تبدیلی کے منکر پچھتائیں گے

تبدیلی کے منکر پچھتائیں گے
تبدیلی کے منکر پچھتائیں گے

  

حالات بدل رہے ہیں ،مگر اب بھی کچھ لوگ اسی ماضی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جس سے خلقِ خداوہی کچھ دیکھتی تھی، جو اسے دکھایا جاتا تھا۔ استحصال کے متعدد روپ تھے، جن کے زیر اثر عوام اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے، مگر استحصال اور جبر کب تک چل سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کا غم کھائے جا رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ دھاندلی سے مینڈیٹ حاصل کرنے والوں کو خیبر پختونخوا میں دفن کر دیں گے۔ ساتھ ہی یہ نعرہ بھی لگایا کہ وہاںلا دینی قوتوں کو پنپنے نہیں دیا جائے گا اور تہذیب و دینی اقدار کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ جب ساری باتیں مفروضوں کی بنیاد پر ہوں، تو ان کا مقصد سوائے گمراہی پھیلانے کے اور کیا ہو سکتا ہے۔

مجھے تو یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی طالبان کی پسندیدہ جماعت ہے اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اسے لا دینی قوتوں کی نمائندہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔”جائیں تو جائیں کہاں“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی بار مولانا صاحب کے لئے ایک ناموافق، صورت حال پیدا ہو چکی ہے ا،نہیں کہیں بھی کلیدی اہمیت حاصل نہیں رہی، حتیٰ کہ وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس فرسٹریشن کا شکار ہو کر وہ بے بنیاد الزامات کو عام کریں۔ا نتخابی مہم کے دوران ہی انہوںنے عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا اور ان کی شخصیت پر سنگین الزامات لگائے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مولانا صاحب پہلی بار ایک ایسے راستے پر چل نکلے ہیں جو ان کے شایان شان نہیں۔اس وقت مولانافضل الرحمن ایشوز کی بجائے انفرادی الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا دعویٰ تو سبھی کرتے ہیں ،لیکن جب اس دعوے کی سچائی کو پرکھنے کا موقع آتا ہے تو ناکام نظر آتے ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں عوام ایک خاص موڈ کے تحت حکومتوں کی تشکیل کے بعد ان کی کارکردگی کو جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب مذہب کے نام پر سیاست ہو یا علاقوں یا نسل کی بنیاد پر، اس کے بارے میں عوام کے اندر عدم دلچسپی کا عنصر نمایاں نظر آ رہا ہے۔ خیبر پختونخوامیں مذہبی جماعتوں کی بجائے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملنا اس کا ثبوت ہے تو سندھ میں ایم کیو ایم کو بھی پاکستان تحریک انصاف کو پڑنے والے ووٹوں سے پہنچنے والا دھچکا اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک خاص جبر اور خاص خود ساختہ نظریئے کی بنیاد پر آپ لوگوں کو یرغمال نہیںبنا سکتے۔

الطاف حسین ایک زیرک انسان ہیں، وہ حالات کی کروٹ کو سمجھ گئے، انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی طرح الزامات کا تیر برسانے کی بجائے فوراً خود احتسابی کا راستہ اختیار رکیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب مہاجروں کے قتل عام کی باتیں کوئی نہیں سنے گا۔ مخالفین پر ٹارگٹ کلنگ کا الزام بھی بے معنی نظر آئے گا، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب تک ایم کیو ایم پر لگی یہ چھاپ ختم نہیں کی جائے گی کہ وہ ایک دہشت گرد جماعت ہے یا بھتہ مافیا کی سرپرست ہے، اس وقت تک ایم کیو ایم کی کمزور ہوتی گرفت کو سہارا نہیں دیا جا سکتا۔ الطاف حسین نے دوسروں کی طرف توپوں کا رخ کرنے کی بجائے اپنی طرف کر لیا۔ یہ مان لیا کہ ایم کیو ایم میں ٹارگٹ کلرز بھی ہیں اور بھتہ خور بھی، قبضے کرانے والے بھی ہیں اور قبضے کرنے والے بھی، تاہم انہوں نے ان سب سے قطع تعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس اعلان میں کتنی سچائی ہے اور اس پر کس حد تک عملدرآمد ہوگا؟ یہ دیکھنا چاہئے کہ الطاف حسین غلط بات پر اڑے نہیں رہے، وہ اس کے برعکس راستے پر چلے اور بڑی حد تک ایم کیو ایم کی ساکھ اور تنظیم کو بچانے میں کامیاب رہے۔

یہ سب کچھ مزید تبدیلی کا پتہ دے رہا ہے، جو ہمارے سیاسی نظام میں بڑی تیزی سے آ چکی ہے ۔یہ اس تبدیلی کا اثر ہے کہ جو انتخابی دھاندلی کے الزام لگا رہے ہیں، وہ بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ نظام کو چلنا چاہئے، پاکستان کو آگے بڑھنا چاہئے، وگرنہ ہم نے اپنی سیاسی تاریخ میں 1977ءکے انتخابات میں دھاندلی کے الزام پر حکومت کی برطرفی کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی لٹیا بھی ڈوبتے دیکھی ہے۔ گویا یوں کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدانوں میں ایک بلوغت نے جنم لیا ہے، وقت گزرنے کا خوف ان کا مسئلہ نہیں رہا ،بلکہ اب ان کویہ خوف دامن گیر ہے کہ کہیں ان کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے۔ اس تناظر میں جب مَیںمولانا فضل الرحمن کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے مایوسی ہوتی ہے۔ حالانکہ جمہوری سوچ کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کو مبارکباد دیں اور اس کا مینڈیٹ بھی قبول کریں، مگر ایسا کرنے کی بجائے وہ انہیں دفن کرنے کی بات کر رہے ہیں اور مسلسل ایک ایسی کشیدہ فضا کو جنم دینے میں کوشاں ہیں، جو کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں۔

 حیران کن امر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ پانچ برسوں میں وہاں اے این پی کی حکومت پر ایسی کوئی تنقید نہیں کی، حالانکہ وہ واضح طور پر طالبان کے بھی خلاف تھی اور مذہبی حوالے سے بھی اس کے تحفظات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ یہ بات تو اب عیاں ہو چکی ہے کہ جب جمہوری حکومت پانچ برس کا عرصہ مکمل کرتی ہے تو عوام کی نظر میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ہوتا ہے، پھر وہ کوئی رعایت کرتے ہیں اور نہ کسی خوشنما نعرے میں آتے ہیں، دیکھا جائے تو عوام نے گزشتہ پانچ برسوں میں اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے ووٹ کے ذریعے انتقام لیا ہے ،خود مولانا فضل الرحمن کی جماعت اس کی مثال ہے تو پیپلزپارٹی ،اے این پی اور ایم کیو ایم بھی اس سے مبراءنہیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ اگرچہ کافی نشستیں لینے میں کامیاب رہی، مگر ایک طرف کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی دھاندلی کے الزامات اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کو متحدہ کے مقابل پڑنے والے ووٹ اس امر کا ثبوت ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ آگے نہیں بڑھی پیچھے ہٹی ہے۔ آج بہت سے مبصرین متحدہ کے اکابرین کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ حکومت میں شامل ہونے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھے، تاکہ عوام میں اس کی ساکھ بحال ہو سکے۔

یہ سب حقیقتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ معاشرہ سوچ اور شعور کے حوالے سے ایک تبدیلی کی زد میں ہے۔ نوازشریف کی ترجیحات اور مصروفیات کو دیکھ کر یہ گمان گزرتا ہے کہ وہ تبدیلی کے اس عمل سے بے خبر نہیں اور اپنی حکومت کو اس طور پر چلانے کا عزم رکھتے ہیں کہ عوام اس سے مایوس نہ ہوں۔ یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ کیسی ٹیم لے کر آتے ہیں اور کس حد تک سیاسی عزم کے ساتھ قومی و عوامی فلاح و بہبود میں فیصلے کرتے ہیں، تاہم یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی حکومت نوے کی دہائی میں قائم ہونے والی حکومت کاپرتو نہیں ہو گی۔ اس کی ایک وجہ تو یہی تبدیلی کی فضا ہے دوسری سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ نوازشریف نے گزرے ہوئے پندرہ برسوں میں دنیا کی سیاست کو قریب سے دیکھا ہے، شعوری لحاظ سے پختگی حاصل کی ہے اور ان کے اندر جمہوری سوچ کا دائرہ پہلے سے کہیں وسیع نظر آتا ہے۔ وہ یقیناً حالات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں گے اور ایسے فیصلے کبھی شکست کا باعث نہیں بنتے۔   ٭

مزید :

کالم -