نئے جمہوری دور کی شروعات

نئے جمہوری دور کی شروعات

  

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہاہے کہ نتخابی عمل پر دھاندلیوں کے الزامات کے باوجود انتخابات شفاف اور آزادانہ ہوئے، دھاندلیوں کی شکایات کی شرح بہت کم تھی، نگران وزیراعظم نے نئی قومی اسمبلی کا اجلاس یکم جون کو طلب کرنے کے لئے سمری صدرکو بھیج دی ہے۔ 5جون2013ءکو نگران حکومت سبکدوش ہو جائے گی۔ میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے، نگران حکومت اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہشمند نہیں۔ خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلیوں کے اجلاس آج29مئی کو ہوں گے اور پنجاب کا یکم جون کو ہو گا۔

تمام تر خطرات اور خدشات کے باوجود عام انتخابات مقررہ وقت پر ہو گئے، ان دھمکیوں کے باوجود کہ ووٹر ووٹ ڈالنے نہ جائیں، پورے ملک میں ووٹر اعتماد اور یقین کے ساتھ گھروں سے نکلے اور اپنے ووٹ کا حق بلاخوف استعمال کیا، یہی وجہ تھی کہ ٹرن آﺅٹ پہلے کئی انتخابات کی نسبت بہت زیادہ ہوگیا اور یہ54فیصد سے زیادہ رہا۔ عام انتخابات کے نتائج پر عمومی طور پر اظہار اعتماد کیا گیا، البتہ جہاں جہاں شکایات ملیں اُن کا ازالہ بھی ہوا، بعض حلقوں میں دوبارہ گنتی بھی ہوئی اور نتیجے کے طور پر ہارے ہوئے امیدوار جیت گئے۔ کراچی کے ایک قومی حلقے کے43پولنگ سٹیشنوں اور دو صوبائی حلقوں کے بعض پولنگ سٹیشنوں پر انتخاب ہوا اور یہاں پی ٹی آئی کا ایک قومی اور دو صوبائی امیدوار جیت گئے۔ پی ٹی آئی نے چار مزید حلقوں میں دوبارہ گنتی کے لئے دھرنے بھی دیئے، اِسی طرح سندھ میں نوبت ہڑتالوں تک بھی پہنچی، تاہم الیکشن کے متعلق جوبھی شکایات ہیں، اس کے لئے انتخابی ٹریبونل بن چکے ہیں، متاثرہ لوگ اپنی شکایات یہاں دائر کر سکتے ہیں اور وہاں سے ان کی شکایات کا ازالہ ہو سکتاہے، جن حلقوں میں کوئی شکایت نہیں ملی اُن کے نتیجے کا سرکاری اعلان کیا جا چکا ہے۔جیتی ہوئی نشستوںکی بنیادپر خواتین اور اقلیتوںکی نشستیں بھی پارٹیوںکو الاٹ ہوگئی ہیں۔

یکم جون کو نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس متوقع ہے۔ ارکان حلف اٹھائیں گے، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا، پھر قائد ایوان چُنا جائے گا اور یوں ایک دائرہ مکمل ہوگا، مسلم لیگ(ن) نے اکثریتی جماعت کی حیثیت سے میاں نواز شریف کو وزیراعظم نامزد کیا ہے اور توقع کے مطابق وہ5جون کو حلف اٹھائیں گے۔

پاکستان کی عمر اب65سال سے متجاوز ہے، بدقسمتی سے اس کے ابتدائی برسوں میں جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر نہ چڑھ سکی۔ بانی ¿ پاکستان حضرت قائداعظم ؒ جو ملک کے پہلے گورنر جنرل تھے، ایک سال بعد ہی انتقال کر گئے، اُن کے جانشینوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ آئین سازی کا کا م تیزی سے مکمل کرتے اور ملک جمہوری راستے پر چلنا شروع ہو جاتا، لیکن قائداعظم ؒ کے انتقال کے بعد ملت کو دوسرا حا دثہ لیاقت علی خان کی شہادت کی صورت میں برداشت کرنا پڑا، جنہوں نے بڑی کوشش سے قرارداد مقاصد منظور کرائی تھی، جس میں ملکی آئین کی نظریاتی بنیاد رکھ دی گئی تھی، لیکن اُن کی شہادت کے بعد سیاست دا نوں نے قومی مقاصد کو پس پشت ڈال کرذاتی مقاصد کو مقدم رکھ لیا، پہلے وہ چالاک بیورو کریسی کا آلہ کار بنے اور پھر فوج نے انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح نچانا شروع کر دیا۔1956ءکا آئین بنا تو قوم نے سکھ کا سانس لیا، اس کے تحت پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہونا تھا، لیکن 7اکتوبر 1958ءکو صدر سکندر مرزا نے آئین منسوخ کر دیا اور جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر حکومت کا منصوبہ بنایا جو20 روز بعد ہی ناکام ہو گیا۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اقتدار پر کلی طور پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے ملک میں صدارتی نظام رائج کیا۔ وہ سیاست دانوں کے بارے میں مخصوص نقطہ نظر رکھتے تھے اور عام لوگوں کو رائے دہی کے قابل نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ انہوں نے پوری قوم میں سے 80ہزار لوگ منتخب کئے، جنہیں بنیادی جمہوریتوں کے ممبر کہا جاتا ہے۔ یہ بی ڈی ممبر اسمبلیوں کے ارکان سے لے صدر مملکت تک کا انتخاب کرتے تھے۔ یوں انہوں نے بزعم خویش ایک ایسی جمہوریت متعارف کرائی، جس کے ارکان کو ”قابو“ میں ر کھا جا سکتا تھا، لیکن یہ ”کنٹرولڈ ڈیمو کریسی“ کام نہ آئی اور ایوب خان کی حکومت کو زوال آیا تو اُن کا پورا تام جھام بھی لپیٹ دیا گیا۔

جنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے لئے بہترین جمہوری نظام لے کر آئے ہیں، جو پاکستانی قوم کے مزاج کے عین مطابق ہے لیکن بدقسمتی سے اُن کے لائے ہوئے نام نہاد جمہوری نظام نے ملک کے مشرقی حصے کے عوام کومایوس کرنا شروع کر دیا اور چند ہی سال بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اگرچہ اس عمل کا تیزی سے آغاز جنرل یحییٰ خان کے الیکشن کے نتائج تسلیم نہ کرنے سے ہوا، لیکن علیحدگی پسندی کے جوبیج ایوب خان کے دور میں بوئے جا چکے تھے، وہ جنرل یحییٰ کے دور میں برگ وبارلائے ۔جنرل یحییٰ خان نے 1970ءمیں جو الیکشن کرائے اُن کے نتائج ان کی توقع کے مطابق نہ نکلے تو انہوں نے صدر بنے رہنے کے لئے شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو سے الگ الگ سودے بازی شروع کی تو حالات قابو سے باہر ہوتے چلے گئے، بالاخر ہولناک خانہ جنگی ہوئی، بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے مکتی باہنی کا ساتھ دیا اور یوں ملک دولخت ہو گیا، باقی ماندہ حصے کو پاکستان کا نام دیا گیا۔ اسے ”نیا پاکستان“ بھی کہا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت شروع ہوئی، پہلے عبوری آئین اور پھر 73ءکا آئین نافذ ہوا جس کے بعد دوسرے عام انتخابات 1977ءمیں ہوئے، جن کے نتائج تسلیم نہ کئے گئے ،ملک گیر تحریک چلی اور ملک ایک بار پھر مارشل لاءکے حوالے ہو گیا۔ فوجی حکمرانوں کی اپنی سوچ ہوتی ہے، جنرل ایوب خان کو ”کنٹرولڈ ڈیمو کریسی“ پسند تھی۔ تو جنرل ضیاءالحق ”غیر جماعتی جمہوریت “کی محبت میں گرفتار تھے، چنانچہ انہوں نے 85ءمیں غیر جماعتی انتخابات کرائے، جن کے نتیجے میں جو اسمبلی بنی اس کا قائد ایوان محمد خان جونیجو کو بنایا گیا،( ترمیم شدہ آئین کے تحت اس وقت اسمبلی وزیر اعظم نہیں بناتی تھی صدر نامزد کرتا تھا۔)جنہوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو صدر سے پہلی ہی ملاقات میں ملک سے مارشل لاءاُٹھانے کا مطالبہ کر دیا اور غیر جماعتی اسمبلی میں مسلم لیگ بنا دی۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنی ہی تخلیق کردہ یہ اسمبلی 88ءمیں توڑ دی، پھر چند ماہ بعد ان کے طیارے کو حادثہ پیش آ گیا تو ان کے جانشین غلام اسحاق خان نے نئے الیکشن کرائے، جس کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو برسر اقتدار آئیں اُن کی حکومت ڈیڑھ سال رہی، صدر نے اسمبلی اور حکومت توڑ کر90ءمیں نئے الیکشن کرائے جس کے نتیجے میں نواز شریف پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے لیکن ان کی حکومت اور اسمبلی بھی غلام اسحاق نے توڑدی سپریم کورٹ نے اُن کے اس اقدام کو غلط قرار دیا اور ڈیڑھ ماہ کے اندر اسمبلی اور حکومت بحال کر دی، لیکن یہ بحال شدہ حکومت چل نہ سکی، کیونکہ تمام صوبائی حکومتیں صدر کے ساتھ مل کر اسے ناکام بنانے پر لگ گئیں، چنانچہ فوجی قیادت کی مداخلت سے وزیراعظم نواز شریف اور صدر اسحاق خان مستعفی ہوئے۔ 93ءمیں نئے الیکشن ہوئے، بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیر اعظم بنیں، اُن کی حکومت صدر فاروق لغاری نے ختم کر دی۔ 97ءمیں پھر الیکشن ہوئے، جس کے نتیجے میں نواز شریف دو تہائی سے زیادہ اکثریت لے کر کامیاب ہوئے، لیکن 99ءمیں جنرل پرویز مشرف نے اُن کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور اقتدار خود سنبھال لیا، سپریم کورٹ کے حکم پر جنرل پرویز مشرف نے 2002ءمیں الیکشن کرائے، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ق) برسر اقتدار آئی، جس کے دور میں تین وزرائے اعظم .... ظفر اللہ جمالی، چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز ....برسر اقتدار رہے۔ اس حکومت نے پاکستان میں پہلی بار اپنی مدت پوری کی اور پھر 2008ءمیں دوبارہ انتخابات ہوئے، جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی اور اتحادیوں کی حکومت قائم ہوئی۔ یہ دوسری حکومت تھی، جس نے اپنی مدت پوری کی، پھر نگران حکومت بنی، 11مئی کو عام انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن رہے ہیں اور پنجاب میں تیسری بار شہباز شریف وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں۔ یہی اعزاز سندھ میں سید قائم علی شاہ کو حاصل ہو رہا ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا میں گھاگ سیاست دانوں کی جگہ تحریک انصاف لینے جا رہی ہے، جو پہلی مرتبہ حکومت سازی کا تجربہ کرے گی۔

یہ پاکستان کی 65سالہ تاریخ کا مختصر ترین جائزہ ہے۔ ہم ہر اونچ نیچ سے گزر کر بالآخر ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے، جہاں توقع ہے کہ حکومتیں کسی دھماکے کے نتیجے میں نہیں، انتخابات کے نتیجے میں تبدیل ہوا کریں گی، پارلیمانی جمہوریت میں پانچ سال کے بعد انتخابات ہوتے ہیں، پہلے بھی کسی وقت انتخابات کرانا اور اسمبلی توڑنا وزیراعظم کا اختیار ہے اور دُنیا بھر میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ یکم جون سے جو نیا جمہوری دور شروع ہورہا ہے، اس سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، ملک بحرانوں کا شکار ہے خصوصاً معیشت دگرگوں ہے اور لوڈشیڈنگ نے اندھیرے اس محنتی قوم کا مقدر کر دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ چند روز بعد جو جمہوری سفر از سر نو شروع ہو رہا ہے وہ نئی کامیابیوں سے ہمکنار ہو اور قوم نئی بلندیوں پر پہنچے، ہم تاریخ سے سبق سیکھ کر آگے بڑھے تو بہت جلد کامیابی ہمارے قدم چومے گی، خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔     ٭

مزید :

اداریہ -