بخششِ بے جا نہیں قبول مجھے!

بخششِ بے جا نہیں قبول مجھے!
بخششِ بے جا نہیں قبول مجھے!

  

میرے ایک دیرینہ کرم فرما اعجاز حفیظ خاں اپنے مشہور زمانہ کالم ”دریدہ دل“ سمیت روزنامہ ”ایکسپریس“ سے ہجرت کرکے ”جہانِ پاکستان“ میں خیمہ زن ہیں۔ ان کے کالم ”دریدہ دل“ کو مَیں نے ”مشہور زمانہ“ اس لئے قرار دیا ہے کہ ان کے ہر کالم میں کم از کم پانچ چھ مشہور اشعار ضرور ملتے ہیں۔ ان کے استعمال کا مناسب موقع محل ہو نہ ہو، مگر قاری کو اچھے اشعار پڑھنے کو ضرور مل جاتے ہیں۔ ابھی تک اعجاز حفیظ خاں اپنے کالم کے ذریعے میری مرتب کردہ کتاب ”اردو کے ناقابلِ فراموش اشعار“ اور ایسی ہی بعض دیگر کتب ساری کی ساری اپنے قارئین کو منتقل کرچکے ہیں۔ جو شخص کتاب خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ ”دریدہ دل“ کو پڑھ لے۔

روزنامہ ”جہانِ پاکستان“ کی اشاعت اتوار 26 مئی 2013ءمیں اعجاز حفیظ خاں اپنے متذکرہ کالم کے ذیلی عنوان: ”انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی ”نقاب کُشی“ کے تحت ایک بہت مشہور شعر اس خاکسار ناصر زیدی کو بخش دیا ہے۔ وہ شعر ہے:

رُکے تو چاند چلے تو گھٹاﺅں جیسا ہے

وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھاﺅں جیسا ہے

یہ شعر ہرگز میرا نہیں، بلکہ ناصر صدیقی (حال محمد ناصر) کا ہے۔ ناصر صدیقی کی اس مطلع والی مشہور ہو جانے والی غزل میں نے اپنے دور ِادارت میں ماہنامہ ”ادبِ لطیف“ لاہور کے خاص نمبر 1966ءمیں پہلی بار چھاپی تھی۔ یہ غزل اتفاق سے بے حد مشہور ہوگئی اور ناصر صدیقی پاکستان ٹیلیویژن پہنچ گئے، جہاں ان سے گیت لکھوائے جانے لگے۔ وہاں اس مشہور شعر کے خالق:

افلاس نے بچوں کو بھی سنجیدگی بخشی

سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

قمر صدیقی سکرپٹ اسسٹنٹ تھے اور قمر صدیقی کے بڑے بھائی ناصر صدیقی ایک بہت بڑے افسر تھے۔ اگرچہ وہ شاعر نہ تھے، مگر ایک نیام میں جیسے دو تلواریں نہیں سما سکتیں، پی ٹی وی میں ایک ہی نام کے شاعر اور افسر یعنی دو عدد ناصر صدیقی کیسے سماتے؟ چنانچہ شاعر ناصر صدیقی نے اپنا نام محمد ناصر کرلیا اور اس نام سے ٹی وی کے لئے لاتعداد عمدہ گیت لکھے۔ آج کل یہ محمد ناصر سابق ناصر صدیقی کہاں ہیں؟ نہیں معلوم ،مگر ان کی غزل کا مذکورہ بالا مطلع:

رُکے تو چاند چلے گھٹاﺅں جیسا ہے

وہ شخص دھوپ میں دیکھو تو چھاﺅں جیسا ہے

اور مقطع بھی بہت مشہور ہے:

وہ جس کی سادہ نگاہی پہ مر مٹے ناصر!

غرورِ حسن میں فرماں رواﺅں جیسا ہے

ایک اور کتاب زیرِ مطالعہ ہے،”نواز شریف ....قائدِ حزبِ اختلاف کی سیاست“.... مصنف یا مو¿لف ہیں: محمد فاروق قریشی۔

کتاب مذکورہ کے صفحہ 336 پر فاضل مصنف نے ایک بہت مشہور شعر اس طرح بغیر شاعر کے نام کے درج کر رکھا ہے:

مَیں آج زد پہ اگر ہُوں تو خوش گمان نہ ہو!

چراغ سب کے بجھیں گے ہَوا کسی کے ساتھ نہیں

جبکہ دوسرے مصرعے میں ”ہَوا کسی کے ساتھ نہیں“ کی بجائے ”ہَوا کسی کی نہیں“ ہونا چاہئے تھا۔ احمد فراز کا یہ شعر درست شکل میں اس طرح ہے:

مَیں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہَوا کسی کی نہیں

اس کتاب کے صفحہ 374 پر ایک شعر اس طرح تمہیدی جملے کے ساتھ درج ہے کہ: حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:

طہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا

کُرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے

جبکہ حضرت علامہ اقبالؒ کا محولا بالا شعر اس بگڑی ہوئی شکل میں ہرگز نہیں، درست یوں ہے:

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا

شاید کہ کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے

ممتازکالم نویس حسن نثار ہِر پھر کر واپس ”جنگ“ میں آچکے ہیں اور لفظوں کے گولے بدستور برسا رہے ہیں۔

اتوار 28 اپریل 2013ءکے کالم ”چوراہے“ کے ذیلی عنوان ”المیہ اور طربیہ انتخابی اشتہارات“ کے تحت مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا ایک مشہورِ زمانہ شعر موصوف نے اس طرح رقم کیا ہے:

الٹنا ، پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ

جبکہ علامہ نے پہلے مصرع میں ”الٹنا پلٹنا“ ہرگز نہیں کہا تھا۔ ان کا اس اُلٹ پلٹ سے کوئی سروکار نہ تھا ،جو حسن نثار نے دکھائی ہے۔ علامہ کا اصل صحیح شعر اس طرح ہے:

جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

روزنامہ”جنگ“ لاہور کی اشاعت جمعرات9 مئی2013ءمیں صفحہ 5 پر ارباب محمد طارق (لنڈی ارباب پشاور) نے اشتہار کی صورت میں ایک مخلصانہ اپیل چھپوائی ہے، جس میں ایک بہت مشہور شعرجلی حروف میں علامہ اقبالؒ کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے:

گرتے شہسوار ہی میدانِ جنگ میں

وہ طفل کیا گریں گے جو گھٹنوں کے بَل چلے

جبکہ یہ شعر ہرگز علامہ اقبالؒ کا نہیں ہے اور متذکرہ شکل میں درست بھی نہیں ہے ،بلکہ ”بحرِ رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے“ والے عظیم کا ہے اور صحیح اس طرح ہے۔ یہ شعر صحیح ٹھیک ہے:

گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں

وہ طفلِ کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

اور کالم کے آخر میں خالد رومی کا راولپنڈی سے ایک SMS لکھتے ہیں۔

سہ ماہی ”نالہ¿ دل“ بھیرہ میں آپ کا کلام پڑھا۔ چُنیدہ اشعار پر داد حاضر ہے:

آپ مائل بہ کرم ہیں تو ذرا سوچ کے ہوں

اس میں خود آپ کا نقصان بھی ہوسکتا ہے

ہے کٹھن زیست کی تنہائی کا پُر پیچ سفر

آپ ہوں ساتھ تو آسان بھی ہوسکتا ہے

مزید :

کالم -