ڈرون حملے .... اوباما اور نواز شریف

ڈرون حملے .... اوباما اور نواز شریف
ڈرون حملے .... اوباما اور نواز شریف

  

نواز شریف نے انتخابات جیتنے کے بعد جب امریکہ کو ڈرون حملے بند کرنے پر آمادہ کرنے کی بات کی تو دوسرے ہی روز صدر اوباما کا ایک بیان جلی سرخیوں میں سامنے آگیا کہ امریکہ ڈرون حملے جاری رکھے گا“.... پاکستان میں بعض حلقوں نے اسے اس طرح لیا، گویا امریکی صدر نے پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کو جواب دیا ہے کہ ڈرون حملے بند نہیں ہوں گے۔ میاں نواز شریف نے جو بیان دیا، وہ پاکستان کے عوام کے جذبات کا اظہار ہے، اس کے لئے امریکی صدر سے کسی پیشگی اجازت کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، نہ ہی یہ ضروری ہے کہ صدر اوباما ضرور اس سے اتفاق کریں گے۔ صدر اوباما کا یہ بیان نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی واشنگٹن میں ایک تقریر کی شکل میں سامنے آیا۔ انہوں نے یہ بیان پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم کے بیان کے جواب میں جاری نہیں کیا۔ اس لئے نواز شریف دشمنی میں اندھے تجزیہ نگاروں کی اچھل کود اور یہ باور کرانا کہ صدر اوباما نے نواز سریف کو ”شٹ اپ“ کال دے دی ہے، سرا سر غلط اور خبثِ باطن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

صدر اوباما پہلے شخص نہیں ہیں ،جنہوں نے ان ڈرون حملوں کو قانونی قرار دیا ہو۔ 25مارچ 2010ءکو امریکی وزارت خارجہ کے لیگل ایڈوائزر ہیرلڈکوہ نے کہا تھا کہ ڈرون حملے اور لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ قانونی ہے، کیونکہ یہ جنگ ہے اور جنگ میں ایسا کرنا خلافِ قانون نہیں ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل مارک ہولڈر نے 15مارچ 2012ءمیں اس میں مزید اضافہ کیا اور کہا کہ یہ جنگ ہے اور اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ سے امریکی شہریوں کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔ سی آئی اے کے قانونی مشیر سٹیفن بریسٹن اور جان بریمن بھی وقتاً فوقتاً یہی کہتے چلے آ رہے ہیں۔ پینٹاگان کے قانونی امور کے مشیر جیہ جانس نے 2012ءکے اواخر میں لندن میں ایک کانفرنس میں ان حملوں کو قانونی قرار دیا تھا ،لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ یہ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتے۔

دراصل دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جب بُش انتظامیہ نے شروع کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہیں،یہ گلوبل وار ہے اور اس کے اختتام کا کوئی تعین نہیں ہے۔ لامحدود مدت تک جاری رہنے والی ہے۔ بُش انتظامیہ نے ایک طرف تو اس جنگ کی وسعت کو لامحدود اور مدت کو نامعلوم رکھا، دوسرے انہوں نے اس جنگ کے سلسلے میں زیادہ تر امور کو خفیہ رکھنے کا اہتمام بھی کیا، جبکہ اس نام نہاد جنگ کے بارے میں عوام کو مسلسل اندھیرے میں رکھا گیا۔ حق معلومات کے قانون کے تحت بھی بعض معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرز عمل کے رد عمل میں معلومات ”وکی لیکس“ کو فراہم کی گئیں۔ صدر اوباما کی اس تقریر کو دیکھا جائے تو یہ ایک طرح سے امید افزا ہے۔ اکانومسٹ کے مبصر کے مطابق بعض تقریروں میں خلل ڈالنے والے مقرر کی مدد کرتے ہیں۔ جب صدر اوباما یہ تقریر کر رہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ وہی گھسی پٹی باتیں کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، یہ امریکی دفاع کا معاملہ ہے اور ڈرون حملے قطعی قانونی ہیں، ضرورت پڑی تو ان میں اضافہ کیا جائے گا۔ لیکن ”کوڈپنک“ کی کرتا دھرتا بنجامن نے صدر کی تقریر میں مداخلت کرکے انہیں مجبور کر دیا کہ صدر وہی کچھ بیان کریں جو ان کے بائیں بازو کے حامیوں کی خواہش ہے اور وہ اس کے لئے دباﺅ ڈالتے رہتے ہیں۔

صدر اوباما کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ان کے مخالفین ان کے رنگ کو ہی پسند نہیں کرتے۔ وہ ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور شاید میرے پاکستانی قارئین کے لئے یہ بات تعجب انگیز ہوگی کہ کچھ لابیاں اب بھی صدر اوباما کو صدارت سے ہٹانے کی تحریک چلاتی رہتی ہیں۔ ری پبلیکن انہیں طعنہ دیتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں، بالخصوص مسلمان انتہا پسندوں کے لئے ”ایکسٹرا سافٹ“ ہیں، پھر انتہا پسند ری پبلیکن گورے اس الزام کے تانے بانے صدر اوباما کے مسلمان ہونے سے ملانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ صدر اوباما نے گوانتانامو کو بند کرنے یا قیدیوں کو منتقل کرنے کے لئے اپنی سی کوششیں کیں، لیکن ری پبلیکن نے انہیں ناکام بنا دیا۔ صدر اوباما کے 2009ءکے ان قیدیوں کو ان کے ملکوں میں منتقل کرنے کے احکامات کو کانگریس نے اس مقصد کے لئے فنڈز جاری نہ کرکے ناکام بنا دیا۔ صدر اوباما کی طبعی مجبوری ان کے آڑے آتی رہی۔ کسی گورے صدر کی طرح وہ ہر رکاوٹ دور کر کے اپنے خصوصی اختیارات استعمال نہ کرسکے۔

صدر اوباما کی اسی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایم ایس این بی سی کی ریچل کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے لئے ”Soft“ کا طعنہ مسئلہ بن گیا ہے، لیکن اسے کوئی مسئلہ ہونا نہیں چاہیے تھا۔ اس نے دہشت گردی کی حالیہ تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ 1996ءمیں اسامہ بن لادن نے دھمکی دی تھی کہ سعودی سرزمین سے امریکی اڈے ختم کئے جائیں۔ یہ اڈے مکہ اور مدینہ میں تھے۔ اسامہ بن لادن نے ان اڈوں کو جواز بنا کر امریکہ کے خلاف جدوجہد کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ 1998ءمیں اسامہ بن لادن نے ایک اور اعلان جاری کیا۔ ان اعلانات کو بعض حلقوں نے فتاویٰ کا نام بھی دیا۔ بہرحال اس میں بھی مکہ اور مدنی ارض مقدس پر امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا، البتہ اس اعلان میں اضافہ یہ کیا گیا تھا کہ امریکی فوجیوں اور غیر فوجیوں کو نشانہ بنایا جائے اور سعودی حکمرانوں کی حکومت ختم کی جائے۔ اس کے بعد 2001ءمیں 9/11 کا واقعہ ہوگیا۔

 ریچل کے مطابق ہم اس کا تذکرہ نہیں کرتے یا دبے لفظوں میں کرتے ہیں کہ 9/11کے ساتھ ہی ہم نے عراق پر حملہ کر دیا، جس کا 9/11سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن سعودی عرب سے ہم نے نہایت خاموشی کے ساتھ فوجی اڈے ختم کر دیئے۔ دوسرے روز صدر بُش نے قوم کو ”خوشخبری“ سنائی۔ عراق میں ہمارا مشن کامیاب ہوگیا۔ ریچل کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ لبنان میں بین الاقوامی امن دستے تعینات تھے۔ لبنانیوں نے 1983ءمیں بیروت ائیر پورٹ پر خود کش ٹرک حملہ کیا۔ اس کے چھ ماہ بعد امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا، جس میں بہت سی اموات ہوئیں، جن میں امریکیوں کے علاوہ فرانسیسی بھی تھے۔ لبنانیوں کا مطالبہ تھا کہ امن دستے لبنان سے نکال لئے جائیں۔ پھر صدر ریگن نے لبنان سے امن دستے واپس بلانے کا اعلان کر دیا اور کہہ دیا کہ ہم نے لبنان کے بارے میں پالیسی تبدیل کر دی ہے۔ ریچل کا کہنا ہے کہ اسے کسی نے Softnessیا Surrender نہیں کہا تھا۔

ریچل اپنے شو میں کہتی ہے کہ ہم دہشت گردوں کے بارے میں بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ جیسے اب انہیں نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے ساتھ کئی بے گناہ مارے جا رہے ہیں۔ ہم ان پر حملے کرسکتے ہیں۔ ان کے ذرائع کو محدود کر سکتے ہیں۔ ان کی صفوں میں اپنے جاسوس داخل کرسکتے ہیں، جیساکہ ہم کرتے رہے ہیں۔ غرض کئی اقدامات کئے جاسکتے ہیں، لیکن کوئی ایک اقدام بھی اس امر کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ دہشت گردی کے اسباب بہت پیچیدہ اور بے شمار عوامل کا نتیجہ ہیں، اگر یہ اس قدر سادہ مسئلہ ہوتا تو اسامہ بن لادن کا مطالبہ مکہ اور مدینہ سے امریکی اڈوں کے خاتمے کے بعد حل ہو جاتا۔ آپ ٹیررازم کے خلاف سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔ ان کے مطالبات تسلیم کرسکتے ہیں، غلطیوں کو درست بھی کرسکتے ہیں اور کاﺅنٹر ٹیررازم کی پالیسی بھی اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اگر سو فیصد نہیں تو بھی ایک خاص حد تک ”کاﺅنٹر ٹیررازم“ دہشت گردی میں اضافے کا سبب ہی بنتا ہے۔ ریچل کی دلیل یہ ہے کہ یہ کسی خاص طبقے اور مذہب سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ نہ یہ 9/11کے بعد سامنے آیا۔ ٹیررازم اس سے پہلے بھی موجود تھا اور خود ہمارے اندر امریکہ میں بھی موجود رہا ہے اور اب بھی موجود ہے۔ وہ اس کے لئے اوکلا ہامو سٹی کے دھماکہ ، نورٹ ہڈ، لاکربی اور سکھوں کے گردوارے پر حملے کے حوالے دیتی ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے اب بھی صدر اوباما پر اس سلسلے میں شدید تنقید کر رہے ہیں۔ کوڈ پنک کی بنجمن کی طرف سے صدارتی تقریر میں مداخلت کو بہت شہرت ملی ہے اور ان کی مداخلت کی وجہ سے صدر اوباما نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں نظر ثانی کر رہے ہیں۔ مَیں فوج کے استعمال کے حکم نامے پر دستخط نہیں کرں گا۔ اس صدارتی اختیار کو محدود کرکے بالکل ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ”وار زون“ سے دور واقعہ لوگوں کو ڈرون حملوں سے مار رہے ہیں۔ عراق کی جنگ ختم ہوچکی ہے۔ افغانستان کی جنگ ختم ہونے جا رہی ہے۔ افغانستان کی جنگ کے خاتمے کے بعد ڈرون حملے بہت محدود ہو جائیں گے۔ گوانتانامو کے خاتمے کے لئے انہوں نے ایک افسر بکار خاص مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ جو ان قیدیوں کو دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے کے لئے ان ممالک سے بات چیت کرے گا اور ان قیدیوں کو امریکہ کے اندر ہی رکھا جاسکے گا۔ صدر اوباما کی تقریر کا یہ حصہ ایک تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔

ظاہر ہے کہ صدر اوباما ڈیفنس یونیورسٹی میں جنگ دہشت گردی کی جنگ اور ڈرون حملوں کے خاتمے کا اعلان کرنے تو نہیں آئے تھے۔ پھر ان کے ساتھ ان کی نفسیاتی کمزوری، یعنی Soft ہونے کا طعنہ تو ہمیشہ سے لگا ہوا ہے۔ ایسے میں انہوں نے یہ کہا کہ ہر جنگ کبھی نہ کبھی ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے یہاں ایک مقولہ بھی بیان کیا کہ ”کوئی قوم مسلسل حالت جنگ میں رہ کر اپنی آزادی کو برقرار نہیں رکھ سکتی“.... انہوں نے کہا کہ آئین کا تقاضا ہے کہ کوئی جنگ شروع ہو تو وہ ختم بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس جنگ کی حدود متعین کرنا ہوںگی، ورنہ یہ جنگ ہماری حدود متعین کر دے گی۔ پھر اپنی Softness کا تاثر دور کرنے کے لئے کہا کہ ہاں دہشت گردی جہاں بھی ہوئی، جب بھی ہوئی، ہم اس کا قلع قمع کریں گے، گویا جب بھی، جہاں بھی کی شکل میں ہم اس جنگ کو ہمیشہ جاری رکھیں گے اور اس میں ڈرون حملے بھی آتے ہیں۔ صدر اوباما کی یہ بات اس طرح کی تھی، جیسے کوئی یہ کہے کہ ہم برائی کے خلاف جنگ ہمیشہ جاری رکھیں گے۔

 اس طرح کہنے میں اور بُش چینی کی دہشت گردی کے خلاف گلوبل جنگ کے اعلان میں بہت فرق ہے۔ یار لوگوں نے اسی بات کو لے کر ڈرون حملے جاری رکھنے کا بیان بنا دیا۔ کوڈپنک کی میڈیا بنجمن اور امریکن سول لبرٹیز یونین جیسے حقوق انسانی کے ادارے اگرچہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ بنجمن ڈرون حملوں کے متاثرین کو ملنے یمن جا رہی ہیں۔ اے سی ایل یو کے ڈپٹی لیگل ڈائریکٹر جمیل جعفر نے ریچل کے شو میں کہا کہ صدر اوباما کی تقریر اچھی تھی۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا، جبکہ ڈرون حملوں کے خاتمے کے ارادے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈرون حملوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تھوڑے یعنی، جو (Less) بہرحال زیادہ (More) سے بہتر ہے، لیکن ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ صدر اوباما کا نواز شریف کے کسی بیان پر کوئی جواب نہیں آیا۔ پاکستان کے پاس ایسا بہت کچھ ہے کہ وہ ڈرون حملے بند کرا سکتا ہے، اگر تھوڑے ہوسکتے ہیں تو ختم بھی ہوسکتے ہیں اور امریکہ کا ماضی گواہ ہے کہ کبھی اسے کسی نے ”سرینڈر“ کا نام نہیں دیا۔ امریکی فوجیں عراق کی طرح افغانستان سے بھی کامیاب مشن کے بعد نکل رہی ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ کامیابی کے بعد ڈرون حملے بند کر دئیے گئے۔ ٭

مزید :

کالم -