” نہیں۔ میاں صاحب ۔ہرگزنہیں “

” نہیں۔ میاں صاحب ۔ہرگزنہیں “
” نہیں۔ میاں صاحب ۔ہرگزنہیں “

  

 آہ ۔۔ میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کی تاریخ نہیں دے سکتے اور یہ توقع بھی نہ رکھی جائے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت آئے گی توبجلی بھی آئے گی ، حکومت بدلتے ہی فوراً بجلی کامسئلہ حل نہیں ہوسکتا، اب کوئی یہ نہ کہے کہ شیر بجلی کھا گیا بلکہ شیر بجلی لانے کی پوری کوشش کرے گا،اس کے لئے دن رات کام کیا جائے گا مگر اس حوالے سے منصوبے مکمل ہونے میں ڈیڑھ سے تین سال کا عرصہ لگے گا۔ نامزد وزیراعظم نے اس سے ملتی جلتی کچھ باتیں الحمرا ہال میںمسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی کی تھیں جس کے بعد امید کے چراغ کی لو دھیمی ہونے لگی تھی۔

میاں صاحب، یہ کالم سلطا ن راہی کا گنڈاسہ نہیں اور نہ ہی ملکہ جذبات بہار بیگم کے آنسو ہیں۔ دو جمع دو ، چار کی طرح سیدھی سیدھی باتیں ہیں۔ کوئی آپ سے یہ توقع کر بھی نہیں رہا کہ آپ اقتدار میں آتے ہی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دیں گے مگر یہ بھی توآپ نے ہی کہا تھا کہ پہلے سو دنوںمیں عوام کو فرق محسوس ہو گا ، اگر آپ رمضان المبارک تک لوڈ شیڈنگ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کی بجائے چھ،سات گھنٹے تک لے آئیں تو ہم اسے بھی مثبت سمت میں ایک قدم سمجھیں گے۔آپ نے فرمایا کہ بجلی کے منصوبے مکمل ہونے میں ڈیڑھ سے تین سال کا عرصہ درکار ہو گاتو آپ کے انتخابی وعدے، آپ کا منشور بھی یہی کہتا ہے کہ آپ دو سے تین سال میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کریں گے مگر آپ اس کی بجائے کوئی تاریخ نہ دینے پر زور دے کر مخالفین کو دعوت دے رہے ہیں کہ آپ کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی آپ کی ناکامی کا پروپیگنڈہ شروع کر دیں۔ میرے سامنے سات مارچ 2013ءکی سہ پہر انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے میڈیا کانفرنس سے آپ کے خطاب کا تحریری متن موجود ہے جس کے صفحہ نمبر نو پر آپ اپنے منشور کا پہلا نکتہ معیشت کی بحالی پیش کرتے ہیں اور صفحہ نمبر دس پر جاتے جاتے آپ فرماتے ہیں کہ ملک میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے صنعتی شعبے اور عوام کی کمر توڑ دی ہے، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ بحران ناقابل علاج نہیں بلکہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، مسلم لیگ (ن) توانائی کے مربوط پلان کے ذریعہ گردشی قرضوں کی ادائیگی، سندھ میں تھر کے کوئلوں کے ذخیروں کی ترقی، آبی بجلی کے منصوبوں اور شمسی، ہوا اور بائیو ماس توانائی کے ذریعہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، بجلی اور گیس کی چوری پر قابو پایا جائے گا اور تیل و گیس کے ذخائر کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ آپ نے کہا ” ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے کہ دوبرسوں میں توانائی کے بحران پر بڑی حد تک قابو پالیا جائے گا“ اور میری درخواست ہے کہ اپنی محنت اور کمٹ منٹ کو شامل رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر اس بھروسے کوبرقرار رکھاجائے۔

چلیں ، تقریر کے متن کو چھوڑیں، میں آپ کے منشور کی کتاب کھول لیتا ہوں جس کا دوسرا باب ہی ” توانائی کی مسلسل اور مناسب قیمت پر فراہمی “ہے،اس کے سولہ نکات تفصیل سے بحران کے حل کی راہ دکھاتے ہیںمگراس باب کاحاصل کلام، آخری سے پہلا پیرا گراف نقل کرتا ہوں جو صفحہ نمبر اکتیس پر موجود ہے، ” ہم انشاءاللہ گردشی قرضے اور بجلی کے پیداواری اور ترسیلی نظام کے ذریعے ہونے والے ضیاع کو کم کرکے تین سال میں پوری لوڈشیڈنگ ختم کر دیں گے اور پانچ سال کے اندر بجلی کی تھوک کی منڈی قائم ہوجائے گی اور بجلی کے صارف اپنی مرضی کی پیداواری کمپنی سے بجلی خرید سکیں گے۔ بجلی کے شعبے میں مقابلے کی فضا پیدا ہونے سے بجلی کی قیمتیں اس طرح کم ہونا شروع ہوجائیں گی جس طرح موبائل فون اور موبائل سروس کی قیمتوں اور وصولیوں میں انتہائی تیزی سے کمی آئی ہے جس سے سرکاری خزانے پر بوجھ بھی کم ہوجائے گا“۔ اس کے بعد اختتامی پیراگراف کا آخری فقرہ ہے، ” ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے اگلے پانچ سال کے دوران دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے کم از کم دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جس سے معاشی ترقی میں خاصی تیزی آئے گی“۔

میاں صاحب ! لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سہاناخواب آپ کاہی دکھایا ہوا ہے ۔ آپ ہمیں اس مالک کی طرح کوئی تاریخ دینے سے انکار نہیں کر سکتے جس نے بہت سارے لوگوں سے قرض لے رکھا تھا مگر واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دیتا تھا۔ قرض دینے والے گھر کا دروازہ توڑنے لگے تو ملازم نے تقاضا کرنے والوں سے جل کے کہہ دیا کہ یہ ادھارتو آپ کوقیامت کے روز ہی واپس ملے گا، نوکر واپس اندر آیا تو مالک نے اسے ڈانٹننا شروع کر دیا کہ تمہیں تاریخ دینے کو کس نے کہا تھا ۔ میاں صاحب !وہ لوگ جنہوں نے آپ کو لاکھوں ، کروڑوں ووٹوں سے نوازکے آپ کا مان رکھا ، آپ نے کہا تھا ،دیکھو، مجھے پورا مینڈیٹ دینا، کسی کا محتاج نہ کرنا ،اب وہ پورا مینڈیٹ دینے کے بعد وعدے سے پھرنے نہیں دیں گے، آپ کو یہ کہنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی کوئی تاریخ ہی نہیں ہے۔ آپ کوئی نہ کوئی ڈیڈ لائن تو مقرر کریں، چاہے وہ قیامت کی ہی کیوں نہ ہوتاکہ پھر ہم بھی کہہ سکیں” ہم تیرا انتظار کریں گے قیامت تک، خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے“۔

سات مارچ کوانتخابی منشور پیش کرتے ہوئے میڈیا کانفرنس سے آپ کے خطاب کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے ، ” مسلم لیگ نون منشور کو ایک رسمی انتخابی مشق کی بجائے مقدس دستاویز خیال کرتی ہے ۔ ہم اسے اپنے عوام سے کیا گیا مقدس عہد نامہ سمجھتے ہیں اور صرف وہی باتیں کہنا چاہتے ہیں جن کو عملی جامہ پہنانے کے ٹھوس امکانات موجود ہوں۔ پہلے دونوں ادوار حکومت میں بھی ہم نے عوام سے جو وعدہ کیا، اسے پورا کرنے کی سرتوڑ کوشش کی اور اللہ کے فضل و کرم سے بڑی حد تک کامیاب رہے“،اسی طرح منشو رکے شروع میں آپ کاتحریری پیغام ہمیں بتاتا ہے ، ” اس منشور میں نہ تو کوئی جادوئی فارمولہ ہے اورنہ لفاظی کے خوشنما پھول ہیں، یہ راتوں رات تبدیلی کا دلکش وعدہ بھی نہیں کرتا“ ، اور میاں صاحب قوم کے کروڑوں لوگوں نے آپ کی بات پر یقین کرلیا کیونکہ آپ دونوں بھائیوں نے ایٹمی دھماکوں ہی نہیں موٹر وے ، کوسٹل ہائی وے، گوادر پورٹ اور میٹرو کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ڈینگی پر قابو پا کے اپنا اعتماد بنا لیا تھا، اب بھی ہم جادوئی فارمولوں کی بات نہیں کرتے، راتوں رات تبدیلی کاجھوٹا وعدہ نہیں چاہتے مگر اتنا ضرور چاہتے ہیںکہ آپ دو سے تین سال میں لوڈ شیڈنگ مکمل ختم کرنے کے اپنے وعدے کو یاد رکھیں جو ایک مقدس دستاویز میں درج مقدس عہد کی حیثیت رکھتا ہے ، آپ اس کا ذکربھی کرتے رہیں کہ اس سے جہاں غریب عوام کے دل کو سہارا ملے گا وہاں آپ کا بہت محنت سے بنایا ہوا اعتماد کا محل بھی قائم رہے گا۔آپ کو شائد یاد بھی نہ ہو مگر پاکستان کے غریب عوام کو یاد ہے کہ آپ نے ہی بطور وزیراعظم بجلی کے بلوں پر ایڈیشنل سرچارج ختم کرتے ہوئے نرخوں میں سولہ سے پچیس فیصد تک کمی کی تھی، وہ جذبہ آج برقرار ہی نہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔

دل تو چاہتا ہے کہ آپ کے منشور میں توانائی کی مسلسل اور مناسب قیمت پر فراہمی کے باب میں درج سولہ کے سولہ نکات پر بات کروں، مگر یہ تحریر تو ایک تھیسز بن جائے گی مگران سولہ قیمتی نکات سے پہلے لکھا ہوا ایک فقرہ ضرور بیان کرنا چاہوں گا ، ” مسلم لیگ نون اچھی طرح سمجھتی ہے کہ محض چھ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی دور کرنا زیادہ مشکل کام نہیں“ اور میرا سوال ہے کہ جو کام آپ منشو ر پیش کرتے ہوئے مشکل نہیں سمجھتے تھے،آج کیوں مشکل لگنے لگا ہے۔ مجھے ایمانداری کے ساتھ کہنے دیجئے کہ آپ کی تقاریر کا مکمل متن دیکھتا ہوں تو مجھے آپ کے وعدوں اور تقریروں میں کوئی بہت بڑا تضاد نظر نہیں آتا مگر یادرکھیے کہ آپ کے الفاظ ہمارے پاس قید ہیں،اب آپ عوام کی یادداشت گم کروا دیںیامیرے میز کی دراز سے اپنی تقریر اور منشور کی کاپیاں زبردستی نکلوا لیں ورنہ دوسری صورت تو یہی ہے کہ میں اور میرے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں آپ کودو کروڑ 78 لاکھ 314 ووٹ دینے والے یہ کہنے کی اجازت نہیں دیں گے کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں ۔۔۔ نہیں ، میاں صاحب ، ہرگز نہیں !

مزید :

کالم -