کیا طالبان سے مذاکرات کئے جائیں؟

کیا طالبان سے مذاکرات کئے جائیں؟
کیا طالبان سے مذاکرات کئے جائیں؟

  

طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جانے چاہئیں یا نہیں کئے جانے چاہئیں، یہ سوال عامتہ الناس میں بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے اور سنجیدہ فکر حلقے بھی اس الجھن کاکوئی قابل ِ عمل حل نکالنے کی کوشش میں ہیں۔

اس مسئلے کے در رُخ ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے اسی طرح مختلف ہیں جس طرح کسی سکے کے رُخ شکل و صورت سے ایک نظر آتے ہیں ،لیکن قریب سے مشاہدہ کریں تو دونوں اطراف پر کندہ عبارتیں اور صورتیں مختلف ہوتی ہیں، لیکن اگر سکے کے دو رُخ ناقدانہ نگاہوں سے گزارے جائیں تو ایک دوسرے کا تسلسل ہوتے ہیں اور ایک رُخ کو دوسرے رُخ کی تشریح ِ مزید کہا جا سکتا ہے۔

ملک دشمن عناصر اور ملک دوست عناصر بھی ایک ہی سکہ ہیں۔ کسی خود کش بمبار یا کسی امن پسند شہری کی شکل وصورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ جو فرق بھی ہوتا ہے ، وہ ان دونوں کے اعمال و افعال کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور یہ اعمال و افعال بھی کیا ہیں؟.... یہ وہ پریکٹس ہے جس کی تھیوری گویا اس کی ماں ہے.... تو پھر کیوں نہ اس فساد کی جڑ ”ماں“ کا تجزیہ کیا جائے اور دیکھا جا ئے کہ یہ ماں سراپا شفقت و محبت کیسے بنتی ہے اور ڈائن اور چڑیل کیسے ہو جاتی ہے؟ کوئی ماں یا کوئی عورت پیدائشی طور پر نہ فرشتہ سیرت ہوتی ہے نہ چڑیل صورت.... جن کو ہم طالبان کہتے ہیں، وہ پیدائشی خود کش بمبار کی صورت میں آنکھ نہیں کھولتے.... اس لئے ان کے قاتل یا رحم دل، کافر یا مومن، آگ یا پانی اور اچھے یا بُرے ہونے کی جو وجوہات ہوتی ہیں، ان پر غور کرنا چاہئے۔

سب سے پہلے ہمیں دو سوالوں کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ اگر سارے نہیں تو90فیصد دہشت گرد (جن کو ہم اوپر طالبان لکھ آئے ہیں) مسلمان کیوں ہوتے ہیں اور دوسرے ان90فیصد مسلم دہشت گردوں میں سے 90فیصد کا تعلق پاکستان سے کیوں ہوتا ہے؟.... پاکستان میں ایسی کون سی ”مقناطیس“ کی پہاڑی ہے کہ جس کی طرف تمام (یا زیادہ تر) دہشت گردوں، انتہا پسندوں، شدت پسندوں یا طالبان کا ”لوہا“ کھنچتا چلا آتا ہے، جب تک ہم اس تھیوری کا اول و آخر نہیں جانیں گے،اس کے پریکٹیکل مظاہرے ویسے کے ویسے ہی رہیں گے، دوسرے لفظوں میں اگر ہم پاکستانی ِ حکومتی سطح پر طالبان سے مذاکرات کریں گے، تو ہمیں ان کی اساس اور بنیادی وجوہات، اعتقادات اور تقاضوں کا سراغ لگانا ہو گا۔ ہم آج تک میڈیا کے توسط سے دہشت گردی کی جن وجوہات کا پوسٹ مارٹم کرتے رہے ہیں، ان کو دُور کرنے کی کوشش ہم نے شائد ہی کبھی کی ہو .... یہ تصور کر لینا کہ دہشت گردوں کا ایک بین الاقوامی قبیلہ ہے، وہ ایک ایسا ملک تلاش کر رہے ہیں جو ان کا مسکن و مامن ہو، جہاں پر وہ ’ آرام اور سکون“ سے بیٹھ کر اپنے عقیدے کے مطابق نظام ِ عالم کو بدل سکیں.... میرے خیال میں محض پراپیگنڈہ ہے، خرافات ہے ،بلکہ محض بکواس ہے۔

یہ پراپیگنڈہ اور یہ طرز فکر کس کی ایجاد ہے، اس پر اگر بحث شروع کریں گے تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ پاکستان کے ایک عام شہری سے لے کر اقتدار کے رکھوالوں تک سب کو معلوم ہے کہ طالبان نے گزشتہ ڈیڑھ عشرے تک کیا کیا ”معرکے“ مارے ہیں اور کون کون سی”فتوحات“ حاصل کی ہیں۔

طالبان کے سکے کا ایک رُخ یہ ہے کہ وہ دھماکے کرتے ہیں، بلا لحاظ عمر و جنس و مقام و مراتب بے دریغ خونریزی کرتے ہیں۔ سکولوں کو مسمار کرتے ہیں۔ روشن اعمالی، فیشن اور ہائی فائی طرز زندگی کے پُرتعیش کلچر کو مٹا دینا چاہتے ہیں اور گردش ایام کو کئی سو برس پیچھے کی طرف دوڑانے کی شدید تمنا رکھتے ہیں.... سکے کے اسی رُخ پر یہ عبارت بھی کندہ کی ہوئی ہے کہ اس قسم کی دقیانوسی فکر کا خالق کون سا طبقہ ہے، اس کو فنانس کون کرتا ہے اور ان کا علاج کیا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو ایک پاکستانی فوجی صدر یہ بتایا کرتے تھے کہ ان”بزرگوں“ کی نرسری کہاں ہے، ان کو خرچہ پانی کون دیتا ہے، کون ٹریننگ فراہم کرتا ہے، ان کے مختلف کیڈرز کون کون سے ہیں۔ اس قبیلے کا سربراہ کون ہے.... کون ہے جو اس پیچیدہ نظام کا اصل تخلیق کار ہے.... یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ہر طالبان اگرچہ پشتو بولتا ہیں، لیکن ہر پشتو بولنے والا طالبان نہیں ہوتا.... آج ان کو اپنے اس بیان کو تبدیل کرنا پڑے گا کہ ہر طالبان صرف پشتو نہیں بولتا، پاکستان کی دوسری علاقائی زبانیں بولنے والے بھی اب ”طالبانی“ کر رہے ہیں اور اپنے پشتو بولنے والے پیٹی بھائیوں سے زیادہ”موثر کارگر“ طالبان ہیں۔

اور اسی سکے کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ ہم نے کبھی طالبان کو اکٹھا کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کی اس معکوس تبدیلی کی اصل وجہ کیا ہے؟.... انہوں نے یہ پیشہ کیوں اختیار کیا؟.... کیا واقعی ان کے سپورٹر وہی ممالک ہیں جو عربی زبان بولتے ہیں؟.... یا ایسے بھی ہیں جو عربی کی بجائے جدید ترین اور ایک عالمگیر زبان بولتے ہیں؟.... کیا ہم نے کبھی کوشش کی ہے کہ ان سے تصادم کی راہ اختیار کرنے کی بجائے تکلم (ڈائیلاگ) کی راہ اختیار کی جائے؟

راقم السطور ملٹری ہسٹری کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہے۔ اس ہسٹری کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اگر دشمن کو شکست دے کر یہ سمجھ لیا جائے کہ خطرہ ٹل گیا ہے ، تو یہ ایک سخت خود فریبی ہو گی۔.... ساری عسکری تواریخ ان حقائق سے بھری پڑی ہیں کہ دشمن کے ساتھ اگر تصادمی فارمولا اختیار کر کے نقصان اُٹھانا پڑے تو بہتر ہو گا کہ تعاونی فارمولا اختیار کیا جائے جو تصادمی فارمولے کے سکے کا دوسرا رُخ ہے۔

انگریز جب سترہویں صدی میں برصغیر میں آئے تو ان کی تعداد اور عسکری استعداد کیا تھی؟.... کیا وہ مغلوں، مرہٹوں، جاٹوں، راجپوتوں اور سکھوں کو اپنے ”فنون ِ جنگ“ اور ”سلاحِ جنگ“ کے زور پر زیر قبضہ لائے؟ .... نہیں اور ہر گز نہیں.... انہوں نے جس ہندوستانی فوج کو دھوکے، فریب،بہکاوے، دھونس، دھاندلی، عاجزی، انکساری، سازش اور لالچ سے Win over کیا، اس کو باقاعدہ ایک فوجی تنظیم میں ڈھالا۔ ان کی باقاعدہ رجمنٹیشن کی۔ یہ بنگال آرمی، مدراس آرمی، بمبے آرمی، پنجاب رجمنٹ، بلوچ رجمنٹ، گورکھا رجمنٹ، فرنٹیئر فورس.... کس کس کا نام لوں.... ان سب کو تشکیل کیا اور ان سے وہ کام لیا جو برصغیر کا کوئی بھی دوسرا مسلم یا غیر مسلم حکمران نہ لے سکا.... البتہ ایک بات جو خاص نوٹ کرنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس انڈین آرمی میں نہ کوئی مغل رجمنٹ کھڑی کی اور کسی نہ مسلم یا غیر مسلم کے ہاتھ میں فورسز کی کمانڈ دی.... یہ دو باتیں، انگریزوں کی کامیابی کی دو بڑی وجوہات تھیں۔

1846ءمیں جب انگریزوں نے سکھوں کی فارن ٹرینڈ خالصہ آرمی کو شکست دی تو اس شکست خوردہ فوج کو ”کھلا“ نہ چھوڑا ،بلکہ اس کو باقاعدہ اپنی فوج کا حصہ بنایا، اس کا نام فرنٹیئر بریگیڈ رکھا اور اس سے وہی کام لیا جو سکھ حکمران لیتے رہے تھے.... برطانیہ کی یہ سکھ آرمی کیا تھی؟.... یہ رنجیت سنگھ کی خالصہ آرمی ہی کا تسلسل تو تھا.... اس سکے کا دوسرا رخ ہی تو تھا!

طالبان لاکھ غارت گر سہی ،مگر وہ سکھ فوج سے زیادہ دہشت گرد اور مسلم کش نہیں ہو سکتے.... ان سے مذاکرات کرنے میں کوئی ہرج نہیں،لیکن مذاکرات کے اس کھیل کے ہاف ٹائم میں پاکستان کی انتظامیہ کو اپنے سٹاک ٹیکنگ آنی چاہئے اور جب میچ ختم ہو اور ریفری سیٹی بجائے کہ وقت ختم ہو گیا تو اس بات کا از بس دھیان رکھا جائے کہ یہ میچ سات ایک یا گیارہ دو سے نہ جیتا جائے ،بلکہ کوشش کی جائے کہ فتح کا تناسب چھ پانچ یا پانچ چا ررہے، لیکن ڈرا(Draw) ہر گز نہ ہو۔  ٭

مزید :

کالم -