میاں محمد نواز شریف کی قیادت تسلیم، گریزیا جماعتوں نے بھی راہنما مان لیا!

میاں محمد نواز شریف کی قیادت تسلیم، گریزیا جماعتوں نے بھی راہنما مان لیا!
میاں محمد نواز شریف کی قیادت تسلیم، گریزیا جماعتوں نے بھی راہنما مان لیا!

  

عام انتخاب میں عوامی فیصلے کے اثرات مسلسل مرتب ہو رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی واحد جماعتی اکثریت اور اقتدار یقینی ہونے کے ساتھ ہی منتخب اراکین جوق در جوق رجوع کرنے لگے نہ صرف آزاد اراکین کی بھاری تعداد نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی بلکہ بعض چھوٹی جماعتوں نے اس بڑی جماعت میں ضم ہونا بھی شروع کر دیا اور دریا سمندر میں اترنے لگے اور تو اور ماضی میں مسلم لیگیوں کے اعتماد یا ایک مسلم لیگ کا ناممکن خواب بھی تعبیر پکڑنے لگا اور جو جماعتیں میاں محمد نواز شریف کی قیادت سے گریز پا تھیں وہ بھی اب ان کی رہنمائی کو تسلیم کرنے لگی ہیں۔

ہمیں یاد ہے کہ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک اور 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات کے بعد جس طرح جونیجو لیگ اور نواز لگیں بنیں اور پیر علی مردان شاہ پیر پگارو(ہفتم) نے اپنی فنکشنل مسلم لیگ کا احیاءکیا تو پھر مسلم لیگیوں کے اتحاد کا منشور ہوا، مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل رانا محمد اشرف(مرحوم) کی رہنمائی میں کمیٹی بنی لیکن فیصلہ نہ ہو سکا حالانکہ پیر علی مردا شاہ پیر پگارو نے ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان کیا کہ مسلم لیگ کی جنرل کونسل کا اجلاس بلا لیا جائے وہ خود(پیر صاحب) امیدوار نہیں ہوں گے جنرل کونسل جسے صدر منتخب کر لے سب اسے تسلیم کر لیں۔ لیکن یہ تجویز نہ مانی گئی اور جنرل کونسل ہی کا فیصلہ نہ ہو پایا، درحقیقت پیر پگارو بڑی شخصیت تھے ان کے لئے میاں نواز شریف کو صدر ماننا مشکل امر تھا جبکہ میاں محمد نواز شریف کو یہ خدشہ تھا کہ جنرل کونسل پیر پگارو کو صدر چن سکتی ہے۔ یوں یہ بیل منڈھے نہ چڑھی اور پھر جنرل(ر) مشرف نے شب خون مار کر سب کچھ تلپٹ کر دیا اور ایک اور مسلم لیگ کر لی۔ جو آج بھی (ق) کے نام سے ہے۔

مئی11کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے جو معرکہ مارا اس سے میاں محمد نواز شریف کی حیثیت مسلمہ ہو گئی اب صورت یہ ہے کہ تانگے کی سواریوں یا ذات تک محدود مسلم لیگیوں نے غیر مشروط طور پر میاں نواز شریف کی قیادت تسلیم کر لی۔ حتیٰ کہ مسلم لیگ فنکشنل کے موجودہ سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پگارو ہشتم نے بھی اپنی جماعت کو تو فی الحال قائم رکھا لیکن اپنے عمل سے میاں محمد نواز شریف کی قیادت پر سرتسلیم خم کر دیا۔

مسلم لیگ ن کے قائدین میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے اس مرتبہ پتے سنبھال کر کھیلے ہیں وہ چھوٹی جماعتوں کو غیر مشروط طور پر مسلم لیگ میں قبول کر کے جماعتی نظم و نسق کا پابند بنا رہے ہیں اور یہی فارمولہ مسلم لیگیوں کے اتحاد کا بھی ہو سکتا ہے اگر پیر پگارو(ہشتم) مسلم لیگیوں کے اتحاد کی بات کرتے ہیں اور مسلم لیگیں اکٹھی ہوتی ہیں تو آج کے زمینی حقائق کے مطابق سربراہ میاں محمد نواز شریف ہی ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب پیر صبغت اللہ راشدی کوئی بڑا اور اہم کردار ادا کرینگے؟ کیا وہ ایک ایک فرد والی جماعتوں کو ضم کرانے کے علاوہ مسلم لیگ ق کے قائدین کو شمولیت پر آمادہ کر لیں گے؟ اور کیا میاں محمد نواز شریف ان کے ایماءپر چودھریوں کو قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے؟ اس کا علم تو آگے چل کر ہو گا بہرحال پیر صبغت اللہ راشدی مکمل تعاون پر آمادہ اور رضا مند ہو چکے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ق کے مرکزی صدر چودھری شجاعت تو پہلے بھی ہاتھ ملانے کو تیار تھے حتیٰ کہ وہ تعزیت کے لئے بھی چلے گئے تھے مسئلہ چودھری پرویز الٰہی کا رہا، وہ بھی شاید موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک برداشت کا مظاہرہ نہ کر سکیں کہ حال ہی میں ان کی جماعت کے اجلاس میں یک زبان پیپلزپارٹی سے علیحدگی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس وقت عملی طور پر یہ ہو گیا کہ مسلم لیگ ق نے ایک آزاد حزب اختلاف کا اعلان کر دیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے لئے جو آصف زرداری کی مفاہمتی پالیسی پر معترض ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کہ اس سے پارٹی کو بہت زیادہ نقصان پہنچا یہ حضرات مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم سے مفاہمتی تعلق توڑنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز کر رہے ہیں کہ پارٹی کی تمام تنظیمیں توڑ دی جائیں اور تنظیم نو کر کے آنے والے حالات کا مقابلہ نئی تنظیم بنا کر کیا جائے، آنے والا وقت سخت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید :

تجزیہ -