی کی ردا اوڑھ لی تھی۔ جانا جا سکتا تھا کہ اپنے شاہ جی کی زندگی کی گاڑی موت کے سٹیشن کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آخر کار اتوار کو وہ آخری سٹیشن آگیا جو دائمی زندگی کا پہلا پڑاو¿ ہے:

کچھ دور تو اربابِ کرم ساتھ چلیں گے

پھر رقص کناں آپ کے غم ساتھ چلیں گے

مجھے یقین تھا کہ عزیزم طارق چودھری، شاہ جی سے آخری ملاقات کے لئے لاہور جائے گا تو مجھے ضرور یاد رکھے گا اور مَیں بھی اپنے شاہ جی کی پیشانی کو بوسہ دے کر رخصت کرنے کی سعادت حاصل کر سکوں گا۔ اسلم خان کراچی میں تھے اور ایک روز قبل لاہور پہنچ گئے تھے۔ ان سے شکوہ بے جا ،مگر برادرم فاروق فیصل خان اور عزیزم طارق چودھری یہ فرض ادا کر کے لوٹ بھی آئے۔ دونوں سے برسوں کا قلبی رشتہ ہونے کے ساتھ ہمسائیگی کا تعلق بھی ہے۔ اب شکوہ کیجئے تو معذرت کا وہ انداز کہ شکوہ ،شرمندگی بن جائے، یوں بھی اپنے شاہ جی گئے کہاں ہیں؟.... ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ دماغ میں ان کے شعر اور لگائی ہوئی سرخیاں گونجتی رہیں گی۔ ”اُدھر تم، اِدھر ہم“ کون فراموش کر سکتا ہے جو تاریخ کی کتابوں کے ایک ایسے باب کا عنوان بن گئی جس میں دوستوں، دشمنوں سب کے چہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔

 شاہ جی سے آخری ملاقات میں انہیں ان کا شعر سنایا گیا تو شاہ جی کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو روشنی نے چمکارا مارا۔ خدا جانے جوانی کے کتنے خوشگوار لمحے دماغ کے پردے پر متحرک ہوگئے۔ شاہ جی مشاعروں کے شاعر نہیں تھے، نہ دوستوں کی محفلوں میں شعر سنانے پر اصرار کرنے والے شعر گو، البتہ ان کی زندگی کے اچھے بُرے وقتوں کوان کی کتابوں میں تلاش کیا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ بقول شاعر تجربات و حوادث کی شکل میں زمانے نے جودیاا سے لوٹانے کا عمل ہے۔ شاعری میں شاہ جی کے اپنے تیور ہیں۔ شعر و ادب کو تنقیدی نظر سے دیکھنا میری بساط سے بڑی بات ہے۔ یوں بھی شاعر اور اس کے اشعار کی پسند و ناپسند کے لئے اچھا قاری نقاد کا محتاج نہیں۔ اس لایعنی بحث کو چھوڑتے ہیں۔ شاہ جی کا شعر سُنئے:

کھڑکی کھول کے بال بنانا عشو اس گلفام کا تھا

اور محلے کے گھر گھر میں چرچا میرے نام کا تھا

اپنی مرضی کامنظرذہن میں بنالیجئے،اپنی پسند کاچہرہ اس میں سجا لیجئے۔سارے اجزاءتو شاہ جی نے دو مصرعوں میں فراہم کر دئیے ۔اپنے سیّد عباس اطہر بڑے آدمی تھے ۔کئی ایسی خوبیوں کے مالک، جن کی تحسین کرنے والے بھی کم کم دستیاب ہیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ شاہ جی شاعر بڑے تھے یا بڑے اخبار نویس تھے۔ ایک صاحب طرز کالم نگار تھے ،ایک عمدہ نیوز ایڈیٹر تھے،اچھوتی سرخیوں کے موجد تھے یا ایک اچھے منتظم تھے جو ہمہ قسم کی اخباری مخلوق سے نہایت ہنر مندی سے اخبار کی پالیسی پر حرف بہ حرف عمل کرانے کا فن جانتے تھے۔ اتنے خانوں میں منقسم انسان پُرسکون اور مطمئن زندگی کیسے گزارتا ہوگا؟ یہ اللہ جانتا ہے یا شاہ جی بتاسکتے تھے، جو اب ہم میں نہیں ہیں ، مگر مجھ سمیت ان کے ہزاروں پرستار، ان کے ساتھ کام کرنے والے، ان کے ماتحت ،ان کے شب و روز کے ساتھی ،کسی ایک نے بھی انہیں مضطرب اور بے چین نہیں دیکھا۔ وہ ان اداس لمحوں کو بھی مسکراہٹوں میں دبا دیتے جب ان کے تراشے ہوئے بت بولنے کے قابل ہوتے تو سنگ تراش پر برسنےلگتے اور آج شاہ جی کی موت کا تذکرہ اپنی تحریروں میں یوں کرتے ہیں،جیسے اجنبی دیس کے ناآشنا کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجھے شاہ جی کی قیادت میں کام کرنے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی ،مگر پہلی ملاقات کے بعد ان کی محبت و شفقت میں کبھی کمی بھی نہیں آئی۔

میری پہلی ملاقات سیّد عباس اطہر سے تہتر کی دہائی میں ہوئی اور برادرم مختار حسن مرحوم اس کا سبب بنے۔ ہم دونوں کا تعلق محترم مجیب الرحمن شامی کے ہفت روزہ ”زندگی“ سے تھا اور سیّد عباس اطہر پیپلز پارٹی کے ترجمان روزنامہ”مساوات“ کے مدیر اور محترم توصیف احمد خان بھی ”مساوات “سے وابستہ تھے۔ نئی نسل آگاہ نہ ہو تو عرض ہے کہ ہفت روزہ ”زندگی“ اور روزنامہ ”مساوات“ لفظی جنگ و جدل میں دو متحارب قوتوں کے مورچے تھے۔ ”زندگی“ تو کسی مخصوص جماعت کا ترجمان نہیں تھا ،البتہ جمہوریت کو بانداز ِدیگر چلانے کی بساط بھر مزاحمت کرتا تھا۔ انہی دنوں برادرم مختار حسن کے ساتھ لکشمی چوک کی ”مجلس“ میں جانے کا اتفاق ہوا ۔وہاں بہت سے احباب موجود تھے ۔کچھ شناسا بھی اور ناآشنا بھی! مگر سب نے برادرم مختار حسن مرحوم کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا۔ ان میں دوسروں کے علاوہ شاہ جی بھی تھے اور توصیف احمد خان بھی ۔خاصی طویل مجلس میں سیاست پر کم ہی بات ہوئی ۔

اپنے وقت کے نامور رپورٹر محترم سعادت خیالی کے لطیفے اور ان پر بے ساختہ قہقہوں نے سیاست کی تلخی کی طرف آنے ہی نہ دیا، حالانکہ برادرم مختار حسن مرحوم ،بھٹو مرحوم کے اندازِ سیاست کے شدید ناقد، گپ بازی سے اجتناب کرنے والے ،شدید جذباتی انداز میں سیاست پر بات کرنے کے عادی تھے اور شاہ جی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پیپلز پارٹی کے شیدائی ،بلکہ عشق کی اس بلندی پر مقیم، جہاں من و تو کے جھگڑے تمام ہو جاتے ہیں ،مگر محفل میں نہ شاہ جی کا عشق جاگا نہ مختار حسن کے جذبے قابو سے باہر ہوئے۔ محترم توصیف احمدتویوں بھی خاصے متوازن انسان ہیں۔میرے لئے یہ محفل ایک حیرت کدہ تھی، جس نے شاہ جی کا گرویدہ بنا دیا۔ پھر نہ ”مساوات“ رہا نہ ”زندگی“مگر سیّد عباس اطہر کا جذبہ عشق مدھم نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر کہ اس نے بے طلب میری طلب پوری کی۔ آسودگی کے طویل لمحے عطا کئے۔ اولاد کے فرضوں سے بہ احسن سبکدوش کیا۔ میرے مولا نے وہ سب کچھ دیا، جس کی تمنا کی اور وہ بھی جو حاشیہءخیال میں بھی نہ تھا، تاہم گزرے ہوئے مہ و سال کے ناروا سلوک نے ذہن میں جو جالے بنے تھے ،کوشش کے باوجود انہیں صاف نہیں کر پایا، تاہم شاہ جی کی محبت اور دلنواز رویے دل میں گھر کرتے چلے گئے۔ اب بھٹو ہیں، نہ ان کی پیپلزپارٹی، نہ ان کی صاحبزادی۔ ایک قبضہ ¿بے جا ہے جو اس پارٹی کے نقوش مٹاتا چلا جا رہا ہے۔(جاری ہے) ٭

مزید : کالم